حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی: پوسٹ مارٹم رپورٹ

راولپنڈی میں 45 سالہ حنا جاوید کے مبینہ قتل کی پوسٹمارٹم رپورٹ میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے، پسلیوں اور کولہے پر زخموں کے نشانات اور دل کے گرد خون جمع ہونے کا انکشاف، موت کی حتمی وجہ کے تعین کے لیے فرانزک رپورٹ کا انتظار۔

راولپنڈی میں 45 سالہ حنا جاوید کے مبینہ قتل کی پوسٹمارٹم رپورٹ پیر کو سامنے آ گئی ہے، جس کے مطابق مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ ان کی پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخموں کے نشانات موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کے دل کے گرد بھی خون جمع تھا، تاہم ابتدائی پوسٹمارٹم میں موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا۔

پولیس کے مطابق حنا جاوید کی لاش سے ڈی این اے اور دیگر نمونے حاصل کر کے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جس کے بعد موت کی وجہ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

پوسٹمارٹم موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد ڈاکٹر ماریا خالد نے کیا جبکہ رپورٹ اور فرانزک تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے نمونے لیڈی کانسٹیبل رافعہ تبسم نے وصول کیے۔

حنا جاوید کی لاش 21 اگست کی صبح راولپنڈی کے لال کرتی علاقے میں واقع عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔

ان کے قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں ان کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

شوہر اور گھریلو ملازم زیر حراست

پولیس نے حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو گرفتار کر رکھا ہے، جبکہ راولپنڈی کے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے اتوار کو دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

راولپنڈی پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان سے قتل کی واردات میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی رسی اور تار بھی برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ تفتیش کے دوران ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی نمونے لیے جائیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کے والد کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیصل اصغر نے اپنے گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو مبینہ طور پر قتل کی واردات میں معاونت کے لیے رقم دی تھی۔ تاہم اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

ایف آئی آر کے مطابق حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید ملک کو ان کے سسر اصغر علی فیاض نے جمعرات کی صبح فون کر کے گھر میں ایمرجنسی کی اطلاع دی اور فوری پہنچنے کے لیے کہا۔

مدعی کے مطابق جب وہ گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی بہن کو باتھ روم میں مردہ حالت میں پایا۔

ایف آئی آر میں فہد جاوید ملک نے واقعے کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا، ’حنا کے دونوں ہاتھ پیچھے کپڑے سے بندھے ہوئے تھے، ان کے منہ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار موجود تھی، جو مبینہ طور پر شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔‘

ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حنا کے منہ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھا جبکہ باتھ روم کے فرش پر بھی خون موجود تھا۔

مدعی نے الزام لگایا کہ ان کی بہن کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ انہیں کسی زہریلی چیز کا استعمال بھی کرایا گیا ہو سکتا ہے۔ اس دعوے کی تصدیق فرانزک اور دیگر طبی رپورٹس کے بعد ہو سکے گی۔

ایف آئی آر میں حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر، ان کے سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا ہے۔

خاندان کے الزامات

حنا جاوید کے خاندان نے واقعے کو مبینہ منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے شوہر اور دیگر افراد کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

حنا کے رشتے دار شہرام اظہر ملک کا کہنا ہے کہ یہ خاندان کے لیے اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا منصوبہ تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حنا بدھ کی رات اپنے میکے سے واپس سسرال گئی تھیں اور بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر ایمرجنسی کا بہانہ کر کے کمرے سے باہر بلایا گیا، جس کے بعد ان پر تشدد کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہرام اظہر ملک نے مزید دعویٰ کیا، ’حنا کی موت کے بعد واقعے کو خودکشی یا گھر میں ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔‘

خاندان نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ منصوبہ بندی چند روز قبل کی گئی تھی اور گھریلو ملازم کو اس جرم میں شامل ہونے کے لیے رقم دینے کا لالچ دیا گیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

حنا جاوید کی تایا زاد بہن صباح بانو ملک نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے جو کسی ایک طبقے یا مخصوص معاشی پس منظر تک محدود نہیں۔

انہوں نے کہا، ’حنا کی شادی کو ابھی دس ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے تھے اور خاندان چاہتا ہے کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔‘

حنا جاوید نے نومبر 2025 میں ریٹائرڈ کرنل اصغر علی فیاض کے بیٹے فیصل اصغر سے شادی کی تھی۔

مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹمارٹم رپورٹ، فرانزک تجزیے اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

صباح بانو ملک نے کہا، ’خاندان چاہتا ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *