پینٹاگون کے اعلیٰ مالیاتی عہدیدار نے آج قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس کے دوران قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے مالیات جولز ہرسٹ سوم نے بدھ کے روز کہا کہ اس رقم کا بڑا حصہ اسلحہ اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا، جبکہ فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور ساز و سامان کی تبدیلی پر بھی خطیر رقم صرف کی گئی۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بدھ کو پہلی بار قانون سازوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ ایک مہنگی جنگ ہے جو کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی۔
یہ سماعت ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد 2027 کے فوجی بجٹ پر بات چیت تھا، جس کے تحت دفاعی اخراجات کو بڑھا کر ریکارڈ 1.5 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی تجویز ہے۔
ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے توقع ہے کہ وہ مزید ڈرونز، میزائل دفاعی نظام اور جنگی جہازوں کی ضرورت پر زور دیں گے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جنگ کے بڑھتے اخراجات، اہم امریکی اسلحے کے تیزی سے استعمال، اور ایک سکول پر بمباری جس میں بچے ہلاک ہوئے، جیسے معاملات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ بعض ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور ایرانی ڈرون حملوں کے خلاف فوج کی تیاری پر بھی سوال اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ کچھ ڈرون امریکی دفاعی نظام کو عبور کر کے فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کر چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واشنگٹن سے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے کہا: ’آپ کئی چھوٹی لڑائیاں جیت سکتے ہیں لیکن جنگ ہار سکتے ہیں، اسی لیے ابتدا ہی میں جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے۔ میرے خیال میں حکمت عملی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تشدد اور دباؤ کے ذریعے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جائے، جو ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔‘
اگرچہ اس وقت ایک نازک جنگ بندی قائم ہے، مگر امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو بغیر کانگریسی نگرانی کے جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی متعدد قراردادیں، جن کے ذریعے صدر ٹرمپ کو جنگ روکنے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، منظور نہ ہو سکیں۔
ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال جنگ کے دوران ٹرمپ کی قیادت پر اعتماد برقرار رکھیں گے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر۔ تاہم وہ بھی چاہتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو، اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو آئندہ ووٹنگ صدر کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن رکن مائیک راجرز نے سماعت کا آغاز دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے چین، روس اور ایران کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا: ’ہمارے پاس اتنا اسلحہ، جہاز، طیارے یا خودکار نظام موجود نہیں کہ ہر دشمن کے خلاف برتری حاصل کر سکیں، جبکہ وہ اپنی جی ڈی پی کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں۔‘
وزیر دفاع ہیگستھ اب تک اس جنگ پر قانون سازوں کے براہِ راست سوالات سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے اور جنرل کین نے پینٹاگون میں بریفنگز ضرور دی ہیں۔ ہیگستھ زیادہ تر قدامت پسند صحافیوں کے سوالات لیتے رہے ہیں اور مرکزی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
