وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعے کو اسلام آباد میں مین ہٹن کی طرز پر ایک نیا شہر بسانے اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور کے علاقے لیک سٹی میں تین روزہ سعودی پاکستان رئیل اسٹیٹ ایکسپو کے آخری روز خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت رواں سال دسمبر میں اسلام آباد میں ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور رہائشی منصوبوں کے لیے سرکاری اراضی اور کمرشل پلاٹوں کی نیلامی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ زمین کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود حکومت سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے روایتی طریقہ کار کے برعکس سرمایہ کاروں سے پیشگی نقد رقم لینے کے بجائے شراکت داری پر مبنی ’انوینٹری ماڈل‘ متعارف کرایا جائے گا۔ تاہم، منصوبوں کو تین سال کی مقررہ مدت میں مکمل کرنا ہوگا۔
وزیر داخلہ کے مطابق نیلامی کے عمل میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت مختلف ادارے شامل ہوں گے، جبکہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے کسی موجودہ یا ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں یہ عمل مکمل کیا جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محسن نقوی نے بتایا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں تقریباً ایک ہزار ایکڑ رقبے پر نیا شہر بسانے کا منصوبہ ہے، جہاں نیویارک کے سینٹرل پارک کی طرز پر پارک اور جھیل بنائی جائے گی، جبکہ ان کے گرد تجارتی اور رہائشی منصوبے تعمیر ہوں گے۔
ان کے مطابق اس منصوبے میں جدید انفراسٹرکچر متعارف کرایا جائے گا اور کم از کم 600 فٹ بلند عمارتوں کی تعمیر کی اجازت ہوگی، جس سے اسلام آباد میں ایک نیا کاروباری مرکز قائم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے وزارت داخلہ میں ون ونڈو مرکز بھی قائم کیا جائے گا تاکہ ضروری اجازت ناموں کے حصول میں آسانی ہو۔
وفاقی وزیر نے سعودی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو ملک کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دونوں ملکوں کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
سعودی پاکستان رئیل اسٹیٹ ایکسپو 21 سے 23 اکتوبر تک لیک سٹی لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور جدہ سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں کے رئیل اسٹیٹ منصوبے پاکستانی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیے گئے۔
