پاکستان فوج نے پیر کو کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے جتک آباد میں فائرنگ کے شدید تبادلے میں چار ’دہشت گرد‘ مارے گئے جب کہ پسنی میں دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں ایک میجر جان سے گیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پہلے واقعے میں 18 اکتوبر، 2026 کو سکیورٹی فورسز نے ضلع قلات کے علاقے جتک آباد میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد چار دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے قبضے سے اسلحے اور گولہ بارود کی بڑی تعداد بھی برآمد کی گئی۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرے واقعے میں، سکیورٹی فورسز نے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں متعدد کلیئرنس آپریشنز کیے۔
ان میں سے ایک آپریشن کے دوران لاہور کے رہائشی 34 سالہ میجر وجاہت وحید کی قیادت میں ہر اول دستے کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں میجر وجاہت وحید جان سے گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور اور ضلع قلات کے علاقے جتک آباد میں عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کی موجودگی کی اطلاع دی، جو مقامی آبادی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ مقامی آبادی کو محفوظ رکھنے اور علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز ان علاقوں میں آپریشن کر رہی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان فوج کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقوں قلات اور گوادر میں خوارج کے خلاف کارروائی میں چار عسکریت کے مارے جانے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیر اعظم نے پسنی میں دیسی ساختہ بم دھماکے میں میجر وجاہت وحید کی موت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جس پر قوم کو ان پر فخر ہے۔
وزیراعظم نے میجر وجاہت کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
