فرانسیسی فٹ بالر کیلیان ایمباپے کی جانب سے ماؤ زے تنگ سے متعلق اپنے تبصروں پر معافی مانگنے کے باوجود چین کے سوشل میڈیا پر بدھ کو غصہ کم نہ ہو سکا۔ ان تبصروں کے نتیجے میں وہ چین کی بڑی مارکیٹ میں کئی تجارتی معاہدوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
چین کے سابق رہنما کی وفات کے 50 سال بعد بھی ماؤ کا مذاق اڑانا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ کئی چینی برانڈز نے ایمباپے سے تعلق ختم کر دیا ہے جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن نے سپین کی فٹ بال لیگ کی نشریات بھی منسوخ کر دی ہیں۔
ریال میڈرڈ کے کھلاڑی نے منگل کو اپنے اس بیان پر معافی مانگی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان سے متعلق انٹرنیٹ پر سب سے مضحکہ خیز میم وہ تھی جس میں ان کے چہرے کو فوٹو شاپ کے ذریعے ’کسی شخص، میرے خیال میں وہ کوئی چینی آمر ہے‘ کے چہرے پر لگا دیا گیا تھا۔ بظاہر یہ اشارہ ماؤ زے تنگ کی جانب تھا۔
ایمباپے کا اصل مذاق چین کے سخت کنٹرول والے سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ نہیں کیا گیا، یا اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ سرکاری میڈیا نے بھی ماؤ کا کوئی حوالہ دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ فٹ بالر نے ’چین سے متعلق نامناسب ریمارکس‘ دیے تھے۔
تاہم بدھ کو بھی ایمباپے کو چینی صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر ایک صارف نے لکھا: ’ان کے ریمارکس چین اور چینی عوام کے لیے تکلیف دہ تھے، اس لیے ان کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
دوسری جانب چین کی سوشل میڈیا ایپ شیاؤہونگشو نے ایمباپے کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا ہے، جہاں ان کے 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ اس اقدام کے بعد اب ان کے اکاؤنٹ پر نئے فالوورز شامل نہیں ہو سکتے۔
ویبو پر بھی ایسا ہی کیا گیا، جہاں ایک نوٹس میں کہا گیا: ’قوانین یا ویبو کمیونٹی کنونشن کی خلاف ورزی کے باعث اس صارف کو فالو کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
بعض چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائر اور ہبلوٹ جیسے عالمی برانڈز نے بھی ویبو سے ایمباپے سے متعلق اپنا مواد ہٹا دیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اے ایف پی کی جانب سے ڈائر اور ہبلوٹ کے ویبو صفحات پر ایمباپے کے چینی نام سے کی گئی تلاش میں کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
آن لائن دنیا کے علاوہ دکانوں سے بھی ایمباپے کی برانڈ شناخت غائب ہوتی دکھائی دی۔
اے ایف پی نے جب بیجنگ کے سانلیتون شاپنگ ڈسٹرکٹ میں ایڈیڈاس کے مرکزی سٹور کا دورہ کیا تو ریال میڈرڈ کی شرٹس فروخت کے لیے موجود تھیں، لیکن ان میں سے کسی پر ایمباپے کا نام درج نہیں تھا۔
تاہم ریٹیل ایپ تاؤباؤ پر ایمباپے سے متعلق سامان اب بھی دستیاب ہے، جس میں غیر سرکاری شرٹس، اونی ٹوپیاں اور کیپس شامل ہیں۔
چین کا سرکاری میڈیا اس سے قبل ایمباپے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’فٹ بال کی سنسنی‘ اور ’باصلاحیت‘ کھلاڑی قرار دے چکا ہے جبکہ چین میں شائقین کے درمیان بھی یہ سٹرائیکر خاصا مقبول رہا ہے۔
ان کا چہرہ بل بورڈز، الیکٹرولائٹ مشروبات کے اشتہارات اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر نظر آتا رہا ہے۔
ایمباپے کو بعض اوقات محبت سے ’گوئی گوئی‘ بھی کہا جاتا ہے، جس کا چینی زبان میں مطلب ’کچھوا‘ ہے۔ یہ عرفیت انہیں فلم ’ٹین ایج میوٹنٹ ننجا ٹرٹلز‘ کے ایک کردار سے مشابہت کی وجہ سے دی گئی ہے۔
چین نے بدھ کو کہا کہ وہ سابق رہنما ماؤ زے تنگ کا مذاق اڑانے سے متعلق تبصروں پر فٹ بال سٹار کیلیان ایمباپے کی جانب سے مانگی گئی معافی کو ’سنجیدگی سے‘ لیتا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا: ’متعلقہ شخص کی جانب سے مانگی گئی معافی کو ہم سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘
