پاکستان اور 10 دیگر ممالک نے جمعے کو غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پاکستان، ترکی، برازیل، اردن، سپین، ملائیشیا، بنگلہ دیش، کولمبیا، مالدیپ، جنوبی افریقہ اور لیبیا کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک پرامن شہری اور انسانی ہمدردی کا اقدام تھا جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ غزہ میں انسانی المیے کی جانب مبذول کرانا تھا۔
مشترکہ بیان کے مطابق: ’بحری جہازوں پر اسرائیلی حملے اور بین الاقوامی پانیوں میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست عالمی قانون اور عالمی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
بیان میں شہری کارکنوں کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان کی فوری رہائی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ، عالمی قانون کی بالادستی اور اس کی خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنانے کے لیے اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔
پاکستان نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر امدادی فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں عالمی پانیوں میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو غیر قانونی طور پر روکنے اور اس پر سوار کارکنوں کی غیر قانونی حراست کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Bangladesh, Brazil, Colombia, Jordan, Libya, Malaysia, Maldives, South Africa, Spain and Turkiye Regarding the Israeli Assaults on the Global Sumud Flotilla, 30 April 2026
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 30, 2026
انہوں نے کہا کہ ’قابض اسرائیلی طاقت‘ کی جانب سے عالمی قانون کی یہ کھلی خلاف ورزی اور انسانی امداد کی فراہمی میں دانستہ رکاوٹ ایک بار پھر اسرائیل کے مسلسل استثنیٰ کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کی جانب سے عالمی قانون کی بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کو ختم کرانے، غزہ کا محاصرہ اٹھانے اور فلوٹیلا پر سوار تمام امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کی فوری رہائی یقینی بنانے کے لیے مداخلت کرے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گلوبل صمود فرانس کی ترجمان ہیلن کورون نے اس سے قبل ایک آن لائن پریس کانفرنس میں بتایا کہ غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روکنے کا آپریشن یونانی جزیرے کریٹ کے قریب، غزہ کے ساحل سے ایسے فاصلے پر ہوا جس کی ’مثال نہیں ملتی‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب اسرائیل نے جمعرات کو کہا کہ کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا پر اس کی فوج کی جانب سے روکے گئے درجنوں کارکنوں کو یونان لے جایا جائے گا۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ 20 سے زائد کشتیوں سے لگ بھگ 175 کارکنوں کو اتارا گیا ہے۔
یہ فلوٹیلا غزہ پر اسرائیل کا محاصرہ توڑنے کے خواہاں فلسطین حامی کارکنوں کی تازہ ترین کوشش تھی، منتظمین کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 211 ہے جن میں پیرس کی ایک سٹی کونسلر بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون ساعر نے ایکس پر لکھا کہ ’یونانی حکومت کی مشاورت سے، فلوٹیلا کے بحری جہازوں سے اسرائیلی جہاز میں منتقل کیے گئے افراد کو آنے والے گھنٹوں میں یونان کے ایک ساحل پر اتار دیا جائے گا۔‘
