خوبصورت لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں یا بدقسمت؟

خوبصورت لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی عام آدمی کی طرح اس دنیا میں اکیلے نہیں رہ سکتے، انہیں بات کرنے والا چاہیے ہوتا ہے، ساتھی، دوست، کوئی بھی، جس سے دل کا حال بانٹا جا سکے۔

مسئلہ تب ہوتا ہے جب وہ انسان، کہ جن سے بات کی جا رہی ہے، سمجھنے لگیں کہ چونکہ ان کو توجہ مل رہی ہے اس لیے دنیا بس اب انہی کی ہے۔

آپ غور کریں، اگر آپ کی شکل صورت عام سی ہے اور یونیورسٹی کے کسی کونے میں آپ کو روتے ہوئے پایا جائے تو آپ کے پاس ہمدردی کے لیے پہنچنے والوں کی تعداد اُتنی نہیں ہو گی جتنی ان کے پاس ہوتی جنہیں خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔

آئینہ جھوٹ نہیں بولتا اور جو بات میں کر رہا ہوں وہ باآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے۔

مقدمہ صرف اتنا سا ہے کہ شکل و صورت یا اپیئرنس میں بہتر انسان کو ہم مارجن ہی نہیں دیتے کہ وہ ہمارے علاوہ کسی اور سے گھل مل سکے۔

عشق عاشقی بہت دور کی بات ہے، ایسے لوگوں کے لیے دوستوں میں بھی باقاعدہ چھینا جھپٹی چلتی رہتی ہے، انہیں سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے، اگر وہ ایک کیمپ میں ہیں تو دوسرے میں نہیں ہو سکتے، دوسرے میں چلے گئے تو پہلے والے جانی دشمن بن جائیں گے۔

کیا کریں؟ فارسی میں کہتے ہیں جائے رفتن نہ پائے ماندن، جانے کی جگہ نہیں اور کہیں ٹھہر بھی نہیں سکتے۔

تو کُل ملا کے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اچھی شخصیت اور چہرہ جہاں زندگی میں ایک انسان کے لیے بہتر روزگار سمیت بہت سارے دروازے کھولتے ہیں وہیں کئی ایسے دروازے بند بھی کر دیتے ہیں جو ہم جیسے نارمل لوگوں کو ہر وقت کھلے دیکھنے کی عادت ہوتی ہے۔

آپ ایوریج ہیں تو کوئی آپ کو نوٹ ہی نہیں کرے گا، جب چاہیں جہاں جائیں، جدھر بیٹھیں، جو مرضی کریں، آپ گم ہیں اپنے جیسے بہت سے لوگوں میں، کوئی کبھی نہیں پوچھے گا۔

سب سے بڑی بات آپ نے اکیلے نہیں ہونا، کسی سے بات کرنی ہے تو آپ کو یہ خوف نہیں ہونا کہ اگلے نئے سرے سے سٹیکر نہیں بنیں گے، بات سن لی جائے گی، دکھ سکھ ہو جائے گا اور سامنے والے اپنا راستہ لیں گے، دروازہ پکڑ کے گارڈ نہیں بن جائیں گے۔ 

آپ کو خصوصی توجہ سے کوئی نوازے گا نہیں تو کوئی خاص امیدیں بھی آپ سے وابستہ نہیں ہوں گی۔ سُکھ میں آنا ہو گا ، سُکھی واپس جائیں گے اس دنیا سے، اللہ اللہ خیر صلا!

تو وہ جو گانے بنتے ہیں نا، از قسم، سوہنی صورت والے ہوندے کسے دے نہ یار! وہ غلط ہیں۔

اصل میں سوہنی صورت والا بے چارہ کوئی بھی ہو خود اس کا یار کوئی نہیں ہوتا، جو ہوتا ہے وہ پرلے درجے کا چوکیدار ہوتا ہے۔

خوبصورتی دیکھنے والوں کے لیے ایک فریب پیدا کرتی ہے جو یہ ہوتا ہے کہ اس انسان کی زندگی تو پرفیکٹ ہو گی، اس کے پاس بہت سے لوگ ہوں گے اور اس نے دکھ سکھ میں کبھی اکیلا پن دیکھا ہی نہیں ہو گا، حالانکہ سب سے زیادہ اکیلے عموماً سب سے زیادہ خوبصورت لوگ ہی ہوتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھئی دوسرے لوگ ہی جب آپ کے پاس آنے کے خیال سے ہی کانشس ہو جائیں، ان ایزی ہوں، جو آنے کی کوشش کریں وہ الٹی سیدھی حرکتیں کر کے توجہ حاصل کرنے کے چکر میں پٹ جائیں اور جو کسی طرح وہ حصار توڑ پائیں، قریب ہو جائیں، ان کی جیلسی نہیں مُکے۔ تو آپ نے کیا ہی کر سکنا ہے؟

آپ ترسیں گے کسی ایک تعلق کو ۔۔۔ جو ان سارے چکروں سے اوپر ہو، بس اس کے لیے وہ لوگ ساری عمر کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ان کے ٹرسٹ ایشوز بھی میرے آپ کے جیسے نہیں ہوتے۔ سوچیں، کوئی آپ کے نزدیک اس لیے ہے کہ آپ اسے ایک ٹرافی لگتے ہیں، ایک کامیابی لگتے ہیں، آپ کے وجود کا مقصد قریب موجود انسان کے لیے دوسروں کی توجہ حاصل کرنا ہے، وہ آپ کو اُس سے ہٹ کے کچھ سمجھے ہی نہ، جو پوری توجہ آپ کو ملتی ہو اس کا واحد مقصد ۔۔۔ وہی ٹرافی حاصل کرنے والا ہو ۔۔۔ تو آپ نے کس پر یقین کرنا ہے اور کیوں؟

آپ ٹوٹ جائیں گے ۔۔۔ چاہے آپ خوبصورتی سے بڑھ کے جتنے مرضی کاریگر انسان ہوں، سگھڑ ہوں، تعلیم یافتہ ہوں ۔۔۔ آپ کی واحد کوالیفیکیشن خوش قسمتی اور بدقسمتی سے صرف اور صرف وہی شکل ہو گی، اور آپ نے اینڈ آف دا ڈے اس کے ساتھ اکیلے ہونا ہے۔

تو خوبصورت لوگوں کے المیے کو سمجھیں اور صبح اذانوں تک مکیش کے گانے سننے کے بجائے جلدی سوئیں، سیانے ٹھیک کہتے ہیں، سارے مسئلے رات گیارہ کے بعد جاگنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *