پاکستان کا خطے میں کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی پر زور

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور تمام زیر التوا معاملات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی حمایت کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کو ایران اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کو ایران کے جوہری معاملے کی صورت حال میں تیزی سے بگاڑ پر تشویش ہے، جس سے اس معاملے پر غور و خوض بھی متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسلسل مؤقف رہا ہے کہ عدم تعمیل سے متعلق کسی بھی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) جیسے مجاز تکنیکی اداروں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اس عمل میں متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔

عثمان جدون نے زور دیا کہ آئی اے ای اے کو اپنے تکنیکی دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ متعلقہ معاملات کو غیر سیاسی انداز میں دیکھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔ زیر التوا معاملات کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے، پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے اور بامعنی مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور تمام فریق کسی قابل قبول حل کی جانب پیش رفت کریں۔

انہوں نے جون میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سفارتی کوششوں کی کامیابی کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے متنازع معاملات کے حل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عثمان جدون نے اس عمل میں قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر، چین اور دیگر شراکت داروں کے تعاون کو سراہا اور ان ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کا مذاکرات کے ذریعے ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتا ہو، جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو برقرار رکھے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں مدد دے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کا پرامن حل ممکن ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقوں کی جانب سے سنجیدہ، مسلسل کوششوں اور مذاکرات کے لیے آمادگی کی ضرورت ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *