مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی، کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں: صدر زرداری

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے جمعے کو کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

جمعے کو ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار برلن میں جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کے دوران کیا۔ 

صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں تنازعات کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور تعمیری مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ 

صدر مملکت نے امریکہ اور ایران کے تنازعے میں پاکستان کے مخلصانہ ثالثی کردار کے جرمنی کی جانب سے اعتراف پر صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کا شکریہ ادا کیا۔

بیان کے مطابق: ’جرمن صدر کی جانب سے گہری دلچسپی کے اظہار پر صدر زرداری نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور یہ علاقائی تنازعات کے متبادل کے طور پر علاقائی سلامتی فراہم کرتا ہے، جبکہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہے۔‘

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے رواں برس اگست میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات میں صدر آصف زرداری نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان موجودہ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے دستیاب امکانات سے بھرپور استفادے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے معیشت اور تجارت، جدید ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، ہنرمندی کے فروغ اور عوامی و ثقافتی تبادلوں پر خصوصی توجہ دینے کی اہمیت اجاگر کی۔

صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مسلسل تعمیری روابط کے ذریعے جرمنی کے ساتھ موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط، مستحکم اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

انہوں نے اپنے دورہ جرمنی کے بارے میں کہا کہ یہ 23 سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے جو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر نے کہا: ’پاکستان روایتی شعبوں سے آگے بڑھتے ہوئے جرمنی کے ساتھ سائنسی ترقی، صحت عامہ، تعلیم، فنی تربیت، ٹیکنالوجی کے فروغ، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، کاروبار و صنعت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے سمیت مختلف شعبوں میں جدید اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔‘

جرمن صدر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور جرمنی دوطرفہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، تعلیم کے شعبے میں تعاون اور تکنیکی اشتراک کو آگے بڑھانے کے لیے کاروبار اور تجارت کے شعبوں میں مزید مؤثر کوششوں کے ساتھ روابط جاری رکھیں گے۔

انہوں نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو سراہا۔ صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے جرمنی واپس بھیجے جانے والے 500 افغان شہریوں کی تصدیق کے عمل میں سہولت فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کی تعریف کی۔

صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، تاہم پاکستان دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر حملے کرنے اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *