انڈیا کے ساتھ مئی کی 88 گھنٹوں کی جنگ کا آغاز کیسے ہوا؟

یہ کہانی صرف تین دنوں (چھ سے آٹھ مئی 2025) کی نہیں بلکہ ان لمحات کی ہے جب ایک ریاست نے اپنے اعصاب اور اپنی حکمت عملی کے ذریعے خود کو سنبھالا۔

22 اپریل، 2025 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام کے سیاحتی مقام بیسران ویلی میں مسلح افراد نے اچانک فائرنگ کر کے متعدد افراد کو مارا اور زخمی کر دیا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود تھی، اس لیے اس نے فوری طور پر بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔

حملے کے فوراً بعد نئی دہلی نے الزام پاکستان پر عائد کر دیا، حالانکہ اسلام آباد کہتا رہا کہ اس الزام کا کوئی واضح اور قابل تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

ساتھ ہی سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کرنے اور پانی روکنے کی دھمکی دی۔ یہ معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے، اس لیے اس سے متعلق کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ کشیدگی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے کا الزام سختی سے مسترد کیا اور انڈیا سے ثبوت بھی مانگے۔

تاہم اس واقعے کو بنیاد بنا کر انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا، جس کا پاکستان نے موثر ردعمل دیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس لڑائی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ ایسے میں ہم نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ انڈین حکومت کی جنگی تیاریوں کا جواب دینے کے لیے پاکستان نے اس وقت کیا اور کیسے تیاری کی تھی؟

سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کتاب ’دی وار ڈیٹ چینجڈ ایوری تھنگ‘ کے شریک مصنف مرتضیٰ سولنگی کے مطابق اس حملے کے بعد نہ صرف عسکری صورت حال بگڑی بلکہ اطلاعاتی اور سفارتی محاذ پر بھی ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی، جس نے مئی کی محدود جنگ کی راہ ہموار کی۔

یکم مئی

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارار نے خطرے کی گھنٹی 30 اپریل کو ہی بجا دی تھی اور انڈیا کے حملے کی وارننگ جاری کی۔

قابل اعتماد انٹیلی جنس اور قابل مشاہدہ فوجی نقل و حرکت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خطرے کو فوری اور سنگین قرار دیا۔

اس پر پاکستان نے اپنی اگلی چوکیوں کو مضبوط کیا اور اہم یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا۔

انڈیا اور پاکستان نے اپنی فضائی حدود پر دوسرے ملک کے تمام رجسٹرڈ، آپریٹ یا لیز پر لیے گئے طیاروں، بشمول کمرشل ایئرلائنز اور فوجی پروازوں پر پابندی عائد کر دی۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مسلح افواج کے سربراہان کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس بلایا تاکہ فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

پاکستان کی جانب سے آرمی چیف عاصم منیر نے انڈین سرحد کے قریب جاری جنگی تیاری کی مشقوں کا دورہ کیا۔

حکام نے سیاحوں کو نیلم وادی اور ایل او سی کے قریب دیگر حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔ علاقے کے تمام مذہبی مدرسوں کو بھی 10 دن کے لیے بند رہنے کا حکم دیا گیا۔

دو مئی

کشیدگی برقرار رہی جبکہ ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر فوجی جھڑپیں جاری رہیں۔

انڈیا کی یکم اور دو مئی کی رات ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد کے کئی مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائیوں کا سبب بنیں۔

انڈین فضائیہ نے اترپردیش کے شاہ جہاں پور کے قریب گنگا ایکسپریس وے پر طیاروں کی ٹیک آف اور لینڈنگ کی مشقیں کیں۔ 

سفارتی روابط بھی اس وقت شدت اختیار کر گئے جب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت کے نمائندے اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کر رہے تھے۔

انڈیا نے وزیر اعظم شہباز شریف کے سرکاری یوٹیوب چینل تک رسائی بلاک کر دی۔

تین مئی

کشیدگی اس وقت نمایاں طور پر بڑھ گئی جب ایک پاکستانی رینجرز اہلکار کو بی ایس ایف نے گرفتار کر لیا جب وہ مبینہ طور پر انڈین علاقے میں داخل ہوا۔

اگلے 72 گھنٹوں میں پاکستان نے ابدالی کے مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ فائر کیا جو جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے اس نے آپریشنل تیاری کا اشارہ دیا۔

چار مئی

انڈیا نے چناب دریا پر بغلیہار ڈیم کے دروازے بند کر کے بحران کو نمایاں طور پر بڑھا دیا، جس سے پاکستان کی طرف پانی کا بہاؤ کم ہو گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے جہاں سینیئر حکومتی حکام سے ایک اہم ملاقات ہوئی، جس سے علاقائی سفارتی کوششوں میں ایک اور اضافہ ہوا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پانچ مئی

انڈیا نے ملک بھر میں سات مئی سے سول ڈیفنس مشق کے شیڈول کا اعلان کیا جس میں ایئر ریڈ سائرن کو فعال کرنا، بلیک آؤٹ پروٹوکولز، انخلا کے منصوبے اور شہری تیاری کی تربیت شامل تھی۔

یہ مشقیں 1971 کے بعد سے اتنی بڑے پیمانے پر نہیں ہوئیں تھیں جس سے حالات کی سنگینی ظاہر ہوئی۔

انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے مودی سے مشاورت کے لیے ملاقات کی۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر انڈیا کے جارحانہ اقدامات کی مذمت میں قرارداد منظور کی۔

چھ مئی

انڈیا نے آپریشن سندور شروع کیا، جس میں رات گئے پاکستانی مقامات پر میزائل حملے کیے گئے، جن میں بہاولپور کے احمدپور ایسٹ میں سبحان مسجد، مظفرآباد کی بلال مسجد، کوٹلی کی عباس مسجد، مریدکے کی امالکورہ مسجد، سیالکوٹ ضلع کے کوٹکی لوہارا گاؤں اور شکر گڑھ شامل ہیں۔ نیلم-جھلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر بھی گولہ باری کی۔

پاکستان نے پانچ انڈین طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل طیارے شامل تھے۔ ایل او سی کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی برقرار رہی، جہاں انڈین اور پاکستانی افواج کے درمیان روزانہ توپ خانے اور چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

پاکستان نے بھمبر ضلع کے ستوال اور ماناور سیکٹرز میں ایل او سی کے ساتھ دو انڈین کواڈ کاپٹر ڈرونز مار گرائے۔ اسلام آباد نے انڈیا پرجاسوسی کے آپریشنز کرنے کا الزام لگایا۔

چھ مئی کی صبح جب پہلی خبریں آئیں تو اسلام آباد میں فوری طور پر ایک ہنگامی کیفیت پیدا ہوئی لیکن کتاب کے مطابق یہ گھبراہٹ نہیں تھی، یہ ایک منظم ردعمل کی ابتدا تھی۔

وزیراعظم ہاؤس میں سب سے پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں سیاسی قیادت کے ساتھ عسکری قیادت بھی موجود تھی۔

اس مرحلے پر سب سے اہم چیز ’صورتِ حال کی درست تصویر‘ حاصل کرنا تھی نہ کہ فوری جوابی کارروائی کرنا۔ مرتضی سولنگی کا کہنا تھا کہ کمرے میں خاموشی تھی، صرف بریفنگ دینے والے افسر کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ’سیٹلائٹ تصاویر، انٹیلی جنس رپورٹس اور زمینی حقائق ایک، ایک کر کے سامنے رکھے جا رہے تھے۔

’ہر بات کو شک کی نظر سے بھی دیکھا جا رہا تھا تاکہ کوئی غلط اندازہ نہ لگایا جائے۔ یہی وہ فرق تھا جو اس ردعمل کو جذباتی کی بجائے سٹریٹیجک بنا رہا تھا۔‘

اسی دن دوپہر کے بعد ایک اور اہم اجلاس ہوا جس میں عسکری آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں کمانڈرز کو بلایا گیا جہاں صورت حال کو ’ملٹی ڈومین‘ انداز میں دیکھا گیا، یعنی صرف زمینی جنگ نہیں بلکہ فضائی، بحری، سائبر اور اطلاعاتی پہلو بھی زیرِ بحث آئے۔

فوجی قیادت نے واضح کیا کہ اگر جواب دیا جائے گا تو وہ محدود، ہدفی اور سوچ سمجھ کر ہوگا۔ مقصد صرف ردعمل نہیں بلکہ ’سٹریٹیجک ڈیٹرنس‘ کو بحال کرنا تھا، یعنی دشمن کو یہ واضح کرانا کہ پاکستان کمزور نہیں۔

سات مئی

سات مئی کو حالات مزید سنجیدہ ہو گئے۔ اسی دن قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اہم اجلاس ہوا، جسے کتاب میں فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ اس اجلاس میں تین بنیادی نکات طے ہوئے: اوّل، پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوم، ہر قدم عالمی قوانین اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے مطابق ہوگا۔ سوم، جنگ کو پھیلنے سے روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا دفاع کرنا۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ عالمی سطح پر فوری سفارتی رابطے کیے جائیں۔ دفتر خارجہ کو ہدایات دی گئیں کہ بڑے عالمی دارالحکومتوں، اقوام متحدہ اور اہم طاقتوں کو پاکستان کا مؤقف واضح کیا جائے۔

اسی دوران ایک اور اہم محاذ کھل چکا تھا اور وہ تھا معلومات کی جنگ کا۔ میڈیا سیلز کو فعال کیا گیا، حقائق کو ترتیب دے کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔

کتاب کے مطابق جدید جنگ میں ’بیانیہ‘ بھی ایک ہتھیار ہوتا ہے اور پاکستان نے اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے کام کیا۔

کتاب کے مطابق سات مئی کی رات شاید سب سے زیادہ اہم تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب حتمی عسکری تیاری مکمل کی جا رہی تھیں۔ ایئر فورس، نیوی اور آرمی سب کو مخصوص ہدایات دی گئیں۔ ہر یونٹ کو معلوم تھا کہ اسے کب، کہاں اور کیسے حرکت کرنی ہے۔

10 مئی

صبح سویرے پاکستان نے آپریشن بنیان ام مرصوص کا آغاز کیا۔ پاکستانی فوج نے بیاس علاقے میں برہموس میزائلوں کے ایک ذخیرہ گاہ اور انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر میں ادھم پور ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

تقریبا شام 5 بجے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

یہ کوئی روایتی جنگی تیاری نہیں تھی بلکہ ایک مربوط اور محدود ردعمل کی منصوبہ بندی تھی۔

آٹھ مئی تک پاکستان ایک مکمل دفاعی اور جوابی پوزیشن میں آ چکا تھا۔ سرحدوں پر چوکسی عروج پر تھی۔ فضائی نگرانی مسلسل جاری تھی اور بحریہ بھی اپنے سٹریٹیجک مقامات پر تیار کھڑی تھی۔

مصنف نے مطابق ان تین دنوں میں ایک اور اہم چیز سامنے آئی—اندرونی اتحاد۔ سیاسی جماعتیں، جو عام دنوں میں ایک دوسرے کی مخالف ہوتی ہیں، اس وقت ایک ہی مؤقف پر کھڑی نظر آئیں۔ میڈیا، عوام اور ریاستی ادارے ایک ہی سمت میں دیکھ رہے تھے۔

کتاب کے مطابق پاکستان کا ردعمل تین ستونوں پر کھڑا تھا: حکمت، تحمل اور مہارت۔

یہی وجہ تھی کہ فیصلے جلدی بھی تھے اور سوچے سمجھے بھی۔ نہ غیر ضروری جلد بازی، نہ کمزوری کا تاثر۔

مرضی سولنگی اور احمد حسن العربی نے ان تین دنوں کی پوری کہانی کو ایک جملے میں یوں سمیٹا ’یہ تین دن بندوقوں سے زیادہ ذہنوں کی جنگ کے دن تھے۔‘

یہ وہ لمحے تھے جب ریاست نے صرف جواب نہیں دیا بلکہ یہ بھی طے کیا کہ جواب کی نوعیت کیا ہو، اس کی حد کہاں تک ہو اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

یہی وہ فرق ہے جو ایک ردعمل کو وقتی اور ایک حکمتِ عملی کو تاریخی بنا دیتا ہے۔

ٹام کوپر، آسٹریائی فضائی جنگ کے تجزیہ کار اور مورخ، اپنی کتاب ’88 گھنٹے کی جنگ’ میں کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ لڑائی طویل عرصے سے جاری کشمیر تنازعے سے جڑی تھی، لیکن یہ ایک بہت زیادہ اہم چیز کی نمائندگی کرتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 80 سالہ دشمنی میں پہلی بار، دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک توازن ناقابل واپسی حد تک تبدیل ہو گیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *