امریکہ نے منگل کی صبح سویرے ایران کو تازہ حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں مزید شدت آ گئی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ٹرمپ نے پیر کو قدامت پسند ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہم آج رات انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور کل بھی انہیں سخت نشانہ بنائیں گے۔‘
دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں نو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ حملے گرین وچ معیاری وقت کے مطابق رات 8 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئے اور یہ مسلسل تیسری رات تھی جب حملے کیے گئے۔
سینٹ کام نے کہا: ’یہ حملے ایرانی افواج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے اور آبنائے ہرمز میں بے گناہ شہریوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔‘
منگل کی صبح سویرے متحدہ عرب امارات نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں پر حملہ کیا، جس میں عملے کا ایک رکن جان سے گیا اور آٹھ دیگر زخمی ہو گئے۔
تیل سے مالا مال متحدہ عرب امارات خطے میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور اس نے ایران کی جانب سے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے۔
اماراتی وزارت دفاع نے ایکس پر لکھا: ’وزارت دفاع اعلان کرتی ہے کہ قومی آئل ٹینکرز ’ممباسا‘ اور ’البدیعہ‘ کو آبنائے ہرمز کی جنوبی بحری گزرگاہ سے عمان کی علاقائی سمندری حدود میں گزرتے ہوئے ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا۔‘
یہ مبینہ حملہ اس اعلان کے بعد سامنے آیا جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو بحرین، اردن، کویت اور عمان پر نئے حملوں کا اعلان کیا تھا۔
امریکی کانگریس کو آگاہ کر دیا گیا
وائٹ ہاؤس نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے باضابطہ طور پر کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں، جس سے پینٹاگون کو کانگریس کی منظوری کے بغیر خطے میں مزید 60 روز تک کارروائیاں جاری رکھنے کا اختیار مل گیا۔
ٹرمپ نے نطنز کے قریب واقع پک ایکس ماؤنٹین نامی گہرائی میں قائم جوہری مقام کو تباہ کرنے کی بھی دھمکی دی، جہاں مغربی انٹیلی جنس اداروں کو شبہ ہے کہ ایران ایک غیر اعلانیہ یورینیم افزودگی کی تنصیب قائم کر رہا ہے۔
انہوں نے میزبان ہیو ہیوٹ سے گفتگو میں کہا: ’ایرانیوں سے کہہ دیں کہ تیار رہیں۔ انہیں بتا دیں کہ ہم آ رہے ہیں اور وہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔‘
ٹرمپ کی ہدایات کے بعد سینٹ کام نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو گرین وچ معیاری وقت کے مطابق رات 8 بجے سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا۔
صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ امریکہ ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ کہلائے گا اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام مال بردار سامان پر 20 فیصد فیس عائد کرے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کی بندرگاہوں کی دوبارہ ناکہ بندی کی جائے گی، تاہم ’دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے استعمال کی منصفانہ اور آزادانہ سہولت حاصل رہے گی۔‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فوری طور پر ٹرمپ کی اس تجویز کا مذاق اڑاتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’امریکی صدر بالکل درست کہتے ہیں‘ کہ جو بھی محفوظ گزرگاہ کی ضمانت دے، اسے معاوضہ ملنا چاہیے، تاہم تہران اس کے مقابلے میں کم رقم وصول کرے گا۔
انہوں نے کہا: ’یقیناً 20 فیصد بہت زیادہ ہے۔‘
واشنگٹن طویل عرصے سے تہران کی اس خواہش کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ٹول وصول کرے، کیونکہ بین الاقوامی قانون عمومی طور پر اس کی اجازت نہیں دیتا۔
تہران کے ساتھ اب بھی معاہدہ ممکن: ٹرمپ
تمام تر حالات اس کے برعکس ہونے کے باوجود ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’ہاں، میرا خیال ہے کہ معاہدہ ممکن ہے، یقیناً ممکن ہے۔ دو دن پہلے ہمارا ان کے ساتھ معاہدہ ہو گیا تھا، پھر انہوں نے کہ کہ ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے، ہمیں اس پر مزید مذاکرات کرنا ہوں گے۔‘
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو اس سے قبل کہا تھا کہ جون میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت، جو مذاکرات کی بنیاد بنی تھی اور جس کے نتیجے میں امریکہ نے ناکہ بندی ختم کی تھی، ’بحران کا شکار‘ ہے۔
اسماعیل قائی نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو ایران بھی اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزید کشیدگی روکنے کے لیے تہران قطر، پاکستان اور عمان کے ثالثوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
’جنگی اقدام‘
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے تازہ امریکی حملوں میں اموات کی اطلاع دی اور کہا کہ ان حملوں میں ملک کے جنوب اور مغرب کے وسیع علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بندر عباس کے مشرق میں کم از کم چار دھماکوں کی اطلاع دی، جو آبنائے ہرمز کے کنارے واقع ہے اور یہ اطلاع بندرگاہی شہر کے صوبے میں موجود ایک رپورٹر کے حوالے سے دی گئی۔
اے ایف پی کی ایرانی اعلانات پر مبنی گنتی کے مطابق گذشتہ بدھ سے دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے ایران میں کم از کم 25 افراد جان سے جا چکے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف اور اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کا اصرار ہے کہ وہ خلیج میں صرف امریکی مفادات کو نشانہ بناتا ہے، تاہم اس کی فوجی کمان کے ترجمان نے کہا کہ خلیجی ممالک کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔
