جب قومیں عروج کی حالت میں ہوتیں ہیں تو ان کا کردار اور اخلاقی قدریں ان کے سیاسی تسلّط اور اثر و رسوخ کو بڑھانے میں مدد دیتی ہیں، لیکن جب قومیں زوال پذیر ہونا شروع ہو جائیں تو اخلاقی قدریں بھی بگڑتی چلی جاتی ہیں۔
تاریخ میں قومیں اپنی برتری کو قائم رکھنے کے لیے معیاری اور اعلیٰ اخلاقیات کو استعمال کرتی ہے۔ جب فتح کے نتیجے میں دوسری قوموں کو شکست دی جاتی ہے تو فاتح کا ہمیشہ یہ دعوٰی ہوتا ہے کہ وہ تہذیب اور شائستگی میں مفتوح قوموں سے برتر ہے۔
لیکن جب فتوحات کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور سلطنت کی حدود بھی متعین ہو جاتی ہیں تو اس کے ساتھ ہی اخلاقی قدروں اور کردار میں زوال آنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ اب حکمراں طبقے اقدار میں رہنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی جائیداد اور مراعات محفوظ رہیں۔ اس کے نتیجے میں سازشیں ہوتی ہیں۔ خانہ جنگی سیاسی انتشار کو پیدا کرتی ہے اور اقتدار کے خواہش مند ایک دوسرے کو قتل کر کے اپنا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ صورت حال رومی اور مُغل سلطنتوں کے زوال میں نظر آتی ہے۔
زوال کی سب سے بڑی علامت سیاسی انتشار ہوتا ہے۔ امراء اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ جب بے روزگار نوجوان اپنے دیہات اور قصبوں کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں تو وہ اپنے آبائی کلچر کو چھوڑ کر شہر میں اجنبی ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد دو وقت کی روٹی حاصل کرنا رہ جاتا ہے۔
غربت اور افلاس ان کو موقع نہیں دیتی کہ وہ اخلاقی قدروں پر عمل کریں۔ ایمان داری اور دیانت داری ان کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں کیونکہ اخلاقی قدروں کے نفاذ کے لیے قانون کے ساتھ ساتھ معاشرے کی پابندیاں بھی ہوتی ہیں، لیکن جب یہ پابندیاں ختم ہو جائیں تو معاشرے کے افراد اپنی بقا کے لیے دھوکے، فریب، جھوٹ اور بے ایمانی وغیرہ کو استعمال کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ معاشرہ بھی اس صورت حال کو تسلیم کر لیتا ہے۔
اس تناظر میں جب ہم پاکستانی معاشرے کا مطالعہ کرتے ہیں تو آزادی کے بعد سے ہی ہم اخلاقی قدروں کے زوال کو ہر شعبہ زندگی میں پاتے ہیں۔ تقسیم کے نتیجے میں جب ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت ہوئی تو وہ مہاجر جو ہندوستان سے آئے وہ اپنے کلچر رسم و رواج اور اپنے خاندانی اَثر و رسوخ کو وہیں چھوڑ آئے۔ ان کے لیے اخلاقی قدروں پر عمل کرنا زندگی میں مشکلات کا باعث تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسرا آزادی کے بعد نہ ملک میں سیاسی استحکام رہا اور نہ تعلیم و تربیت نے کوئی ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ معاشرے کے ہر فرد اور جماعت کے لیے اپنی بقا کا سوال تھا۔ سیاسی عہدیداروں نے رشوت، غبن اور ناجائز ذرائع سے دولت اکھٹی کی۔ تاجروں نے ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے خوب منافع کمایا۔ اساتذہ نے ٹیوشنز کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا۔ طالب علموں نے نقل کر کے امتحانات کو پاس کیا۔
جب ہر شعبہ زندگی میں اخلاقی قدروں کی ضرورت نہ رہی تو سوسائٹی میں مزاحمت کے جذبات بھی ختم ہو گئے اور تبدیلی کی خواہش نہ رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے سے ادب، آرٹ، موسیقی، تعمیرات، تھیٹر اور فلم میں بھی کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی کوئی ایجاد نہ ہونے پائی۔
جب معاشرہ تنزل کی اس آخری حد تک پہنچ جائے تو امید کے تمام جذبات ختم ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی صورت حال اس وقت ایک اور نئی شکل لے رہی ہے۔ حال کے مسائل سے مایوس ہو کر وہ روحانی عاملوں، تعویزات اور مزارات کے ذریعے اپنا حل تلاش کر رہے ہیں یا پاکستانی دانشور شان دار ماضی کی تلاش احیا کی تحریکوں کو اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں اور جب یہ اپنا مقابلہ مغرب سے کرتے ہیں تو انہیں زوال ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور اقبال کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی۔
اس امید میں کئی نسلیں تو گزر گئی ہیں اور شاید کئی اور نسلوں کو ناامید ہو کر جانا پڑے، اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلامی معاشرے اخلاقی قدروں کے بغیر تعصّب اور نفرت کے ساتھ ترقی کر سکیں گے؟ یا اسی نا امیدی اور مایوسی کی حالت میں زندگی گزارتے رہیں گے؟
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

