برطانوی پولیس نے ایک طالب علم کی ویڈیو جاری کی ہے جسے غلط طور پر ایک سکھ شخص پر نسلی بدسلوکی کا الزام لگانے کے بعد مذہبی علامت کے طور پر استعمال ہونے والی کرپان گھونپ کر قتل کر دیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق اس واقعے کے بعد منگل کو دائیں بازو کے رہنما نائیجل فراج پولیس کی ڈائیورسٹی پالیسیوں پر شدید برہم ہوئے ہیں۔
فراج نے ’سفید فام افراد کے خلاف تعصب کے خاتمے‘ اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ’وائٹ لائیوز میٹر‘کو بھی تسلیم کیا جائے۔
پولیس کی جاری کردہ باڈی کیمرہ فوٹیج میں 18 سالہ یونیورسٹی طالب علم ہنری نوواک کو شدید زخمی حالت میں پولیس کے ہاتھوں ہتھکڑی لگائے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک جج نے پیر کو نوواک کے قاتل 23 سالہ وکرم ڈگوا کو کم از کم 21 سال قید کی سزا سنائی، جنھوں نے نوواک کو چھرا گھونپ کر قتل کیا اور پھر پولیس کو جھوٹ بتایا کہ مقتول نے ان کے ساتھ نسلی بدسلوکی کی تھی۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ایکس پر واقعے کو ’انتہائی خوف ناک اور افسوس ناک کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ پولیس کے رویے کی تحقیقات کرنے والا آزاد ادارہ افسران کے ردعمل کی جانچ کر رہا ہے۔
فراج نے، جن کی امیگریشن مخالف پارٹی ریفارم یوکے نے گذشتہ ماہ انگلینڈ میں بلدیاتی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، کہا کہ اس کیس نے ثابت کیا ہے کہ ہر شخص کو قانون کے سامنے برابر سمجھنے کے اصول کو ’تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار حملہ آور کے اس دعوے کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ خود متاثرہ ہے نہ کہ نوواک، جو واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔
نوواک کو ہتھکڑی پہنا دی جاتی ہے حالانکہ وہ بار بار کہتے ہیں کہ انہیں چھرا لگا ہے اور ’میں سانس نہیں لے سکتا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک پولیس افسر انہیں کہتے ہیں ’آپ کو چھرا لگا ہے، کہاں؟‘ اور پھر مزید کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو لگا ہے، یار۔‘
فراج نے سزا کے بعد مقتول کے خاندان کے ’وقار‘ کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی کہا ’ہمیں اس پر شدید غصے کے ساتھ ردعمل دینا چاہیے۔ یہ غلط ہے۔‘
امریکی ٹیک ارب پتی ایلون مسک نے بھی ایکس پر اس معاملے میں پولیس کے کردار پر نجی مقدمہ چلانے کے لیے مالی معاونت کی پیشکش کی ہے۔
ڈگوا منگل کو جنوبی شہر ساؤتھ ہمپٹن کی عدالت میں دوبارہ پیش ہونے والے ہیں، ان کے ساتھ ان کے بھائی گروپریت ڈگوا اور تیسرے ملزم موگا سنگھ بھی ہتھیاروں کے مقدمات میں عدالت میں پیش ہوں گے۔
نوواک کو 21 سینٹی میٹر (آٹھ انچ) بلیڈ والے ایک خنجر (کرپان) سے گھونپا گیا تھا۔
ڈگوا کی 53 سالہ والدہ کرن کور کو 17 جولائی کو سزا سنائی جائے گی کیونکہ انہوں نے ایک مجرم کی مدد کرتے ہوئے وہ خنجر گھر واپس لے گئی تھیں۔
