میں یہ تحریر دباؤ کی حالت میں لکھ رہا ہوں۔
واشنگٹن ڈی سی میں تقریباً دو دہائیوں پر محیط صحافتی کیریئر کے دوران میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ خود کو خبر نہ بننے دوں۔ ہمارا کام خبر بنانا نہیں بلکہ خبر دینا ہے۔ پہلے شخصی انداز میں مضامین لکھنا میری عادت یا طرز نہیں ہے۔
لیکن چونکہ ایگزیکٹو برانچ کے سربراہ نے مجھے اپنی کہانی کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور چونکہ اصل مسئلہ بھی یہی ہے، اس لیے اس وقت میرے پاس دوسرا راستہ نہیں۔
میرا منصوبہ تھا کہ جمعرات کو دوپہر کے آخری حصے میں آئیووا کے شہر سِیوکس سٹی جانے والی مختصر پرواز کے لیے تیار ہوں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی جماعت اور خود کو وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ بڑی سبکی سے بچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ریلیاں کر رہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دی انڈپینڈنٹ کو ایئر فورس ون میں ’پرنٹ پول‘ کی نشست ملی تھی، جو 13 رکنی سفری پریس پول کا حصہ ہوتی ہے اور صدر جب بھی واشنگٹن سے باہر جاتے ہیں، یہ گروپ ان کے ساتھ سفر کرتا ہے۔
ایک لحاظ سے یہ ایک باوقار ذمہ داری ہے۔ صرف 15 میڈیا ادارے اس فریضے میں شریک ہیں اور حروفِ تہجی کے حساب سے باری باری یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
مثال کے طور پر گذشتہ روز ہف پوسٹ کا ایک صحافی پرنٹ پول کا نمائندہ تھا، جب ٹرمپ جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت میں ایک ریلی کے لیے گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صدر کے اگلے دورے کے لیے دی انڈپینڈنٹ کی باری تھی، جب بھی وہ سفر کرتے۔
اسی لیے جب میں نے دیکھا کہ صدر اس ہفتے ہر روز ریلیوں کا پروگرام رکھتے ہیں تو میں نے جلدی سے حساب لگایا کہ میری باری کس دن آئے گی۔ پیر کو میں نے وائٹ ہاؤس کے ایک معاون کو ای میل بھیجی اور پوچھا کہ کیا جمعرات کے آئیووا دورے کے لیے میرا نام درج ہے؟
کچھ ہی دیر بعد جواب آیا کہ میری کیلکولیشن درست ہے۔ مگر اب میں سِیوکس سٹی نہیں جا رہا۔
بدھ کو میں دی انڈپینڈنٹ کے یوٹیوب چینل کے لیے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنے اور یہ دوبارہ یقینی بنانے کے لیے وائٹ ہاؤس گیا تھا کہ جمعرات کے سفر میں پرنٹ پول کی ذمہ داری میرے پاس ہو گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن چند گھنٹوں بعد جب میں گھر واپس پہنچا تو پریس آفس کی جانب سے ایک غیر دستخط شدہ ای میل موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ مجھے اس دورے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اس گمنام ای میل میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، لیکن میرے لیے یہ واضح تھا کہ مجھے منگل کے واقعے کی سزا دی جا رہی ہے۔
منگل کو میں اوول آفس میں موجود تھا، جہاں ایک نئی ’ٹِپ لائن‘ متعارف کروائی جا رہی تھی۔ اس پروگرام کے تحت ایسے نام نہاد ’وسل بلوورز‘ کو 30 ہزار ڈالر تک انعام دینے کا اعلان کیا گیا جو انتظامیہ کے مطابق ’دھوکہ دہی‘ کو بے نقاب کریں۔ اس تقریب کے دوران میں نے اس پروگرام کی ضرورت کے بارے میں سوال کیا، جس پر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں ناخوش دکھائی دیے۔
بعد میں بھی میں ہاتھ اٹھا کر اضافی سوالات پوچھنے کی کوشش کرتا رہا کیونکہ میری نشست سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ صدر دوبارہ مجھے ہی سوال کرنے کا موقع دے رہے ہیں، لیکن ہر بار صدر کا غصہ بڑھتا گیا۔
ایک موقعے پر انہوں نے مجھے ’بیمار شخص‘ قرار دیا اور کہا: ’مجھے واقعی لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔‘
اس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کے سرکاری پیغام رسانی کے نظام نے میری کردار کشی شروع کر دی۔
انتظامیہ کے ’ریپڈ رسپانس‘ یونٹ نے مجھے ایک توہین آمیز لفظ استعمال کرتے ہوئے ’احمق‘ قرار دیا، جو ذہنی یا نشوونمائی معذوری رکھنے والے افراد کے لیے تضحیک آمیز اصطلاح ہے، ایک ایسا لفظ جسے میں خود کبھی استعمال نہیں کروں گا۔
اسی طرح نائب صدر نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر مجھے ’کم عقل‘ کہا۔ بظاہر یہ دھونس کافی نہیں تھی، کیونکہ میں خاموش نہیں رہا۔ میں نے وائٹ ہاؤس سے پوچھا کہ مجھے جمعرات کے دورے سے نکالنے کی وجہ کیا ہے؟ لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم میرے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ ویسٹ ونگ میں کسی کو واقعی میرے اضافی سوالات پوچھنے کی کوشش پر اعتراض تھا۔ ٹرمپ کا اکثر ایسے صحافیوں سے سامنا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کی بات کاٹتے ہیں یا ذرا سا موقع ملتے ہی سوال داغ دیتے ہیں۔ یہ تقریباً ہر بار ہوتا ہے جب وہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں۔
پہلی مرتبہ تقریباً ایک دہائی قبل صدر کا حلف اٹھانے کے دن سے ہی ایسا ہوتا آیا ہے۔
اور اگرچہ وائٹ ہاؤس یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ صدر کے اردگرد نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایسا کر رہا ہے، حقیقت میں وہ ایک ایسا محفوظ ماحول بنانا چاہتے ہیں جہاں صدر کو صحافیوں کے مشکل یا مسلسل سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جب سے وائٹ ہاؤس نے پریس پول کے نظام کا انتظام وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن سے اپنے ہاتھ میں لیا ہے، پریس آفس نے یہ یقینی بنایا ہے کہ جب بھی ٹرمپ سوالات لیتے ہیں تو موجود ’صحافیوں‘ میں سے بڑی تعداد ایسے نظریاتی میڈیا اداروں سے ہو جو خبر دینے سے زیادہ رپبلکن جماعت کی حمایت اور ڈیموکریٹس پر تنقید کے لیے مشہور ہیں۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ ان اداروں سے وابستہ کئی افراد کبھی کبھار اچھے سوالات بھی کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر بظاہر اچھے لوگ ہیں، لیکن ان کا شعبہ اور میرا شعبہ مختلف ہے۔
میں اس صدر یا اس انتظامیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے وہاں موجود نہیں ہوں اور سچ یہ ہے کہ میں پچھلی انتظامیہ کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات کے لیے موجود نہیں تھا۔
میری کئی مرتبہ بائیڈن انتظامیہ کے ترجمانوں سے تلخ بحثیں ہوئیں، چاہے معاملہ جو بائیڈن کی ذہنی صحت سے متعلق سوالات کا ہو یا یہ کہ امریکہ اسرائیل پر شہریوں کی بمباری اور امدادی کارکنوں کی اموات روکنے کے لیے زیادہ دباؤ کیوں نہیں ڈال رہا۔
اس انتظامیہ کے بعد بھی ایک اور انتظامیہ آئے گی۔ ممکن ہے کہ اوول آفس میں دوبارہ کوئی ڈیموکریٹ صدر موجود ہو۔
اور میں تب بھی وہیں ہوں گا، بالکل یہی کام کرتے ہوئے۔
