پاکستان میں آج کل فلم انڈسٹری کو زندہ کرنے کے لیے بڑی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں میں، بڑے بڑے فنڈز کی بڑی آسان فراہمی پہلا قدم ہے۔
دوسرے قدم کے طور پہ فلم سٹیز کا قیام نظر آرہا ہے۔ کچھ فلمیں بنی، کچھ بن رہی ہیں، کچھ بننے والی ہیں۔ ایک فلم جو سندھ گورنمنٹ کی طرف سے بنی اس میں میری لکھی ہوئی فلم بھی شامل ہے۔
یہ فلمیں کیسی تھیں؟ یہ بتانا ناقدین کا کام ہے۔ میں صرف یہ بتانا چاہ رہی ہوں کہ فلم بن رہی ہے۔ اچھی، بری، یہ وقت بتائے گا۔ گئے وقتوں میں ہماری اور انڈیا کی فلمیں تقریباً ایک جیسی ہوا کرتی تھیں۔
میں اردو، ہندی فلمز کی بات کر رہی ہوں۔ پھر ہماری فلموں کو لقوہ مار گیا۔ فلمز تو بنیں مگر وہ کیوں بنیں اور ان کا فلم ساز کیا کہنا چاہتا تھا یہ کچھ واضح نہ ہو پایا۔
فلم کیا ہے؟ یہ بھی ایک سوال ہے۔ فلم ایک کہانی ہے، جسے سنانے کے لیے اس کا خالق ایک ایسی تمثیل تخلیق کرتا ہے، جس کا کینوس عام زندگی سے بڑا ہوتا ہے۔
ہماری روزمرہ زندگی سے ہر شے بڑی ہوتی ہے۔ پچاس فٹ کی ہیروئین، پچاس فٹ کا ہیرو۔ بلند آواز، تیز روشنی، دوڑتے بھاگتے مناظر، ترت پھرت کرتے کردار۔ مکمل اندھیرے میں سکرین کو تین گھنٹے دیکھنے کے بعد جب ناظر، ہال سے باہر نکلتا ہے تو وہ تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ ہی فلم ساز، ہدایت کار کا کمال ہے۔
پاکستانی فلم کے زوال کا سب سے بڑا سبب جو مجھے نظر آتا ہے وہ یہ ہی ہے کہ ایک وقت کے بعد سب لوگ بھیڑ چال کا شکار ہو گئے اور کہانی سنانا بھول گئے۔ دو دوسرے اسباب بھی تھے۔ وی سی آر اور دائیں بازو کا مارشل لاء۔
وی سی آر نے تو خیر ساری دنیا کی فلم انڈسٹری کو متاثر کیا اور نکلنے والے اس آزمائش سے بھی نکل آئے۔ دائیں بازو کے مارشل لاء اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے بہر حال اردو فلم انڈسٹری کی کمر ہی توڑ دی۔
پنجابی فلم چلتی رہی مگر تشدد، عریانی، عامیانہ جذبوں کو جس طرح مسلسل موضوع بنایا جاتا رہا، اس نے آہستہ آہستہ فلم بین کو فلم سے بہت دور کر دیا۔
میرے شہر میں میرے بچپن میں دو سینیما تھے، ایک تو بہت ہی پہلے بند ہو گیا، دوسرا کچھ عرصے چلا پھر اس کی عمارت بھی ڈھا دی گئی اور اب وہاں مزار بابا دھکے شاہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خیر، سینیما کی کمی سکرینز نے پوری کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ناظرین وہ ناظرین نہیں جو روزانہ فلم دیکھنے کا چسکا پورا کریں، نہ ہی یہ سکرینز وہ منڈوے ہیں جن کی چاٹ جسے لگی وہ اور کسی کام کا نہیں رہا۔
یہ مہنگی سکرینز، جہاں ایک فلم بین کے لیے اندازاً پانچ ہزار کا ایک شو پڑتا ہے، سرکٹ نہیں بنا سکتیں۔ ان سکرینز کے ناظرین کی پسند بھی مختلف ہے اور یہاں زیادہ تر بدیسی فلمیں لگتی ہیں، یعنی فلم کو بین الاقوامی معیار کا ہونا چاہیے۔
بین الاقوامی فلم کے معیار کی فلم، دو تین سو یا شاید اس سے بھی کم سکرینز سے کیا کما کر لائے گی اور فلم ساز اس پہ کیسے اتنے پیسے لگا سکتا ہے؟
یعنی یا تو دوبارہ وہی منڈوے والا سرکٹ بنایا جائے، یا فلموں کا معیار تبدیل کر کے عالمی منڈیوں میں جگہ بنائی جائے۔ یہ دونوں کام نا ممکن نہیں۔
ابھی جو فلمز فنڈ کی جا رہی ہیں، ان کا بجٹ میرے ناقص علم میں تین کروڑ فی پراجیکٹ ہے ۔ ممکن ہے، فلم کے سکرپٹ کے لحاظ سے زیادہ پیسے بھی مل رہے ہوں۔
اس بجٹ کے ساتھ فلم بنانا اور ان ہی لوگوں کا فلم بنانا جو بناتے آرہے ہیں۔ رسک تو ہے، مگر یہ رسک لے لیا گیا ہے۔
اے آئی کے اس دور میں فلم ساز، کم بجٹ میں کہانی کہہ تو دیں گے مگر کیا یہ اے آئی سے بنے گانے، اے آئی سے لکھے مکالمے، فلم بینوں کو واپس لا سکیں گے؟
دوسری طرف ڈرامہ ہے، جسے کسی نے کوئی فنڈ نہ دیا۔ لکھنے والی عورتیں تھیں، دیکھنے والی عورتیں تھیں، چینلز کی مالکان بھی (سیما طاہر، سلطانہ صدیقی) عورتیں تھیں۔ مرد ناظرین نے پہلے زبانی طعنے دیے، پھر کہہ دیا کہ ہم تو دیکھتے ہی نہیں یہ ساس بہو کے ڈرامے۔
آج پاکستانی ڈرامے ہر موضوع کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی پاکستان کی پہچان ہیں۔
ایسا ہی کچھ فارمولا فلم کے لیے بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ موجودہ فارمولا بھی برا نہیں مگر حساب کتاب کہتا ہے کہ رسک ہے، اب اگر تو یہ سینیما کا عشق ہے تو رسک بھی چل جائے گا ورنہ اتنے بڑے فنڈز کی تقسیم سے کئی گھروں کے چولہے ضرور جل جائیں گے۔
نوٹ: کالم نگار معروف ڈراما نگار اور مصنفہ ہیں اور ان کے کئی ڈرامے اور ناول عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔
یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
