کبھی زندگی کی تیز رفتار دوڑ سے نکل کر چند لمحوں کے لیے ٹھہریے۔ اپنی خواہشوں، محرومیوں اور شکایتوں سے نگاہ ہٹا کر اپنے اردگرد دیکھیے۔ ممکن ہے آپ کو پہلی بار احساس ہو کہ جس زندگی کو آپ نامکمل سمجھ کر گزار رہے ہیں، اس میں آسودگی کے کتنے چراغ روشن ہیں۔
جن نعمتوں کو آپ روزمرہ کا معمول سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی چھن جائے تو زندگی کا سارا منظر بدل سکتا ہے۔ مگر ہم عجیب لوگ ہیں۔ جو حاصل ہے، اس کی قدر نہیں کرتے اور جو حاصل نہیں، اسی کے غم میں گھلتے رہتے ہیں۔
شکر گزاری محض زبان سے الحمدللہ کہہ دینے کا نام نہیں، یہ زندگی کو دیکھنے کا ایک زاویہ اور اپنے حصے کی خوشیوں کو پہچاننے کا سلیقہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی زندگی میں کوئی دکھ، محرومی یا خواہش باقی نہ رہے بلکہ یہ کہ دکھوں کو اپنی خوشیوں پر اس قدر حاوی نہ ہونے دیا جائے کہ موجود نعمتیں نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں۔
ذرا اپنی صبح کا تصور کیجیے۔ آنکھ کھلتی ہے، سانس رواں ہے، بدن حرکت کرتا ہے، پاؤں آپ کو منزل تک لے جا سکتے ہیں اور آنکھیں اپنے پیاروں کے چہرے دیکھ سکتی ہیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ ان نعمتوں پر غور کرتے ہیں؟ صحت مند انسان کے لیے چلنا پھرنا معمول کی بات ہے، مگر کسی ہسپتال میں زیرِ علاج مریض سے پوچھیے کہ بے تکلف چل سکنا، درد سے آزاد رات گزارنا اور اپنے ہاتھ سے پانی کا گلاس اٹھا لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ بعض نعمتوں کی عظمت ہمیں ان کے چھن جانے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ کاش، ہم کھونے سے پہلے قدر کرنا سیکھ جائیں!
پھر اولاد ہے، گھر کی رونق اور زندگی کی سب سے نازک خوشیوں میں سے ایک۔ بچے کا صحت مند ہونا، اس کا ہنسنا کھیلنا، سکول جانا اور اپنے خوابوں کی طرف قدم بڑھانا کتنی بڑی نعمت ہے۔ کتنے والدین اپنے بچوں کی صحت کے لیے دعائیں مانگتے ہیں، کتنے کسی ایک مسکراہٹ کے انتظار میں دن گزار دیتے ہیں۔ ایسے میں ہم اپنی اولاد کے نمبروں، لباس، سکول اور آسائشوں کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہوئے کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ جس نعمت کے لیے کسی زمانے میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا مانگی تھی، آج اسی کی موجودگی کو معمول سمجھ بیٹھے ہیں؟
تعلیم بھی ایک ایسی دولت ہے جس کی قدر اکثر اسے میسر آنے کے بعد کم ہو جاتی ہے۔ کتاب پڑھ سکنا، اپنے خیالات لکھ سکنا، دنیا کو سمجھنا اور اچھے برے میں امتیاز کرنا معمولی باتیں نہیں۔ کتنے بچے بستہ اٹھانے کی عمر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، کتنے نوجوان وسائل نہ ہونے کے باعث اپنی صلاحیتوں کو پروان نہیں چڑھا سکتے۔ اگر ہمیں تعلیم، استاد کی رہنمائی اور آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے تو اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے علم کو دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بنائیں۔ علم کا کمال صرف سند حاصل کرنا نہیں، انسان کو انسان کے کام آنے کے قابل بنانا ہے۔
اب اپنے گھر اور دسترخوان کی طرف دیکھیے۔ سر چھپانے کو چھت، تن ڈھانپنے کو لباس اور کھانے کو دو وقت کی باعزت روٹی میسر ہے تو یہ سب بھی شکر کے مستحق ہیں۔ کسی ماں کے لیے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دینا دن بھر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ کسی باپ کے لیے شام کو گھر لوٹتے ہوئے یہ اطمینان ہی بہت ہے کہ آج بچوں کی روٹی کا بندوبست ہو گیا۔ ہم دسترخوان پر بیٹھ کر کبھی کھانے میں نقص نکالتے ہیں، کبھی پسند کا سالن نہ ہونے پر منہ بنا لیتے ہیں، مگر شاید ہی سوچتے ہوں کہ یہ لقمہ کتنے ہاتھوں کی محنت سے ہم تک پہنچا ہے۔
روٹی کی قدر صرف بھوک جاننے سے نہیں، اس محنت کو پہچاننے سے بھی ہوتی ہے جو اسے ہمارے سامنے لاتی ہے۔ کسان، مزدور، دکان دار اور کھانا پکانے والے ہاتھ، سب اس سفر کا حصہ ہیں۔ شکر گزاری کا تقاضا ہے کہ ہم کھانے کی بے حرمتی نہ کریں، رزق ضائع نہ کریں اور اپنی آسودگی کے ساتھ ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جن کے لیے ایک وقت کی روٹی کا انتظام بھی دشوار ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رزق کی بات چلے تو ایک اور نعمت کا ذکر ضروری ہے یعنی حلال کمائی۔ آمدنی کم ہو، مگر محنت کی ہو۔ گھر سادہ ہو، مگر ضمیر مطمئن ہو۔ ضروریات محدود ہوں، مگر کسی کا حق مار کر پوری نہ کی گئی ہوں، تو یہ ایسی آسودگی ہے جسے دولت کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ حلال کی کمائی سے خریدی ہوئی سادہ روٹی میں بھی ایک وقار ہے۔ البتہ شکر گزاری کا مطلب اپنی تنگ دستی پر خاموش رہنا نہیں بلکہ جائز کوشش کرنا، بہتر مواقع تلاش کرنا اور اپنی حالت سنوارنے کے لیے جدوجہد کرنا بھی زندگی کی ذمہ داری ہے۔
اور پھر پرسکون نیند! دن بھر کی تھکن کے بعد بستر پر لیٹنا، گھر والوں کی خیریت کا اطمینان، کسی فوری خطرے کا خوف نہ ہونا اور یہ امید کہ صبح ایک نیا دن لے کر آئے گی۔ کتنے لوگ آسائشوں کے درمیان رہ کر بھی ذہنی سکون سے محروم ہیں۔ زندگی کا اطمینان ہمیشہ نرم بستر، بڑے گھر یا بھری ہوئی تجوری سے نہیں آتا۔ کبھی یہ ضمیر کی پاکیزگی، رشتوں کے خلوص اور دل کے سکون میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
ہماری زندگی میں ایسی نعمتیں بھی ہیں جنھیں ہم شمار نہیں کرتے۔ مشکل وقت میں دوست کا ساتھ دینا، پڑوسی کا ہماری غیر موجودگی میں گھر کا خیال رکھنا، کسی ساتھی کا ہماری محنت کو تسلیم کرنا، کسی اجنبی کا پریشانی دیکھ کر مدد کے لیے رک جانا، یا کسی عزیز کا محض خیریت پوچھ لینا۔ یہ چھوٹے چھوٹے واقعات زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔ افسوس کہ ہم ان کی موجودگی میں قدر نہیں کرتے اور ان کے فقدان پر شکوہ کرنے لگتے ہیں۔
آخر ہم ناشکرے کیوں ہو جاتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہماری نگاہ ہمیشہ اس چیز پر رہتی ہے جو ابھی حاصل نہیں ہوئی۔ کبھی ملازمت کی خواہش تھی، وہ پوری ہوئی تو عہدے کی فکر لاحق ہو گئی۔ کبھی چھوٹا سا گھر خواب تھا، گھر ملا تو بڑا گھر مطلوب ہو گیا۔ اپنی کامیابیوں کو ہم جلد معمول سمجھ لیتے ہیں، لیکن دوسروں کی آسائشیں ہمیں مسلسل اپنی محرومیوں کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ یوں خواہشوں کا سفر ختم نہیں ہوتا اور شکر کا لمحہ ہاتھ نہیں آتا۔
خواہش کرنا غلط نہیں، ترقی کی آرزو بھی بری نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مزید حاصل کرنے کی جستجو میں ہم اپنے موجودہ حاصل کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی ہماری ناکامی کا ثبوت نہیں، نہ ہر شخص کی زندگی کا راستہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ شکر گزار انسان کوشش ترک نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے راستے میں کھلے پھولوں کو دیکھنا نہیں بھولتا۔
شکر گزاری کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔ اگر ہمیں روٹی میسر ہے تو کسی بھوکے کو کھلانے کی کوشش کریں۔ اگر تعلیم حاصل کی ہے تو کسی بچے کی رہنمائی کریں۔ اگر ہمارے پاس محبت کرنے والے رشتے ہیں تو ان کی قدر کریں اور اگر کسی نے ہمارے لیے آسانی پیدا کی ہے تو ہم بھی کسی کے لیے آسانی پیدا کریں۔ شکر صرف نعمت کا اعتراف نہیں، اسے درست طور پر استعمال کرنے کا نام بھی ہے۔ جو شخص اپنی آسودگی کو دوسروں کی محرومی سے بے نیاز ہو کر دیکھتا ہے، اس نے شکر کے ایک اہم تقاضے کو ابھی سمجھنا ہے۔
کبھی دن کے اختتام پر خود سے تین سوال کیجیے: آج مجھے کون سی نعمت میسر رہی؟ کس نے میرے لیے آسانی پیدا کی؟ اور میں نے کس کے لیے آسانی پیدا کی؟ ممکن ہے، جواب میں کوئی بڑی کامیابی نہ ہو، بس بچوں کی ہنسی، کسی دوست کی خیریت، دسترخوان پر رکھی روٹی یا ایک پرسکون شام ہو۔ لیکن زندگی کی بڑی معنویت اکثر ان ہی چھوٹے لمحوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
ہم نہیں جانتے کہ آنے والا کل کیا لے کر آئے گا۔ اس لیے صحت کی قدر بیماری کے بعد، اپنوں کی محبت کی قدر جدائی کے بعد اور رزق کی قدر تنگ دستی کے بعد کرنے کی بجائے آج کیجیے۔ جو نعمت میسر ہے، اسے پہچانیے۔ جو نہیں ہے، اس کے لیے کوشش کیجیے اور جو کچھ آپ کے پاس ہے، اس میں سے دوسروں کو بھی حصہ دیجیے۔
زندگی کی خوش حالی ہمیشہ زیادہ حاصل کرنے میں نہیں، کبھی کبھی جو کچھ حاصل ہے، اس کی قدر پہچان لینے میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ممکن ہے، ہمارے پاس وہ سب کچھ نہ ہو جس کی ہمیں خواہش ہے، مگر ہمارے پاس وہ بہت کچھ ضرور ہو جس کے لیے کوئی دوسرا مدت سے دعاگو ہے۔ شکر گزاری کا اصل ہنر یہ ہی ہے کہ انسان مزید کی جستجو میں اپنے موجودہ حصے کی قدر کرنا نہ بھولے۔ کیوں کہ کبھی زندگی کی سب سے بڑی محرومی نعمتوں کا نہ ہونا نہیں بلکہ نعمتوں کے درمیان رہ کر بھی ان سے بے خبر رہنا ہوتا ہے۔
مصنف ماہرِ تعلیم، محقق اور کالم نگار ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اس وقت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے منسلک ہیں۔

