اسلام آباد میں مفاہمت کے قریب تھے، امریکہ ایک بار پھر پیچھے ہٹ گیا: ایرانی سفیر

اسلام آباد میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے جمعرات کو کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات میں فریقین مفاہمت کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ ایک مرتبہ پھر پیچھے ہٹ گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ گذشتہ ایک سال میں یہ تیسری بار ہے کہ امریکی مذاکرات چھوڑ رہے ہیں۔ ’اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات دونوں فریقین مفاہمت تک پینچ گئے تھے لیکن اسے امریکی فریق نے سبوتاژ کیا۔‘

ان کے بقول: ’اور وہ (امریکی) پھر دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی دباؤ کی پالیسی کے ذریعے کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں لگ بھگ 20 گھنٹے مذاکرات ہوئے، جس کے بعد امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے  کہا کہ وہ ’حتمی اور بہترین پیشکش‘ سامنے رکھنے کے بعد واپس جا رہے ہیں۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں سے ایک انتہائی سادہ تجویز، افہام و تفہیم کے ایک طریقہ کار کے ساتھ جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔ ’میرا خیال ہے کہ ہم کافی لچک دار تھے۔ ہم نے کافی مفاہمت کا مظاہرہ کیا۔ صدر (ٹرمپ) نے ہم سے کہا تھا کہ آپ کو نیک نیتی کے ساتھ یہاں آنا چاہیے اور معاہدہ طے پانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔‘

ساتھ ہی انہوں کہا کہ ’ہم نے ایسا ہی کیا اور، بدقسمتی سے، ہم کوئی پیش رفت نہیں کر سکے۔‘

پاکستان کے ثالثی کے کردار کے بارے میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ’پاکستان نہایت مخلص ہے اور قومی سطح پر مضبوط عزم کے ساتھ، جس میں حکومت، وزیراعظم اور وزارتِ خارجہ شامل ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ایران اور امریکہ کے درمیان بامعنی مکالمہ قائم کر کے اس چیلنج اور تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ان کے مطابق پاکستان کا کردار انتہائی بنیادی اور نہایت اہم ہے۔

وفد کی تشکیل سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ امریکی وفد کی نوعیت پر منحصر ہوگا اور اس کے بعد ہم اپنے وفد کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت کی کامیابی کے حوالے سے امید کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ ’وہ اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔‘

ایرانی سفیر کے بقول: ’امریکیوں نے 2015 کے معاہدے کی بھی پاسداری نہیں کی اور دو مرتبہ مذاکرات کی میز چھوڑ کر ہم پر حملہ کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم مذاکرات میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں ان پر کوئی اعتماد یا بھروسہ نہیں ہوتا۔ اسی کے ساتھ ہم امریکہ یا اسرائیلی حکومت کی کسی بھی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جو کوئی بھی ہمارے سامنے آئے، ہم ایسے حقیقی مذاکرات چاہتے ہیں جن کے مثبت نتائج ہوں۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ صرف پاکستان ہی ثالث کیوں، کوئی اور مسلم ملک کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا کہ ’پچھلی بار عمان ثالث تھا اور کچھ مذاکرات وہاں ہوئے، لیکن امریکی میز چھوڑ کر چلے گئے۔ اس بار پاکستان نے خود پہل کی ہے اور سنجیدگی سے اس عمل کو آگے بڑھا رہا ہے، اور ہماری ترجیح یہ ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہی منعقد ہوں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *