تفتیش کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ دسمبر 2021 میں جنوبی کوریا کی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں کے پائلٹ طیاروں کے ٹکرانے سے قبل اپنی پرواز کے دوران سیلفیاں لے رہے تھے اور ویڈیو بنا رہے تھے۔
جنوبی کوریا کی فضائیہ کے دو ایف 15 کے جنگی طیارے دسمبر 2021 میں ایک تربیتی مشن کے دوران آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ اگرچہ پائلٹ بغیر کسی چوٹ کے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم اس تصادم سے طیاروں کو شدید نقصان پہنچا اور طیاروں کی مرمت پر فوج کے 88 کروڑ وون (چار لاکھ 40 ہزار 639 پاؤنڈ) خرچ ہوئے۔
حکومت کے بورڈ آف آڈٹ اینڈ انسپیکشن نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایک پائلٹ کی یہ اپنی یونٹ کے ساتھ آخری پرواز تھی اور انہوں نے اسے یادگار بنانے کے لیے تصاویر لیں۔ انہوں نے مشن سے قبل ہونے والی بریفنگ میں اپنے ساتھیوں کو بھی بتایا تھا کہ ان کا ارادہ تصاویر بنانے کا ہے۔
وسطی شہر ڈائے گو میں پرواز کے مشن کے بعد، جب طیارے بیس کی طرف واپس لوٹ رہے تھے، تو مرکزی پائلٹ کے پیچھے دوسرا طیارہ اڑانے والے ونگ مین نے اپنے فون سے تصاویر بنانا شروع کر دیں۔ اس پر مرکزی طیارے کے پائلٹ نے اپنے طیارے میں موجود ایک اور پائلٹ سے ونگ مین کے طیارے کی ویڈیو بنانے کا کہا۔
پھر ونگ مین کا طیارہ اچانک بلندی پر گیا اور اس نے کیمرے کے لیے طیارے کو الٹا کر دیا۔ اس کرتب کی وجہ سے دونوں طیارے ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔
تصادم سے بچنے کے لیے مرکزی پائلٹ نے تیزی سے نیچے آنے کی کوشش کی جب کہ ونگ مین نے طیارے کو تقریباً سیدھا اوپر کی طرف اٹھا دیا، جس کی وجہ سے تصادم ہو گیا۔
مرکزی طیارے کا بایاں پَر ونگ مین کے سٹیبلیٹر سے ٹکرا گیا، جو طیارے کی دُم پر موجود ایک متحرک افقی سطح ہوتی ہے اور یہ طیارے کو متوازن رکھنے اور اوپر اٹھانے دونوں کا کام کرتی ہے۔ تصادم سے مرکزی طیارے کے بائیں پَر اور ونگ مین کی دُم کے سٹیبلائزر کو نقصان پہنچا۔
جنوبی کوریا کی فضائیہ نے حادثے کے بعد ونگ مین پائلٹ کو معطل کر دیا، جو بعد ازاں تجارتی فضائی کمپنی کا حصہ بن گئے۔
مرمت کے مکمل اخراجات ادا کرنے کے لیے ونگ مین پائلٹ پر 88 کروڑ وون کا جرمانہ عائد کیا گیا، لیکن پائلٹ نے بورڈ کے سامنے اس جرمانے کو چیلنج کر دیا۔ انہوں نے غفلت کا اعتراف تو کیا لیکن کہا کہ وہ طیارے کے لیے مالی طور پر جوابدہ نہیں کیونکہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی طیارے کے پائلٹ نے اس کرتب کی ’خاموش رضامندی‘ دی تھی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔
بورڈ نے بالآخر اسے بل کا دسواں حصہ ادا کرنے کو کہا اور جرمانے میں 90 فیصد کمی کرتے ہوئے تقریباً 8 کروڑ 80 لاکھ وون (44 ہزار 63 پاؤنڈ) کی ادا کرنے کی ہدایت کی۔
ایجنسی نے پروازوں کے دوران یادگار تصاویر لینے کے معمول اور اسے کنٹرول کرنے میں فضائیہ کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس فیصلے کا دفاع کیا۔
اس نے کہا: ’اس کیس میں شامل افراد نے بتایا کہ یہ واحد پرواز نہیں تھی، جس کے دوران تصاویر لی گئیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بورڈ نے تصادم کے بعد پائلٹ کی جانب سے طیارے کو مہارت سے سنبھالنے کو بھی اجاگر کیا، جس کی وجہ سے مزید نقصان نہیں ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے طویل سروس ریکارڈ کا بھی حوالہ دیا۔
جمعرات کو جنوبی کوریا کی فضائیہ نے اس حادثے پر معافی مانگی اور کہا کہ وہ پرواز کے حفاظتی اصولوں کو سخت کرنے اور اس واقعے کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
فضائیہ کے ایک ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا: ’ہم 2021 میں پیش آنے والے اس حادثے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش پر عوام سے دلی طور پر معافی مانگتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں شامل پائلٹوں میں سے ایک کو پرواز کی ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا اور ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی گئی اور وہ اب فوج چھوڑ چکے ہیں۔
آڈٹ بورڈ نے پائلٹوں کے نام ظاہر نہیں کیے اور یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا مرکزی پائلٹ کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا یا نہیں۔
