صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں واقع ایک سرکاری طبی مرکز میں کھڑی ایمبولینس کے اندر آکسیجن سیلنڈر پھٹنے سے کم از کم 10 افراد جان سے گئے، جن میں طبی مرکز کا ایک مریض بھی شامل تھا۔
پولیس اور ہسپتال کے حکام نے جمعرات کو واقعے کی تصدیق کی۔
ضلع تھرپارکر کے پولیس سربراہ عارف عزیز کے مطابق دھماکہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہوا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے بتایا کہ جان سے جانے والوں میں طبی مرکز کا عملہ، مریض اور ان کے رشتہ دار شامل ہیں۔
مقامی پولیس افسر خلیل ابڑو نے بتایا کہ دھماکے کے وقت مریضوں کو دوسرے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔
سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہونے والی تصاویر میں ایک گاڑی کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے، جس کا ایک دروازہ کھلا ہوا تھا۔
ایک اور تصویر میں عمارت کے باہر گاڑی کا جلا ہوا ڈھانچا دکھائی دے رہا ہے جبکہ قریب ہی کچھ لوگ کھڑے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے فوری اور شفاف تحقیقات کا کہا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے حکام پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔
انہوں نے جان سے جانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
رواں سال اگست میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ایئرکنڈیشنر پھٹنے سے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جان سے گئے تھے۔
وارڈ سے زندہ نکالے جانے والے واحد بچے کی بھی چند ہفتوں بعد موت ہو گئی تھی، جس کے بعد امواتے کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی تھی۔
