امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے معاہدہ بہت جلد ہو رہا ہے، شاید اس جمعرات یا جمعے کو۔
امریکی صدر نے مزید کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے مبینہ پراکسی نیٹ ورکس پر بھی بات کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر نے اس معاہدے کے لیے بہت محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکہ دوبارہ بمباری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بقول: ’اگر انہوں نے معاہدے کا احترام نہ کیا تو ہم غالباً دوبارہ ان پر بمباری کریں گے جب تک وہ اسے تسلیم نہ کریں۔‘
صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ ممکنہ امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن کے قیام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے لبنان کے معاملے پر بھی کام کرنا ہوگا۔
