امریکی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے منگل کو بتایا ہے کہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ویک اینڈ پر وائٹ ہاؤس میں مکسڈ مارشل آرٹس فائٹس کے دوران حملے کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کاش پٹیل نے ایکس پر لکھا کہ ’”ایف بی آئی، ہمارے شراکت دار اداروں اور محکمہ انصاف کی متعدد ریاستوں میں کارروائی کے نتیجے میں فوری اقدام کی بدولت کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مبینہ حملے کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے اپنی پوسٹ میں فاکس نیوز کی ایک خبر کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے یو ایف سی (مکسڈ مارشل آرٹس) ایونٹ کو دھماکہ خیز ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی سازش کو ناکام بنایا گیا۔
فاکس نیوز کے مطابق پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تحقیقات میں 23 افراد پر مشتمل ایک ممکنہ نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ وائٹ ہاؤس کے قریب عمارتوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جائے، جس سے بڑے پیمانے پر انخلا ہو اور ہجوم کو پہلے سے تیار سنائپر ٹیم کی جانب بھیجا جا سکے۔
اس کے علاوہ ایک ’دوسری لہر‘ کے تحت وائٹ ہاؤس کے گیٹس پر دھاوا بولنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایف بی آئی نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال بیان سے زیادہ کچھ بتانے کو نہیں ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان پر منعقدہ یو ایف سی ایونٹ میں شرکت کی تھی، جس میں ہزاروں افراد موجود تھے۔
’یو ایف سی فریڈم 250‘ کے نام سے ہونے والا یہ ایونٹ امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ تھا جو ٹرمپ کی سالگرہ کے دن منعقد کی گئیں۔
ٹرمپ حالیہ برسوں میں متعدد حملوں کی کوششوں کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں اپریل میں وائٹ ہاؤس کے ایک پروگرام پر حملے کی کوشش بھی شامل ہے۔
