پاکستان سمیت بیشتر ملکوں میں آج (بروز بدھ) عیدالاضحیٰ منائی جا رہی ہے جبکہ حج کے حوالے سے سعودی عرب میں موجود لاکھوں مسلمان رمی کے لیے منیٰ پہنچ رہے ہیں۔
دنیا بھر کے مسلمان ہر سال 10 ذوالحجہ کو عید الاضحی مناتے ہیں جسے عید قربان بھی کہا جاتا ہے۔
اس موقعے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’قربانی کا جذبہ دراصل ہمیں خود غرضی، تنگ نظری اور ذاتی مفادات سے بلند ہو کر انسانیت کے لیے ہمدردی، ایثار اور احساس ذمہ داری اپنانے کا درس دیتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا آج کے دن میں پوری قوم کی جانب سے اپنے فلسطینی اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہوں۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ’آج ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہے کہ ہم اختلافات کے باوجود قومی وحدت کو مقدم رکھیں گے۔
’ہم نفرت اور تقسیم کی بجائے محبت، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں گے۔
’ہم کمزور طبقوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، قانون کا احترام کریں گے، اپنے ماحول کو صاف رکھیں گے اور اپنے عمل سے پاکستان کو ایک مہذب، پرامن اور باوقار ملک بنانے میں کردار ادا کریں گے۔‘
عیدالاضحیٰ کے موقعے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی ’پاکستان کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے عید کی مبارک باد‘ پیش کی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں کہا گیا ’پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے مقدس فریضے میں ثابت قدم ہیں اور امن و استحکام کے حصول میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔‘
دوسری جانب سعودی عرب میں موجود 17 لاکھ سے زائد عازمین حج بھی آج صبح سے پہلے منیٰ میں جمع ہوئے تاکہ رمی کا رکن ادا کریں جو عید الاضحیٰ کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی پریس ایجنسی کے مطابوق عرفات سے آنے والے حجاج نے منگل کو رات گئے مزدلفہ میں کنکریاں جمع کیں۔
میدان عرفات سے مزدلفہ تک رات بھر کی نقل و حرکت وسیع سکیورٹی، صحت اور ٹرانسپورٹ آپریشنز کے تحت انجام پائی۔
نو ذوالحجہ کو غروب آفتاب کے بعد حجاج مزدلفة پہنچتے ہیں جو عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع ہے۔ وہ رات یہیں گزارتے ہیں اور رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں۔
اس کے بعد 10 ذوالحجہ یعنی آج حجاج فجر کے بعد دوبارہ منیٰ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہیں، جسے رمی کہا جاتا ہے۔
رمی کے بعد حجاج مکہ مکرمہ واپس جا کر مسجد الحرام میں طوافِ افاضہ کریں گے، یعنی خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی ادا کریں گے۔
منیٰ میں حجاج کی دوبارہ آمد 11 ذوالحجہ کو ہو گی جہاں وہ قیام کریں گے اور تینوں جمرات- جمرہ اولیٰ، وسطیٰ اور عقبہ کو کنکریاں ماریں گے اور یہ عمل تین دن تک جاری رہے گا۔
