انڈین کشمیر میں قدیم موسیقی کو یوٹیوب پر زندہ رکھنے کی کوشش

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صدیوں پرانی تاریخ رکھنے والی کشمیری موسیقی آج خاموشی میں بحران کا شکار ہے۔ یہ موسیقی کشمیر کی شادیوں میں چار چاند لگاتی تھی، اس سے وادی کے ہر گوشے میں لوگ پسند کرتے تھے، لیکن گذشتہ کئی برسوں سے اب اس کی شناخت ختم ہوتی جارہی ہے۔

مقامی گلوکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ نوجوان نسل بالی‌ وڈ کے گانے پسند کرتے ہیں، جس سے اس کی شناخت خطرے میں ہے۔ اس موسیقی کو فروغ دینے اور زندہ رکھنے کے لیے کشمیر کے نوجوان گلوکار میدان میں آئے ہیں جو اس موسیقی کو نئی  طرز پر گا کر اس کو اپنے یوٹیوب چینلز پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔

کشمیری موسیقی میں مختلف قسم کے مقامی ساز استعمال ہوتے ہیں، جن میں سنتور، رباب، تھالہ اور سرنگی شامل ہیں۔

بتیس سالہ مقامی معروف گلوکار میر پرویز کا کہنا ہے کہ 19ویں اور 20ویں صدی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اس موسیقی کو پھر سے فروغ ملنا شروع ہوا، اس جدید دور میں یوٹیوب اور سوشل میڈیا نے اس کو اب نئی شکل دی۔

 پرویز نے مزید بتایا کہ کشمیری موسیقی کے زوال کی ایک وجہ ’سرکاری لاپرواہی بھی ہے، یہاں کی انتظامیہ نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشمیری کلاسیکی موسیقی ہندوستانی موسیقی کے انداز گائیکی سے بہت مختلف ہے۔ اس میں گایٔک کو مرکزیت حاصل ہوتی اور وہ اکیلا اس فن کو تشکیل دیتا ہے۔ جبکہ کشمیری موسیقی میں تین سے چار گائیک مل کر نہ صرف گاتے ہیں بلکہ خود ساز بھی بجاتے ہیں۔

بڈگام ضلع سے تعلق رکھنے والے گلوکار بٹ فرقان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ کئی سالوں سے کشمیری موسیقی کے سننے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔ موجودہ نسل کے گلوکاروں نے اس میں جدید موسیقی کے آلات استعمال کیے، اس موسیقی کو نئے طرز پر گا رہے ہیں جس سے لوگوں کا رجحان اس کی طرف بڑھنے لگا ہے۔

پرویز نے مزید بتایا کہ جب فنکار اس شعبے کو اپناتے ہیں تو انہیں مالی تحفظ نہیں ملتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی نوجوان فنکار کلاسیکی موسیقی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں اس موسیقی کے اصولوں اور حدود کا علم ہونا چاہیے۔  


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *