پاکستان مفاہمتی یادداشت کے مقاصد کے لیے کوششیں جاری رکھے گا: عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخار احمد نے جمعے کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر سب کے مفاد کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مقاصد کے حصول، جامع حتمی معاہدے کی تکمیل اور امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ 

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے جمعے کو ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ’علاقائی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیںَ۔ علاقائی اور بین الاقوامی امن، سکیورٹی اور خوشحالی کی خاطر تشدد اور عدم استحکام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

’حالات معمول پراور فریقین کو واپس مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔‘

پاکستان نے یہ اپیل خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی اس نئی کشیدگی کے پیش نظر کی ہے۔ امریکہ نے جمعرات کو ایران پر تازہ فضائی حملے کیے تھے اور تہران نے اس کے جواب میں مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔

اس حالیہ کشیدگی نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دباؤ کا شکار کر دیا ہے، جس پر گذشتہ ماہ دستخط کیے گئے تھے تاکہ امریکہ اور ایران کو 60 دنوں کے اندر ایک حتمی معاہدے کی جانب لے جایا جا سکے۔

عاصم افتخار نے کہا: ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جس پر گذشتہ ماہ دستخط کیے گئے، تمام حل طلب مسائل کو سفارتی ذرائع سے طے کرنے کے لیے قابل عمل روڈ میپ پیش کرتی ہے۔

’پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ اسلام آباد ایم او یو کے تحت اپنے متعلقہ وعدوں کی پاسداری کریں، جو خطے اور اس سے باہر افہام و تفہیم، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک پائیدار بنیاد ہے۔‘

شہباز شریف نے ایرانی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے حوالے سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم نے بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور حالیہ مہینوں میں کڑی محنت سے حاصل کردہ امن کے ثمرات کو محفوظ رکھنے کے لیے تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اشد ضرورت پر زور دیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے خطے میں دیرپا امن کے لیے ایک دیانت دار اور مخلص ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہباز شریف نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے گذشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورہ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے دوطرفہ تعاون کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کی کوششوں اور خطے میں استحکام کے وسیع تر حصول کی حمایت میں تعمیری سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اب تک ہونے والے ماہرین کی سطح کے مذاکرات اور عبوری امن مفاہمت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر ہونے والی مثبت پیش رفت سے پاکستان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اسلام آباد فریقین کے درمیان مسلسل تعمیری روابط کا منتظر ہے۔ 

عاصم افتخار کے مطابق: ’چوں کہ حساس مذاکرات جاری ہیں، ہمیں ایسے کسی بھی اقدام یا پیغام رسانی سے گریز کرنا چاہیے جو غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہو۔

’ہماری تمام تر کوششیں اور توانائیاں اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کے لیے وقف ہونی چاہییں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *