علاقائی ممالک کی درخواست پر ایران پر حملہ مؤخر: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر ایران پر منصوبہ بند حملے فی الحال روک دیے ہیں لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ جلد ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا ’امریکہ مکمل طور پر تیار ہے اور فوجی دہشت، طاقت اور قوت کی اس سطح پر ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مستعد ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس کے باوجود، ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ہم سے ابھی کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے کہا۔

’اس درخواست کی بنیاد پر میں نے حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، بشرط کہ تیزی سے کوئی معاہدہ طے پا سکے۔ اسرائیل بھی اس عہد میں میرے ساتھ شامل ہے۔‘

امریکی حملے کا بھرپور ردعمل دیں گے: ایران

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران نے اس ہفتے کے اختتام پر امریکہ کی کسی بھی ’مہم جوئی‘ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی افواج نے ایرانی اہداف پر نئے حملوں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر عمل کیا تو وہ فیصلہ کن جوابی کارروائی کرے گا۔ 

اعلیٰ ترک، پاکستانی اور سعودی حکام کے ساتھ ہفتے کو الگ الگ فون کالز میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بیان کویتی فوج کے اس بیان کے محض چند گھنٹے بعد سامنے آیا کہ اس نے کئی اہم تنصیبات کی جانب ایران سے داغے گئے ڈرون تباہ کر دیے۔ 

عباس عراقچی کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی ’جارحیت‘ کا بھرپور جواب دے گا۔

انہوں نے امریکہ کے ’عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات‘ کے نتائج کے ساتھ ساتھ خطے میں عدم تحفظ بڑھنے کے امکانات پر تبادلہ بھی خیال کیا۔ 

بعد ازاں عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے یا اس طرح کی کارروائیوں میں علاقائی ممالک کی شمولیت کا ’متناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

ایک امریکی اہلکار نے نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کو ٹرمپ سے بات کی اور ایران کے حوالے سے امریکی منصوبوں پر ’تشویش کا اظہار کیا اور وضاحت طلب کی۔‘ 

کیمپ ڈیوڈ کے تفریحی مقام پر جمعے کو کابینہ کے ایک اجلاس میں ٹرمپ نے کہا ان کا خیال ہے کہ امریکی مذاکرات کار، جن میں ان کے داماد جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل ہیں، اب بھی ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔

لیکن ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانیوں پر سے ان کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’وہ اکثر اپنا وعدہ توڑتے ہیں۔‘

یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو تہران نے بھی اکثر واشنگٹن پر کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا وہ ’انہیں (ایران کو) نشانہ بنائیں گے۔‘

آبنائے ہرمز

28 فروری کو ایران پر حملوں کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند رہی ہیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈونلڈ ٹرمپ نے دلیل دی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے ان کے بیان کردہ ہدف کے باعث قلیل مدت میں ایندھن کی زیادہ قیمتیں درست ہیں، لیکن معاشی نقصان نے ان پر جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے سیاسی دباؤ ڈال دیا ہے۔

جولائی میں بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز میں 24 فیصد اضافہ ہوا، اور روئٹرز کے سروے میں شامل تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ اس سال قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایرانی حملوں کے خطرے نے عالمی توانائی کی فراہمی کے ایک اہم راستے، آبنائے ہرمز سے زیادہ تر جہاز رانی کو روک دیا ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

کویتی فوج نے بتایا کہ ہفتے کو شمالی کویت میں ایک سرکاری تنصیب اور جزیرہ بوبیان پر ایک کمپنی کی شہری املاک کو نشانہ بنایا گیا، گرنے والے ملبے سے مادی نقصان تو ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

توانائی کی صنعت کے خدشات میں اضافہ کرتے ہوئے، یمن میں ایران کے حوثی اتحادیوں نے حال ہی میں باب المندب کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں، جو نہر سوئز سے بحیرہ احمر کے دوسرے سرے پر واقع ایک آبنائے اور سعودی خام تیل کی برآمد کا ایک اور راستہ ہے۔

یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ہفتے کو کہا کہ اسے عمان کے ساحل کے قریب دو سمندری واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے ایک میں ایک ٹینکر کو نامعلوم گولہ لگا جس سے انجن روم کو نقصان پہنچا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *