اردن کے جنوبی علاقے كرك میں جمعے کو ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم سات افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 10 زخمی ہوئے، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے حکام کے حوالے سے چھ افراد کی موت اور 28 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
اے پی کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دارالحکومت عمان سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب میں واقع كرك کے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں پیش آیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
دوسری جانب روئٹرز نے اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل المملکہ کے حوالے سے بتایا کہ دو مسلح افراد ایک گاڑی سے اترے اور كرك کے حمود چرچ کے اندر جنازے میں شریک افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔
عینی شاہد نے کیا بتایا؟
جنازے میں شریک خالد برقان نے المملکہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ وہاں درجنوں افراد موجود تھے، جب دو مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔
خالد برقان کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کے پاس رائفل جبکہ دوسرے کے پاس پستول تھا اور دونوں نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔
روئٹرز نے المملکہ کے حوالے سے بتایا کہ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز چرچ پہنچ گئیں اور مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔
حملہ آور کون تھے؟
اے پی کے مطابق اردن کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ نامعلوم افراد نے کیا اور واقعے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم حکومتی بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی حملہ آور کو گرفتار کیا گیا یا وہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا۔
حملے کی فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ اردنی حکام نے بھی حملہ آوروں کی شناخت یا ان کے ممکنہ مقاصد کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اے پی کے مطابق كرك میں مسیحی اقلیت بھی آباد ہے اور اس علاقے میں ماضی میں بھی مسلح حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
دسمبر 2016 میں مسلح افراد نے كرك میں پولیس کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں میں سیاحوں میں مقبول ایک تاریخی صلیبی قلعہ بھی نشانہ بنا تھا۔
ان حملوں میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جبکہ طویل مقابلے کے بعد اردن کی سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو مار دیا تھا۔
