اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائیوں اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق کیس میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کو نو ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی جانب سے تحریر کردہ دو صفحات پر مشتمل حکم نامے میں چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر، آئی جی اسلام آباد اور دیگر فریقین کو رپورٹ اور کمنٹس جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام فریقین سات روز میں اپنے کمنٹس عدالت میں جمع کرائیں جبکہ ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اس ضمن میں ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن سے شہر بھر میں شیشہ کیفیز کی تعداد اور غیر قانونی شیشہ کیفیز سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔
تحریری حکمنامے کے مطابق سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ’اسلام آباد کی حدود میں بڑی تعداد میں شیشہ کیفے کام کر رہے ہیں، جو لائسنس اور این او سی کی شرائط کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
’شیشہ کیفے ایچ آئی وی ایڈز سمیت دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کیفیز کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
عدالت نے درخواست کی نقل لا آفیسر کے حوالے کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی اگلی سماعت نو ستمبر کو مقرر کر دی ہے۔
کیس کی پہلی سماعت میں کیا ہوا؟
دو روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں فعال شیشہ کیفوں کی تعداد، این او سی کی خلاف ورزیوں اور ان کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات طلب کرنے سے متعلق درخواست پر ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے شہری عبدالجبار کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے درخواست گزار سے استفسار کیا تھا کہ وہ شیشہ کیفیز کی تعداد کیوں معلوم کرنا چاہتے ہیں؟
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں متعدد شیشہ کیفے قائم ہو چکے ہیں جہاں رات گئے تک پارٹیاں جاری رہتی ہیں، جبکہ بعض شیشہ کیفے این او سی کے بغیر بھی کام کر رہے ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی وزیر صحت کے مطابق رات گئے تک جاری رہنے والی ان پارٹیوں کے باعث ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ اداروں سے اسلام آباد میں قائم تمام شیشہ کیفوں کی مکمل تفصیلات طلب کی جائیں، یہ بھی بتایا جائے کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفوں کے خلاف اب تک کتنی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
دوسری جانب گذشتہ روز ضلعی انتظامیہ اسلام آباد میں احتساب کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن کے زیر صدارت افسران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں غیر قانونی شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائیوں سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
