کوئٹہ: کم وقت میں مدمقابل کی ’چال کا جواب‘ دینے والے آٹھ سالہ عبدالرحمن

شطرنج قسمت کی بجائے صرف اور صرف سوچ، حکمت عملی اور حاضر دماغی کا کھیل ہے۔ اسی کھیل کی بدولت بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ سالہ عبدالرحمٰن عالمی چیمپیئن بننے کے لیے بے تاب ہیں۔

عبدالرحمٰن کا آبائی تعلق پشین سے ہے لیکن آج کل وہ کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ایک پرائیویٹ سکول میں دوسری کلاس کے طالب علم ہیں اور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔

ان کے دو بڑے بھائی بھی اسی سکول میں پڑھتے ہیں اور انہیں بھی شطرنج کا بہت شوق ہے۔ جب بھائی ہوم ورک سے فارغ ہونے کے بعد شطرنج کھیلتے تو عبدالرحمن بھی دلچسپی سے انہیں دیکھتے رہتے، یہیں سے اسے بھی اس کھیل کا شوق پیدا ہوا۔

دو سال تک مسلسل کھیلنے کے بعد عبدالرحمٰن نے اس کھیل میں حیرت انگیز مہارت حاصل کر لی ہے۔ ان کے بڑے بھائی اور شطرنج کے کھلاڑی محمد ریحان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عبدالرحمٰن بہت کم وقت میں مدمقابل کی چال کا جواب دیتے ہیں۔

محمد ریحان کا کہنا ہے کہ ’عبدالرحمٰن کی مہارت کا یہ عالم ہے کہ اب ہم دونوں بھائی گھر میں اس سے بہت کم ہی جیت پاتے ہیں۔ وہ سکول میں بھی اپنی عمر سے بڑے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو باآسانی ہرا دیتا ہے۔‘

عبدالرحمٰن نے بتایا کہ انہوں نے شطرنج گھر پر اپنے بھائیوں سے سیکھی۔ وہ روزانہ ایک گھنٹہ پڑھتے ہیں اور پھر چاروں بھائی آپس میں شطرنج کے مقابلے کرتے ہیں۔

عبدالرحمٰن کے بقول: میں شطرنج کے عالمی چیمپیئن میگنس کارلسن سے بے حد متاثر ہوں۔ بڑا ہو کر عالمی ٹائٹل جیتنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ وہ میگنس سے مقابلہ کروں۔‘

جس سکول میں عبدالرحمٰن زیر تعلیم ہیں اس کے ڈائریکٹر فرحان خان یوسفزئی نے بتایا کہ 2023 میں اسلام آباد سے تعلیم مکمل کر کے کوئٹہ واپسی پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو ایسی سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے جس سے ان کی ذہنی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں۔

فرحان خان کا کہنا ہے کہ ’اکثر کھیلوں میں دماغ کا استعمال کم اور قسمت کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے، لیکن شطرنج خالصتاً دماغی کھیل ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سکول میں شطرنج کا آغاز صرف پانچ بچوں سے کیا تھا جنہیں وہ مختلف ٹورنامنٹس کھلاتے رہے۔ اب لڑکیوں سمیت یہ تعداد 60 تک پہنچ چکی ہے اور انہی میں ایک عبدالرحمن بھی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرحان یوسفزئی کے مطابق بلوچستان میں شطرنج کے ٹرینرز نہ ہونے کے برابر ہیں اور نہ ہی صوبائی سطح کے کھیلوں میں اسے کوئی خاص اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ شطرنج کی تنظیمیں موجود ہیں لیکن کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت ٹورنامنٹس میں حصہ لیتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 25 کروڑ کی آبادی میں آج تک کوئی بین الاقوامی سطح کا شطرنج کھلاڑی پیدا نہیں ہو سکا، تاہم انہیں امید ہے کہ بلوچستان کے بچے یہ کمی ضرور پوری کریں گے۔

فرحان خان نے حکومت اور سپورٹس بورڈ سے اپیل کی کہ عبدالرحمن اور دیگر باصلاحیت بچوں کی سرپرستی کی جائے۔ انہیں کوئٹہ کی بجائے لاہور، کراچی یا اسلام آباد کی اکیڈمیوں میں ماہرین سے تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں، اگر ایسا ہوا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان شطرنج کا عالمی ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *