اٹلی: چار پاکستانیوں کو زندہ جلانے والے ملزمان بھی پاکستانی نکلے

اطالوی پولیس نے جنوبی اٹلی میں جل کر خاکستر ہونے والی منی وین سے چار پاکستانی زرعی کارکنوں کی لاشیں ملنے کے بعد ان کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

یہ خبر منگل کو اطالوی اخبار کوریئرے ڈیلا سیرا نے شائع کی۔

خاکستر ہونے والی یہ گاڑی جنوبی اطالوی علاقے کالابریا کے ایک وسیع زرعی خطے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول پمپ سے ملی۔

اخبار نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پیٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور گاڑی کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں بعد ازاں گاڑی میں آگ بھڑکتے اور دونوں افراد کو وہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار افراد کی لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ ’یہ یقیناً قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی مکمل تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔‘

اخبار کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اس علاقے میں زرعی شعبے میں مزدوری، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز) اور رہائش کی سہولیات کی تقسیم کے معاملے پر تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *