کینیڈا کی ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے 17 جون 2026 کو صحافت میں بیچلرز ڈگری حاصل کرنے والی صبا اقبال کے لیے یہ محض ایک ڈگری نہیں تھی بلکہ ان کے اس خواب کی تکمیل کی جانب پہلا قدم تھا جو ان کے بھائی مشال خان اپنی زندگی میں پورا نہ کر سکے۔
مشال خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں شعبہ صحافت کے طالب علم تھے جنہیں 13 اپریل 2017 کو توہینِ مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے اندر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے تھے۔
اس واقعے نے پاکستان میں اظہارِ رائے، جامعات میں عدم برداشت اور ہجوم کے تشدد پر طویل بحث کو جنم دیا تھا۔
تقریباً نو برس بعد ان کی بہن نے اسی شعبے میں ڈگری مکمل کرتے ہوئے صحافت کو اپنا پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صبا اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بھائی کے قتل نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ’جس رات مشال خان کی لاش ہمارے سامنے تھی، میں نے اسی رات فیصلہ کیا تھا کہ میں صحافت پڑھوں گی۔‘
ان کے مطابق مشال خان صحافت کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا ذریعہ سمجھتے تھے اور وہ خواتین کے حقوق، تعلیم، سماجی ناانصافی، انتہا پسندی اور نوجوانوں کو درپیش مسائل ایسے موضوعات تھے پر گفتگو کرتے اور سوال اٹھاتے تھے۔
صبا اقبال کہتی ہیں کہ وہ انہی موضوعات کو اپنی صحافتی زندگی کا مرکز بنانا چاہتی ہیں تاکہ ایسے لوگوں کی آواز بن سکیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بقول اگر ان کی صحافت ان مسائل کو اجاگر کر سکی جن پر مشال خان بات کرنا چاہتے تھے تو وہ اسے اپنے بھائی کے ادھورے خواب کا تسلسل سمجھیں گی۔
مشال خان کے والد اقبال خان اپنی بیٹی کی کامیابی کو خاندان کے لیے ایک غیر معمولی لمحہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک دہائی پہلے ان کا بیٹا صحافت کا طالب علم تھا، لیکن ہجوم کے تشدد نے اس کا مستقبل چھین لیا، جبکہ آج ان کی بیٹی نے اسی شعبے میں ڈگری حاصل کر کے اس سفر کو آگے بڑھایا ہے۔
ان کے بقول مشال خان کی موت نے خاندان کو شدید صدمہ پہنچایا، لیکن صبا نے اسی غم کو اپنی طاقت بنایا۔
صبا اقبال کا کہنا ہے کہ مشال خان صرف ان کے بڑے بھائی نہیں بلکہ ان کے استاد بھی تھے۔ وہ ہمیشہ اپنی بہنوں کو تعلیم حاصل کرنے، سوال پوچھنے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
’میرے بھائی خواتین کی تعلیم اور برابری پر یقین رکھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ پاکستان واپسی پر ان کی پہلی منزل مشال خان کی قبر پر حاضری ہو گی ’میں سب سے پہلے اپنے بھائی کی قبر پر جاؤں گی کیونکہ یہ کامیابی صرف میری نہیں، ان کے خواب کی بھی ہے۔‘
صبا اقبال کے مطابق صحافت کی ڈگری ان کے لیے منزل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا آغاز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سچائی، انصاف اور انسانی حقوق سے متعلق موضوعات پر کام کرنا چاہتی ہیں تاکہ ’کوئی اور بے گناہ مشال خان کی طرح اپنی آواز بلند کرنے کی قیمت جان دے کر ادا نہ کرے۔‘
