پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی تیاری نہیں، آج یا کل راہ فرار کا اعلان کر دیں گے: فیصل کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعے کو کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں ہے اور پارٹی کے لیڈرز راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے 27 مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز بھی طلب کی گئی ہے۔

اسی دوران پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے مختلف رہنماؤں کی مبینہ حراست یا اغوا کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں اور خاندان کے دیگر افراد کو لاہور میں 30 روز کے لیے نظربند کر دیا گیا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا: ’پارٹی کے لیڈران چھپ چکے ہیں، انہوں نے خودساختہ روپوشی اختیار کر لی ہے، کوئی دائیں بائیں سے فون کروا رہا ہے کہ ہمیں گرفتار کریں تاکہ ہم لانگ مارچ سے بچ سکیں، لہذا مجھے لگتا ہے کہ وہ راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

’آج یا کل شاید وہ راہ فرار اختیار کرنے کا اعلان کر دیں، لہذا مجھے لگتا ہے کہ یہ بغیر کسی پلان کے ہیں۔ لانگ مارچ ایسے ہوتے ہں  کہ آپ کے سارے پارلیمینٹیرین اسلام آباد میں مٹر گشت کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں گرفتار کر رہے ہیں، یہ ہو رہا ہے۔۔۔وہ خود گرفتاریاں دے رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیصل کنڈی نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے لانگ مارچ سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا: ’اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم 10 لاکھ، 20 لاکھ بندے لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو انہیں اپنے حلقے میں ہونا چاہے، وہ تو اسلام آباد کے کیفیز میں بیٹھ کر گپیں مار رہے ہیں اور وہاں سے سوشل میڈیا پر لانگ مارچ کروا رہے ہیں۔‘

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے پولیس ایکٹ 2026 پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں۔‘

خیبر پختونخوا کابینہ نے بدھ کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سمیت پولیس پالیسی اور آپریشنز سے متعلق اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ کے اختیار میں دینے کی بات کی گئی ہے۔

فیصل کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کابینہ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’میری پولیس مردانہ وار لڑ رہی ہے، سب سے کم تنخواہیں میرے صوبے کی پولیس ہیں، انہیں مراعات نہیں دے سکتے لیکن آپ چاہتے ہیں کہ پولیس بس میرے تابع ہو۔ کیا اس قانون پر کسی اور صوبے میں عملدرآمد ہوا ہے؟‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’میرے پاس آ(یہ ایکٹ) آیا تو میں کبھی بھی اسے منظور نہیں کروں گا۔ ہم پولیس کے سپاہیوں کا تحفظ کریں گے اور اس ایکٹ کے درمیان دیوار بنیں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *