ہنتا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہے؟

ایک کروز شپ پر ہنتا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ میں تین افراد جان سے گئے جب کہ سات بیمار ہو گئے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تفصیلی جانچ جاری ہے، جس میں وسیع لیبارٹری ٹیسٹ اور وبائی تحقیق شامل ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو سمجھا جا سکے۔

موجودہ پھیلاؤ سے حاصل وائرس کی جینیاتی جانچ جاری ہے۔ ہنتا وائرس صدیوں سے موجود ہے اور ایشیا اور یورپ میں اس کے پھیلاؤ کی مستند تاریخ ملتی ہے۔

مشرقی نصف کرے میں یہ وائرس شدید بیماریوں سے جڑا رہا ہے، جس میں ہیمریجک بخار اور گردوں کا کام چھوڑنا شامل ہے۔

ہنتا وائرس کا ایک الگ گروپ 1990 کی دہائی کے آغاز میں امریکہ کے جنوب مغربی حصے میں سامنے آیا، جس کے نتیجے میں سانس کی شدید بیماری پیدا ہوئی جسے اب ہنتا وائرس پلمونری سنڈروم کہا جاتا ہے۔

اس بیماری کو 2025 میں خاص توجہ ملی جب نیو میکسیکو میں اداکار جین ہیک مین کی اہلیہ بیٹسی آراکاوا ہنتا وائرس کی انفیکشن سے جان سے چلی گئیں۔

ہنتا وائرس کیا ہے؟
ہنتا وائرس زیادہ تر کترنے والے جانوروں کے فضلے یا تھوک سے رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔

خاص طور پر اس وقت جب یہ مواد چھیڑے جانے پر ہوا میں شامل ہو جائے اور سانس کے ذریعے جسم میں چلا جائے۔

لوگ عموماً اپنے گھروں، کیبن یا شیڈز کے اردگرد ہنتا وائرس کا شکار ہوتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب کم ہوا دار بند مقامات کی صفائی کی جائے یا ایسے مقامات پر جایا جائے جہاں کترنے والے جانورو کا فضلہ موجود ہو۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگرچہ ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے لیکن ہنتا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے 1993 میں فور کارنرز کے علاقے میں پھیلاؤ کے بعد اس وائرس کی نگرانی شروع کی۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں ایریزونا، کولوراڈو، نیو میکسیکو اور یوٹاہ ریاستیں آپس میں ملتی ہیں۔

یونیورسٹی آف نیو میکسیکو ہیلتھ سائنسز سینٹر سے وابستہ ماہر امراض پھیپھڑا مشیل ہارکنز کے مطابق انڈیا کی ہیلتھ سروس سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے سب سے پہلے نوجوان مریضوں میں اموات کے ایک انداز کو نوٹ کیا تھا۔

وہ برسوں سے اس بیماری کا مطالعہ کرتی آ رہی ہیں اور مریضوں کی مدد بھی کرتی رہی ہیں۔ امریکہ میں زیادہ تر کیس مغربی ریاستوں میں سامنے آتے ہیں۔

ڈاکٹر ہارکنز کے مطابق نیو میکسیکو اور ایریزونا سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں، غالباً اس لیے کہ دیہی علاقوں میں انسان اور کترنے والے جانوروں کے رابطے میں آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ہنتا وائرس کی علامات
یہ انفیکشن تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور جان لیوا بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنتا وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، ٹھنڈ لگنا، پٹھوں اور سر میں درد شامل ہے۔

ڈیلس میں یو ٹی ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر سونیا بارٹولومے نے کہا کہ ’بیماری کے آغاز میں آپ واقعی یہ فرق نہیں کر پاتے کہ یہ ہنتا وائرس ہے یا عام فلو۔‘

ہنتا وائرس سے پھیپھڑوں کے متاثر ہونے کی علامات عام طور پر کترنے والے متاثرہ جانور سے رابطے کے ایک سے آٹھ ہفتے کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں۔

جیسے جیسے انفیکشن بڑھتا ہے مریضوں کو سینے میں جکڑن محسوس ہو سکتی ہے کیوں کہ پھیپھڑوں میں پانی بھرنے لگتا ہے۔

ہنتا وائرس سے ہونے والا دوسرا مرض، یعنی ہیمریجک بخار مع گردوں کا مسئلہ، عموماً رابطے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر پیدا ہو جاتا ہے۔

بیماری سے اموات کی شرح اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ہنتا وائرس کی کون سی قسم ذمہ دار ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق ہانٹا وائرس پلمونری سنڈروم میں تقریبا 40 فیصد مریض جان سے جاتے ہیں جبکہ ہیمریجک بخار اور گردوں کے مسئلے میں اموات کی شرح ایک سے 15 فیصد تک ہوتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہنتا وائرس سے بچاؤ
اس کا کوئی خاص علاج یا یقینی شفا موجود نہیں لیکن بروقت طبی امداد زندہ بچنے کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔

برسوں کی تحقیق کے باوجود ڈاکٹر ہارکنز کے مطابق بہت سے سوالات اب بھی بے جواب ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ یہ بیماری کچھ لوگوں میں ہلکی اور کچھ میں بہت شدید کیوں ہو جاتی ہے اور اینٹی باڈیز کس طرح بنتی ہیں۔

وہ اور دیگر محققین طویل عرصے سے مریضوں کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی علاج تک پہنچا جا سکے۔

انہوں نے کہا ’بہت سے راز باقی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ محققین اتنا ضرور جانتے ہیں کہ کترنے والے جانوروں کے ساتھ رابطہ ایک بنیادی وجہ ہے۔

جراثیم سے بچنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کترنے والے جانوروں اور ان کے فضلے سے رابطہ کم سے کم رکھا جائے۔

کترنے والے جانوروں کے فضلے کی صفائی کے لیے حفاظتی دستانے اور بلیچ والا محلول استعمال کیا جائے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ جھاڑو دینے یا ویکیوم کلینر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے کیوں کہ اس سے وائرس ہوا میں شامل ہو سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *