پاکستان کا سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

پاکستان نے جمعے کو سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بھی حمایت کرتا ہے اور تنازع کے دیرپا حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی تصفیے کو ضروری سمجھتا ہے۔

ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم سعودی عرب پر حملوں کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں اور مملکت کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور مستقل رہا ہے۔

’ہم یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تنازع کا دیرپا حل صرف بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے سیاسی تصفیے سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان مسلسل کشیدگی میں کمی کی وکالت کرتا رہا ہے اور امن کی بحالی کے لیے تمام قابل اعتبار سفارتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بامعنی سفارتی روابط کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جو تنازع کے خاتمے اور پائیدار سیاسی تصفیے کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے دوران کیے گئے۔

حوثیوں کی پیش قدمی سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب میں تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان لڑائی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے شمالی حصے کے بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔ یہ لڑائی اب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں خطے میں کشیدگی کا ایک اور محاذ بن گئی ہے۔

امریکہ ایران کشیدگی

امریکہ اور ایران سے متعلق پابندیوں کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی اور ملکی قانون کے مطابق تمام قابل اطلاق پابندیوں کی پابندی کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی اور بین الاقوامی قانون پر مبنی قواعد کے تحت قائم عالمی نظام سے اپنے عزم کی توثیق کرتا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل اور تعمیری رابطے میں ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی و اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں فریقوں پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، زیر التوا معاملات بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی توثیق اور اس پر عمل درآمد کے معاملات تینوں ممالک کے درمیان زیر بحث ہیں۔ ان امور پر پانچ اکتوبر کو ہونے والے سٹریٹیجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بھی بات چیت ہوئی تھی۔

سجاد حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب توثیق کے مراحل مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترکی اپنے داخلی قانونی ڈھانچے کے مطابق ضروری طریقہ کار پر عمل کر رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *