خیبر پختونخوا: دہشت گردی کی تلخ تاریخ اور گورنر راج

سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور کا قصہ ہے۔ میں ان دنوں پشاور میں اپنی فیملی کے ساتھ رہے رہا تھا۔ امریکی صدر بش کی دھمکی کے بعد جنرل مشرف امریکہ کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف مہم میں ایک ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کر چکے تھے۔

ان کے دور کو بوگس ریفرنڈم اور پھر انتخابات میں  ’کنگز پارٹی‘ کے ذریعے ’سیاسی حلالہ‘ بھی حاصل ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی جماعتیں اقتدار کے دہارے سے باہر تھیں۔ حسن اتفاق کہیے یا حکمت عملی کی لاٹری افغانستان کی سرحد سے ملا ہوا صوبہ خیبر پختونخوا مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی جھولی میں آن گرا۔

اتحاد کی سیاسی باگ ڈور جماعت اسلامی کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد اور جعمیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں میں تھی۔ اس حکمراں اتحاد کی تشکیل اور انتخابی کامیابی پر سب حیران و پریشان تھے۔ کئی حریف جماعتوں نے تو اس اتحاد کو طنزا ’ملا ملٹری الائنس‘ کا نام بھی دیا تھا۔

افغانستان پر امریکی بمباری کے دوران ان جماعتوں کے مظاہروں میں ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن کو ہیرو پکارا جاتا تھا۔ جب صوبائی حکومت ہاتھ لگی تو طالبان طرز نظام نافذ کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں موسیقی پر پابندی عائد کی گئی۔ چوراہوں پر آویزاں اشتہارات پر خواتین ماڈلز کے چہروں کو سیاہ پینٹ سے بگاڑا دیا گیا۔ پشاور کے ڈبگری علاقے سے موسیقاروں اور سازندوں کو بیدخل کیا گیا۔ اس طالبانائزیشن کے دوران ’متنازع‘ حسبہ بل بھی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم جنرل مشرف نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف ریفرینس دائر کیا اور بالآخر اس کا نفاذ رک گیا۔

متحدہ مجلس عمل کی نظریاتی چھتری کے سائے تلے مقامی طالبان کو پھلنے پھولنے کا موقعہ ملا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد بھی اسی دور میں پڑی۔

ٹی ٹی پی کے بانی امیر بیت الللہ محسود کا طالب علمی کے دور میں تعلق مولانا کی جماعت سے تھا۔ قبائلی علاقوں میں کئی مدارس نے القاعدہ اور افغان طالبان کے لیے دروازے کھول دیئے۔ اس اتحاد کی حکومت اس وقت ختم ہوئی تو سوات، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور مقامی طالبان کی جڑیں کافی گہری ہوچکی تھیں۔ آنے والے چند برس میں خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی نے ہزاروں معصوم باشندوں اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی زندگیاں چھین لیں۔

صوبہ میں اے این پی اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بشیر بلور، ان کے بیٹے ہارون بلور، میاں افتخار کے جواں سال بیٹے اور بےنظیر بھٹو کے قتل۔ قربانیوں کی ایک طویل فہرست تھی۔

اس تلخ خونریز تاریخ کو دہرانے کا مقصد یاد دلانا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ اس وقت ہوا جب جنرل ضیا نے ’افغان جہاد‘ کو بطور ریاستی پالیسی اپنایا۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی نے اس پالیسی پر لبیک کہا اور سینکڑوں نوجوانوں کو تعلیمی اداروں سے مجاہدین کے ساتھ لڑنے کے لیے بھرتی کیا۔ ایک جہادی کلچر متعارف کرایا گیا جس نے مستقبل میں ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور معاشرے کی بنیادوں کو شدت پسندی  سے کھوکھلا کر دیا۔ پشاور کو ان بیتے سالوں کی بے شمار قصہ کہانیاں اب بھی یاد ہیں۔

نائن الیون کے بعد مجھے جب پشاور شہر میں کرائے کے مکان کی تلاش تھی تو پراپرٹی ایجنٹ نے غالبا میری صحافتی شخصیت کو پہچان کر پیشکش کی کہ ’اس علاقہ میں ایک گلی ہے جہاں اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری رہتے ہیں۔ ایک مکان خالی ہے، کیا آپ کو چاہیے؟‘ خیر ہم نے تو نفی میں سر ہلا دیا  کہ کون مصیبت مول لیتا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انیس سو ستر اور اسی کی دہائیوں میں جنرل ضیا کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کا مقصد سویت یونین اور کمیونزم کو شکست دینا تھا لیکن جنگی مشق خیبر پختوانخوا کی سرزمین پر ہوئی۔ ’افغان جہاد‘ کے نام پر ہزاروں مجاہدین اسلامی دنیا سے اکھٹا کیے گئے۔ پشاور میں پرانے رہائشیوں کو یاد ہے کہ مجاہدین کس طرح یونیورسٹی ٹاؤن اور حیات آباد جیسے علاقوں میں رہائش پذیر تھے اور کھلے گھومتے پھرتے تھے۔

سوویت فوجوں کی انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ بھی پشاور میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل کی صورت میں کیا گیا۔ اس سرزمین پر لاکھوں افغان پناہ گزینوں کا سیلاب، اسلحے کی یلغار، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی گہری جڑیں چند برس نہیں بلکہ دہائیوں کی پالیسیوں کا نتیجہ تھیں۔

 فوجی ادوار اور بعض سیاسی حکمرانوں کی غیر متوازن پالیسیوں کے دھچکوں کا خمیازہ معاشرے اور بالخصوص پشتون آبادی نے بھگتا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کی مقبولیت کا غلبہ خیبر پختونخوا میں اسی دہشت گردی کے خلاف مہم کے دوران ہوا۔ طالبان کے لیے نرم گوشہ، فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کی مخالفت اور طالبان سے مذاکرات کی پالیسیوں پر زور رہا۔

پشاور میں جب چرچ پر خودکش حملے ہوئے تو ان ہی دنوں عمران خان نے بیان دیا تھا کہ طالبان کو دفاتر کھولنے کی اجازت دینی چاہیے۔ اپوزیشن میں ہوں یا پھر حکو مت میں طالبان کے حوالے سے عمران خان اور تحریک انصاف کا بیانیہ یکساں ہی رہا۔

امریکی افواج کے انخلا کے بعد جب افغانستان پر افغان طالبان کا قبضہ ہوا تو عمران خان نے ان کی حمائت میں بیان دیے۔ افغانستان سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو خیبر پختوانخوا میں بسانے کا منصوبہ بھی زیر غور رہا۔ ایک ماہ کا سیز فائر بھی ہوا۔ ظاہر ہے عمران خان دور میں ان پالیسیوں پر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ قیادت کی رضا مندی حاصل رہی ہوگی۔ سو کے لگ بھگ خطرناک طالبان مجرموں کی رہائی بھی ہوئی جس دوران ٹی ٹی پی نے خیبر پختوانخوا میں اپنی صفوں کو منظم کیا۔

عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تاہم صوبے میں حکو مت تحریک انصاف کی ہی رہی۔ اب عمران خان خود تین برس سے جیل میں ہیں۔ بدلتے حالات کے باوجود وزیر اعلی علی امین گنڈا پور ہوں یا سہیل آفریدی یا پھر ان کے رفقا طالبان کے حوالے سے اپنے قائد عمران خان کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ اس دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں مستقل تیزی آتی رہی۔ نہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو لگام دینے پر رضامند تھے نہ ہی ان کو اپنے سے جدا کرنے پر۔ چین، قطر، ترکی کی ثالثی کی کوششیں بھی کام نہ آئیں۔ حالات جنگی صورت حال میں تبدیل ہوگئے۔

بدقسمتی سے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی زیرو ٹالیرنس پالیسی کو اپنے سیاسی ترازو میں تولتی رہی۔ ہر فوجی آپریشن کی کامیابی میں سیاسی اونرشپ لازمی جز ہوتا ہے۔ سوات آپریشن کی  مثال موجود ہے۔

تحریک انصاف کی سیاست کا محور عمران خان کی رہائی اور لانگ مارچ رہا۔ اب اپنی صوبائی حکومت کو بھی کھو دیا ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے صوبہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی منشا بھی شامل ہے۔

یہ اقدام کسی بھی جمہوری نظام کی روائتوں کے منافی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ بےحد مجبوری میں لیا گیا کیونکہ تحریک انصاف دہشت گردی کے کے خلاف مہم کو سپورٹ کرنے اور معاہدہ پر کئی مرتبہ رضامندی کے باوجود دستخط کرنے سے انکاری تھی۔ اب تحریک انصاف اور حکومت کے مابین سنگین الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن ان دنوں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر سیخ پا ہیں اور اپنے بدترین سیاسی حریف تحریک انصاف کی وکالت کرتے نظر آرہے ہیں۔ مولانا کی سیاست خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے سیاسی غلبہ کے بعد سے سکڑ گئی تھی۔ گذشتہ کئی برس سے حکومت سے بھی دوری رہی ہے۔

کبھی افغان طالبان سے بات چیت کے ناطے تو کبھی بطور ثالث اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد حکومت کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ زخم پرانا بھی ہے اور جڑیں گہری اور ہولناک یادیں ذہنوں میں تازہ ہیں۔ پشاور میں اے پی ایس کا سانحہ، حسن زیب کو دفنانے کے بعد سرد ہواؤں میں انگاروں کے الاؤ کے پاس بیٹھا غمزدہ والد اورنگزیب خان، گل بہار محلہ کی دیواروں اور کھمبوں پر لگے بچوں کے جنازوں کے اعلان۔۔۔ شمالی وزیرستان کے قبائلیوں کے انخلا کے بعد بنوں میں خوراک کے لیے لمبی قطاریں۔ اس قطار میں اپنی بچی برشنا کا ہاتھ تھامے میرا شناسا میر علی کا کڑور پتی تاجر ضیا اللہ داوڑ بھی موجود تھا۔

خواہش کے خیبر پختونخوا میں مستقل بنیادوں پر امن و سکون ک بسیرا ہو اور پھر ایسے دردناک مناظر کبھی نہ لوٹ سکیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *