ترکی میں دس برس قبل بغاوت کیسے ناکام ہوئی؟ چند حقائق

آج سے ٹھیک ایک دہائی قبل 15 جولائی 2016 کی رات ترکی کی جدید تاریخ کی ایک ایسی رات تھی، جس نے نہ صرف اس ملک کے سیاسی مستقبل بلکہ پورے خطے کی جغرافیائی اور تزویراتی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

یہ محض ایک فوجی بغاوت نہیں تھی، نہ ہی اقتدار کی روایتی کشمکش کا کوئی معمولی واقعہ، بلکہ یہ ایک ایسے ریاستی نظام پر حملہ تھا جس کا مقصد منتخب حکومت کا خاتمہ، آئینی اداروں کو مفلوج کرنا، عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنا اور ترکی کو ایک مرتبہ پھر فوجی سرپرستی کے دور میں دھکیل دینا تھا۔ اگر اس رات کے چند فیصلے، چند منٹ اور چند افراد مختلف انداز میں ردِعمل دیتے تو آج ترکی کی سیاسی تاریخ شاید بالکل مختلف ہوتی۔

دس برس بعد، جب اس رات سے متعلق نئے فوجی ریکارڈز، عدالتی دستاویزات، سرکاری تحقیقات اور شاہدین کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، تو یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ ناکام بغاوت صرف زمینی محاذ پر نہیں بلکہ فضا میں بھی لڑی گئی۔

مرمرہ کی فضائی حدود میں گزرنے والے چند فیصلہ کن منٹ، صدر رجب طیب اردوغان کے خصوصی طیارے کی خفیہ نقل و حرکت، وفادار فوجی افسران کی فوری حکمت عملی اور عوام کی بے مثال مزاحمت نے مل کر تاریخ کا رخ بدل دیا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی فوجی بغاوت کا فیصلہ صرف ٹینک، جنگی طیارے یا اسلحہ نہیں کرتے، اصل فیصلہ ریاستی اداروں کی وفاداری، سیاسی قیادت کا حوصلہ، ذرائع ابلاغ کی فعالیت اور عوام کے اعتماد سے ہوتا ہے۔

15 جولائی کی رات ترکی میں یہی چار عناصر ایک دوسرے سے اس انداز میں جڑ گئے کہ ایک منظم اور خطرناک سازش چند گھنٹوں میں پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی۔

ترکی کی تاریخ میں فوج کئی مرتبہ براہِ راست یا بالواسطہ سیاست میں مداخلت کر چکی تھی۔ 1960، 1971، 1980 اور 1997 کی مداخلتوں نے منتخب حکومتوں کو کمزور کیا اور فوج کو ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کیا جو خود کو ریاست کا آخری محافظ سمجھتا تھا۔

تاہم 2002 کے بعد، جب جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AK Party) اقتدار میں آئی تو سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں شروع ہوئیں۔ فوج کا سیاسی کردار محدود کیا گیا، سول بالادستی کو آئینی تقویت ملی اور یورپی یونین کے اصلاحاتی تقاضوں کے تحت ریاستی اداروں کی تشکیلِ نو کا عمل شروع ہوا۔

لیکن اسی دوران ایک اور خاموش قوت ریاستی اداروں کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔ فتح اللہ گولن کی سربراہی میں قائم تنظیم، جسے ترکی آج فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (FETÖ) قرار دیتا ہے، برسوں سے فوج، عدلیہ، پولیس، تعلیم، بیوروکریسی اور انٹیلی جنس سمیت ریاست کے حساس اداروں میں منظم انداز میں اثر پھیلا رہی تھی۔

ابتدا میں اس تنظیم کو ایک مذہبی و تعلیمی تحریک سمجھا جاتا رہا، لیکن بعد ازاں ترک ریاست کے مطابق اس نے ایک متوازی ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا، جس کا مقصد مناسب وقت پر ریاستی اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔

2013 کے بعد حکومت اور اس تنظیم کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ عدالتی تحقیقات، خفیہ ریکارڈنگز، پولیس کارروائیاں اور ریاستی اداروں کے اندر اختیارات کی کشمکش نے اس تصادم کو مزید گہرا کر دیا۔

حکومت نے ریاستی اداروں سے اس تنظیم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کیے جبکہ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آنے لگیں کہ تنظیم کے خفیہ نیٹ ورک اپنی بقا کے لیے آخری اور فیصلہ کن اقدام کی تیاری کر رہے ہیں۔

بعد میں سامنے آنے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اصل منصوبہ اگست 2016 میں عملی جامہ پہنانے کا تھا۔ اس وقت اعلیٰ فوجی شوریٰ (YAŞ) کا اجلاس ہونا تھا، جہاں متعدد اعلیٰ فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ اور نئی تقرریاں متوقع تھیں۔ بغاوت کے منصوبہ سازوں کو خدشہ تھا کہ اگر یہ اجلاس منعقد ہو گیا تو ان کے متعدد اہم ساتھی فوج سے نکال دیے جائیں گے چنانچہ انہوں نے اس سے پہلے ہی تختہ الٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

تاہم قسمت نے اس منصوبے کا رخ اس وقت بدل دیا جب 15 جولائی کی دوپہر تقریباً دو بجے استنبول آرمی ایوی ایشن سکول سے تعلق رکھنے والے ایک جونیئر فوجی افسر نے ترکی کی قومی انٹیلی جنس تنظیم (MIT) کو خبردار کیا کہ رات کے وقت متعدد فوجی ہیلی کاپٹر مخصوص اہداف پر کارروائی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔

 

اطلاع ملتے ہی اس وقت کے ایم آئی ٹی کے سربراہ حقان فیدان (موجودہ وزیر خارجہ) نے فوری طور پر چیف آف جنرل سٹاف جنرل خلوصی آقار سے رابطہ کیا اور بغیر کسی تاخیر کے مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز پہنچ گئے۔ اعلیٰ فوجی قیادت نے فوری طور پر آرمی ایوی ایشن سکول کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔

بعد ازاں سامنے آنے والی عدالتی کارروائیوں سے معلوم ہوا کہ چیف آف جنرل سٹاف کے دفتر میں تعینات بعض فوجی افسران (چیف آف جنرل سٹاف کے اے ڈی سی سمیت) بھی بغاوت کے منصوبہ سازوں سے وابستہ تھے۔

جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ ایم آئی ٹی کے سربراہ غیر معمولی ملاقات کے لیے ہیڈکوارٹرز پہنچ چکے ہیں، انہوں نے یہ اطلاع فوراً باغی گروہ تک پہنچا دی۔ اس انکشاف نے منصوبہ سازوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کا راز افشاں ہو چکا ہے اور اگر مزید انتظار کیا گیا تو گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

چنانچہ وہ منصوبہ جو رات تین بجے شروع ہونا تھا، اچانک کئی گھنٹے پہلے، یعنی رات تقریباً دس بجے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ جلد بازی ان کی سب سے بڑی غلطی بن گئی۔

اس رات باغیوں کو نہ مکمل تیاری کا موقع ملا، نہ تمام یونٹ ان کے ساتھ شامل ہو سکے، نہ ہی ملک بھر میں یکساں کارروائی ممکن ہو سکی۔ کئی فوجی یونٹ آخری لمحے تک اس سے لاعلم رہے، جبکہ متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے واضح طور پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

15جولائی 2016 کی شام تک بحیرۂ ایجیئن کے ساحل پر واقع مارماریس میں صدر رجب طیب اردوغان مختصر تعطیلات گزار رہے تھے۔ رات تقریباً دس بجے استنبول میں باسفورس اور فاتح سلطان محمد پلوں پر اچانک فوجی گاڑیاں، ٹینک اور مسلح دستے نمودار ہوئے۔ یورپ اور ایشیا کو ملانے والے یہ دونوں پل ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے۔ ابتدا میں شہریوں نے اسے معمول کی حفاظتی کارروائی سمجھا، لیکن چند ہی لمحوں میں صورت حال کی سنگینی واضح ہونے لگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ فوجی اقدام دراصل ایک نفسیاتی حکمتِ عملی بھی تھا۔ بغاوت کرنے والے چاہتے تھے کہ عوام اور ریاستی اداروں پر یہ تاثر قائم ہو جائے کہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور مزاحمت بے معنی ہے۔ اس رات یہ منصوبہ اس لیے ناکام ہوا کہ باغی پورے ملک پر بیک وقت اپنی گرفت قائم نہ کر سکے۔

دوسری طرف انقرہ میں بھی غیر معمولی نقل و حرکت شروع ہو چکی تھی۔ فوجی ہیلی کاپٹر نچلی پروازیں کر رہے تھے، جنگی طیارے دارالحکومت کی فضاؤں میں گرج رہے تھے، جبکہ اہم ریاستی اداروں کے گرد مسلح سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔

اس کے باوجود حکومت کی جانب سے چند گھنٹوں تک مکمل خاموشی رہی۔ یہ خاموشی بعد میں بعض حلقوں کی تنقید کا باعث بھی بنی، تاہم ریاستی ذرائع کے مطابق اس دوران وفادار فوجی قیادت، انٹیلی جنس ادارے اور حکومت جوابی حکمتِ عملی مرتب کرنے میں مصروف تھے۔

ادھر باغیوں نے اپنے منصوبے کے مطابق سب سے پہلے ریاست کے اعصابی مراکز کو مفلوج کرنے کی کوشش کی۔ انقرہ میں پولیس سپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹرز کو شدید فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں درجنوں اہلکار جان سے گئے۔ قومی انٹیلی جنس تنظیم (ایم آئی ٹی) کی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا تاکہ اطلاعات اور رابطے کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اسی دوران چیف آف جنرل سٹاف جنرل خلوصی آقار کو یرغمال بنا کر آقنجی ایئر بیس منتقل کر دیا گیا۔

عدالتی شہادتوں کے مطابق باغیوں نے جنرل آقار پر دباؤ ڈالا کہ وہ بغاوت کی حمایت کا اعلان کریں، نئی فوجی حکومت کی قیادت سنبھالیں اور یہاں تک کہ امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن سے ٹیلی فون پر بات کریں، لیکن جنرل آقار نے صاف انکار کر دیا۔

اسی دوران باغیوں نے ایک اور علامتی قدم اٹھایا۔ انہوں نے ترکی کے قومی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی پر قبضہ کر کے ایک سرکاری نیوز ریڈر سے بندوق کے سائے میں مارشل لا کا اعلامیہ پڑھوایا۔ اس اعلان میں کہا گیا کہ اقتدار فوج نے سنبھال لیا ہے، ملک میں کرفیو نافذ ہے اور تمام ریاستی اختیارات فوجی کونسل کے پاس منتقل ہو چکے ہیں۔

اگر یہ اعلان ماضی کی کسی فوجی بغاوت کی طرح واحد ذریعۂ اطلاعات ہوتا تو شاید اس کے نتائج مختلف ہوتے، لیکن 2016 کا ترکی 1980 والا نہیں تھا۔ نجی ٹیلی ویژن چینلز، سوشل میڈیا، سمارٹ فون اور انٹرنیٹ نے اطلاعات کی دنیا کو یکسر بدل دیا تھا۔ باغیوں نے ترک سیٹ (Türksat) کے سیٹلائٹ مرکز کو بھی نشانہ بنایا تاکہ نجی چینلز کی نشریات بند ہو جائیں، لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ادھر مارماریس میں صدر تک بغاوت کی اطلاعات مسلسل پہنچ رہی تھیں۔ حفاظتی حکام نے انہیں محفوظ مقام یا بیرون ملک منتقل ہونے سمیت مختلف تجاویز دیں۔ بعد میں سابق وزیرِ توانائی برات البیراک نے بتایا کہ بعض حلقوں نے حتیٰ کہ قریبی یونانی جزائر منتقل ہونے کا مشورہ بھی دیا، لیکن صدر نے یہ تجاویز مسترد کر دیں۔

اگر کسی منتخب صدر کا پہلا ردعمل ملک چھوڑ دینا ہوتا تو اس سے ریاستی مشینری اور عوام دونوں کے حوصلے متاثر ہو سکتے تھے۔ اردوغان نے اس کے برعکس ملک کے اندر رہ کر مزاحمت کی قیادت کرنے کا فیصلہ کیا۔

روانگی سے قبل انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی، اہلِ خانہ سے دعاؤں کی درخواست کی اور ’بسم اللہ‘ پڑھ کر ہیلی کاپٹر میں سوار ہو گئے۔ ہیلی کاپٹر کو ہدایت دی گئی کہ روشنی بند رکھی جائے، نچلی پرواز اختیار کی جائے اور حتی الامکان ریڈار کی نظروں سے بچتے ہوئے دالامان ہوائی اڈے تک پہنچا جائے۔

 

رات تقریباً گیارہ بج کر تئیس منٹ پر CNN Türk کی اینکر ہانده فرات موبائل فون کے ذریعے صدر اردوغان سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ سمارٹ فون کی اس مختصر سکرین پر ظاہر ہونے والی تصاویر چند ہی لمحوں میں پوری دنیا نے دیکھیں۔ صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں، ہوائی اڈوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر پہنچ کر حکومت کا دفاع کریں۔

یہ شاید دنیا کی پہلی بڑی عسکری کشمکش تھی جس میں ایک صدر نے روایتی سرکاری نشریات کے بجائے فیس ٹائم ایپ کے ذریعے قوم سے خطاب کیا۔ بظاہر یہ ایک معمولی تکنیکی رابطہ تھا، لیکن حقیقت میں اسی لمحے بغاوت کا نفسیاتی توازن بدلنا شروع ہو گیا۔

چند ہی منٹوں میں مساجد سے اذانیں بلند ہونے اور سوشل میڈیا پر پیغامات گردش کرنے لگے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن، عام شہری، نوجوان، خواتین اور بزرگ ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ حیران کن امر یہ تھا کہ حکومت کے سخت سیاسی مخالفین کی ایک بڑی تعداد نے بھی فوجی مداخلت کو مسترد کر دیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جہاں 15 جولائی کی رات ایک فوجی بغاوت سے بڑھ کر عوامی مزاحمت کی داستان میں تبدیل ہو گئی۔

ترکی کی تاریخ میں پہلی بار استنبول کے ہوائی اڈوں، پلوں اور مرکزی شاہراہوں پر عوام اور باغی فوجیوں کا براہِ راست آمنا سامنا شروع ہو گیا۔ بعض مقامات پر شہری خالی ہاتھ ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو گئے، کئی جگہ پولیس اور عوام نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے باغیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، جبکہ ٹی آر ٹی کی عمارت پر بھی شہریوں نے دھاوا بول کر باغیوں کا قبضہ ختم کروا دیا اور چند گھنٹوں کے اندر نشریات دوبارہ بحال ہو گئیں۔

اسی دوران ترک پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس جاری تھا۔ جنگی طیاروں نے قومی اسمبلی پر بمباری کی۔ یہ جدید ترک جمہوریت کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب عوام کے منتخب نمائندوں کے ایوان کو اپنے ہی ملک کے فوجی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ دھماکوں سے عمارت لرز رہی تھی، لیکن ارکانِ پارلیمنٹ نے اجلاس جاری رکھا۔ یہ منظر بھی اس رات کی علامت بن گیا۔

لیکن ان ہی لمحوں میں، فضاؤں میں بھی ایک خاموش مگر نہایت خطرناک معرکہ جاری تھا، جس کی مکمل حقیقت دس برس بعد سامنے آئی۔

مارماریس سے دالامان پہنچنے کے بعد صدر اردوغان اپنے اہلِ خانہ اور اس وقت کے وزیرِ توانائی برات البیراک کے ہمراہ خصوصی طیارے میں سوار ہوئے۔ اس وقت تک باغیوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ صدر مارماریس سے روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کا منصوبہ تھا کہ یا تو صدر کو فضا ہی میں روک لیا جائے، یا استنبول پہنچنے سے پہلے گرفتار کر لیا جائے۔

لیکن اسی مرحلے پر ریاست کے وفادار اہلکاروں نے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جس کی اہمیت کا اندازہ دس برس بعد سامنے آنے والے ریڈار ریکارڈز سے ہوا۔ ایسکی شہر کے مشترکہ فضائی آپریشن مرکز میں موجود افسران نے صدر کے خصوصی طیارے کو فوجی پرواز کی بجائے ایک معمول کی ترک ایئرلائن کی پرواز THY8456 کے طور پر ریڈار نظام پر ظاہر کیا۔

بظاہر یہ ایک تکنیکی تبدیلی تھی، مگر عملی طور پر یہی اقدام باغیوں کو دھوکا دینے میں کامیاب رہا۔ باغی ایف-16 طیارے یا ایک سرکاری طیارے کی تلاش میں تھے، جبکہ ان کے سامنے ایک عام مسافر پرواز کا کوڈ ظاہر ہو رہا تھا۔

اسی دوران استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے کی صورت حال مکمل طور پر محفوظ نہیں تھی، اس لیے صدر کے طیارے کو مرمرہ کے اوپر تقریباً چالیس منٹ تک فضائی چکر لگانے پڑے۔ بعد میں بحال ہونے والے ریڈار نقشوں نے اس Holding Pattern کو واضح طور پر ثابت کیا۔

عدالتی تحقیقات کے مطابق بالیکسیر کی نویں مین جیٹ بیس سے پرواز کرنے والے دو باغی ایف-16 جنگی طیارے، جن کے پائلٹ بعد ازاں عمر قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہوئے، اسی مقصد سے اڑے تھے کہ صدر کے طیارے کو تلاش کیا جا سکے۔ ریڈار ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک طیارہ استنبول کی سمت بڑھا، لیکن متوقع ہدف تک پہنچنے سے پہلے اچانک جنوب کی طرف مڑ گیا۔

بعد میں فضائی ماہرین نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگی طیارے کا ایندھن خطرناک حد تک کم ہو چکا تھا اور پائلٹ کو راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ یہی وہ چند منٹ تھے جنہیں آج ترکی کے عسکری ماہرین ’مرمرہ کے فیصلہ کن پانچ منٹ‘ قرار دیتے ہیں۔ اگر باغی ایف-16 چند منٹ پہلے اپنے ہدف تک پہنچ جاتا، یا اسے ایندھن حاصل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی، تو ممکن ہے اس رات کی داستان مختلف ہوتی۔ ان ہی لمحوں میں صدر کا طیارہ بحفاظت اتر گیا۔

جب پوری دنیا نے ٹیلی ویژن سکرینوں پر صدر کو ہوائی اڈے پر ہزاروں شہریوں کے درمیان کھڑا دیکھا، تو یہ منظر بذاتِ خود بغاوت کی ناکامی کا اعلان بن گیا۔

ادھر عوام، پولیس اور آئینی حکومت کے وفادار فوجی دستے ایک ایک کر کے اہم تنصیبات کا کنٹرول واپس لینے لگے۔ ٹی آر ٹی کی نشریات بحال ہو گئیں، پل دوبارہ کھل گئے، صدارتی محل پر حملہ ناکام بنا دیا گیا جبکہ سپیشل فورسز نے آقنجی ایئر بیس پر کارروائی کرتے ہوئے چیف آف جنرل سٹاف جنرل خلوصی آقار کو بازیاب کروا لیا۔

دوپہر تک وزیراعظم بن علی یلدرم اور جنرل آقار نے مشترکہ طور پر اعلان کر دیا کہ بغاوت کو مکمل طور پر کچل دیا گیا ہے۔

دس برس بعد جب اس واقعے کو دیکھا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ 15 جولائی صرف ایک ناکام فوجی بغاوت کا نام نہیں۔ یہ جدید ترکی کی سیاسی تشکیلِ نو کا نقطۂ آغاز بھی تھا۔ اس کے بعد ترکی نے فوج کے اندر اصلاحات، انٹیلی جنس نظام کی ازسرِ نو تنظیم، دفاعی صنعت میں خود انحصاری، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاع، سائبر سلامتی اور قومی سلامتی کے ڈھانچے میں غیر معمولی تبدیلیاں کیں۔

اس واقعے نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کی کہ جمہوریت صرف آئینی دستاویزات کا نام نہیں، بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان ایک ایسے عہد کا نام ہے جس کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی عام شہریوں کو بھی غیر معمولی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ 

ڈاکٹر فرقان حمید ترکیہ (ترکی) میں مقیم ایک صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ وہ ترک سرکاری نشریاتی ادارے TRT اردو کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *