دنیا میں ہر ماحولیاتی آفت کو تاریخ میں قدرتی آفات سمجھا اور کہا جاتا رہا ہے۔ آج بھی حضرتِ انسان کا عقیدہ اسی تصور پر پختہ ہے کہ ہر آفت، مصیبت اور حادثہ قدرت کی طرف سے ہی آتا ہے، تاہم آج کی سائنس اس عقیدے کو ایک اگلے لیول تک جاتا ہوا دیکھتی ہے۔
ایک توجیح وہ یہ پیش کرتی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی میں حضرت انسان کا ہاتھ بھی پوری طرح شامل ہے۔ انسان، قدرتی جنگلات کاٹتا ہے، آگ لگاتا ہے، بڑھتی ہوئی آبادیاں بسانے کے لیے نئی بستیاں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتا ہے۔ انڈسٹریز کا دھواں ماحول اور انسان کو موت کے منہ تک لے جاتا ہے۔
جانوروں، پرندوں کی بہت سی نسلیں آج نایاب یا ختم ہوچکی ہیں۔ اب پانی بھی ہوا کی طرح اپنا راستہ خود بنا رہے ہیں۔ پانی گلیشیئر پگھلنے کا ہو یا بارشوں کا، کچھ نہیں سوچتا کیونکہ پانی کے پاس دل نہیں ہے، احساسات نہیں ہیں، لیکن جن کے پاس دل اور احساسات دونوں ہیں، انہوں نے اس خوبصورت ماحول کے ساتھ کیا کیا؟
نیپال میں ایک بار پھر سیلابی ریلے نے پلوں، مکانات اور انسانی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر قدرت کے بدلتے مزاج کا ایک نیا ہولناک منظر پیش کیا ہے۔ پہاڑوں سے آنے والے پانی، مٹی اور ملبے نے بستیوں کی کمزوری بھی بے نقاب کر دی۔
اکتوبر 2026 میں نیپال کے دریائے بدھی گنڈکی کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دریا کا راستہ عارضی طور پر بند ہوا، جس کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے اس واقعے کو پہاڑی علاقوں میں ایک دوسرے سے جڑے قدرتی خطرات کی سنگینی کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ محض ایک ملک کا سانحہ نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک تنبیہ ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی دور افتادہ خدشہ نہیں بلکہ ہمارے زمانے کا ایک ایسا بحران ہے جو انسانوں کی زندگی، معیشت، خوراک، پانی اور قدرتی ماحول کو بیک وقت متاثر کر رہا ہے۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی تحقیق کے مطابق ایشیا میں درجہ حرارت میں اضافہ شدید گرمی، خشک سالی، مون سون کی شدت اور ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے خطرات بڑھا رہا ہے۔
تاہم صرف سیلاب کو ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ بارش کی شدت، زمین کی ساخت، جنگلات کی کٹائی، ناقص تعمیرات اور غیر منصوبہ بند آبادی بھی تباہی کو بڑھاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ خطرہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سنہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ اس کے بعد اگست 2025 میں خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں سیلابوں نے مزید 509 جانیں لے لیں۔
عالمی بینک کے مطابق ضلع بونیر میں صرف ایک گھنٹے میں 150 ملی میٹر بارش ہوئی، جو اس ضلعے کی سالانہ بارش کے تقریباً 15 فیصد کے برابر تھی۔ تین متاثرہ اضلاع میں کیے گئے سروے کے مطابق 85 فیصد خاندانوں کو سیلاب آنے سے پہلے کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی۔
یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ خطرہ صرف موسمی شدت کا نہیں بلکہ ہماری تیاری، پیشگی اطلاع اور ہنگامی امداد کے نظام کی کمزوری کا بھی ہے۔
پاکستان میں آئندہ برسوں کے دوران شدید گرمی، بے ترتیب بارشوں، خشک سالی، اچانک سیلابوں اور پانی کی قلت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے دریاؤں میں اچانک طغیانی پیدا ہو سکتی ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان کے خشک علاقوں میں پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور صحرائی پھیلاؤ روزگار اور خوراک کے تحفظ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ساحلی سندھ میں سمندر کی سطح بلند ہونے، ساحلی کٹاؤ اور کھارے پانی کے زمین میں داخل ہونے سے زراعت، ماہی گیری اور پینے کے پانی کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو غریب کسان، دیہی مزدور اور کم آمدنی والے شہری سب سے زیادہ قیمت ادا کریں گے کیونکہ ان کے پاس تباہی کے بعد دوبارہ زندگی شروع کرنے کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈیا بھی اسی بحران کی زد میں ہے لیکن اس کے جغرافیائی تنوع کے باعث خطرات کی نوعیت مختلف ہے۔ ہمالیائی ریاستوں میں لینڈ سلائیڈنگ، اچانک سیلاب اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ ہے جبکہ شمالی اور وسطی علاقوں میں شدید گرمی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔
ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان اور سطح سمندر میں اضافہ آبادیوں اور قدرتی مساکن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق انڈیا کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی ایسے اضلاع میں رہتی ہے، جو موسمیاتی آفات کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اکتوبر کے واقعے نے واضح کیا ہے کہ پہاڑوں میں ایک مقام پر ہونے والا زمینی حادثہ بھی دریا کے بہاؤ کے ساتھ دور دراز آبادیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
اس بحران کا ایک کم زیرِ بحث پہلو انسانی صحت ہے۔ شدید گرمی سے جسم میں پانی کی کمی، ہیٹ سٹروک، گردوں اور دل کے مریضوں کے لیے خطرات بڑھتے ہیں۔ سیلابی پانی پینے کے صاف پانی کو آلودہ کرتا ہے، جس سے اسہال، ہیضے اور دیگر آبی بیماریوں کے پھیلاؤ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
بارشوں اور درجہ حرارت میں تبدیلی مچھروں کی افزائش کے حالات پیدا کر سکتی ہے، جس سے ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض بعض علاقوں میں پھیل سکتے ہیں۔ سیلاب کے بعد خوراک کی کمی، غذائی قلت، علاج کی سہولتوں کی تباہی اور بے گھری بچوں، حاملہ خواتین، معمر افراد اور معذور شہریوں کے لیے مشکلات کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔
اپنے گھر، فصل اور عزیزوں کو کھونے کا صدمہ ذہنی صحت پر بھی طویل اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ یوں ماحولیاتی بحران ہسپتالوں، غذائی تحفظ اور عوامی صحت کے پورے نظام کے لیے ایک امتحان بن جاتا ہے۔
جانور بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں۔ سیلاب مویشیوں کو بہا لے جاتے ہیں، ان کے چارے کو تباہ کرتے ہیں اور آلودہ پانی کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
دیہی خاندانوں کے لیے بھینس، گائے، بکری یا بھیڑ محض جانور نہیں بلکہ آمدنی، خوراک اور معاشی تحفظ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ جنگلات میں درجہ حرارت اور بارشوں کی تبدیلی درختوں کی نشوونما، قدرتی مساکن اور حیاتیاتی تنوع کو متاثر کرتی ہے۔
جنگلات کی کٹائی ڈھلوانوں کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے جبکہ شدید خشک سالی اور گرمی جنگلاتی آگ کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ جنگلی جانوروں کے مساکن سکڑنے سے انسان اور جنگلی حیات کا تصادم بھی بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان، انڈیا اور نیپال کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض امدادی سرگرمیوں یا سالانہ مون سون کی تیاری تک محدود نہ رکھیں۔
خطرے سے دوچار آبادیوں کی درست نشاندہی، بارش اور دریاؤں کی مسلسل نگرانی، مؤثر پیشگی اطلاع، محفوظ تعمیرات، نکاسیٔ آب کی بہتری، جنگلات کی بحالی اور صحت کے اداروں کی تیاری قومی ترجیحات بننی چاہییں۔
تینوں ممالک کو دریاؤں، گلیشیئرز اور سرحد پار قدرتی آفات کے بارے میں معلومات کے تبادلے اور مشترکہ منصوبہ بندی کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
دنیا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ماحولیاتی نقصان کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے ممالک کو موسمیاتی مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور موافقت کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے جائیں۔
نیپال کا بہتا پل، پاکستان کا ڈوبا گاؤں اور انڈیا کی تپتی ہوئی بستی دراصل ایک ہی کہانی کے مختلف منظر ہیں۔ قدرت ہمیں متنبہ کر رہی ہے کہ ترقی کے ہمارے طریقے، زمین کے ساتھ ہمارا برتاؤ اور مستقبل کے لیے ہماری تیاری ناکافی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ محض درخت لگانے سے نہیں ہوگا، اس کے لیے سائنسی منصوبہ بندی، مؤثر حکمرانی، علاقائی تعاون اور انسانی جان کو ہر معاشی مفاد پر ترجیح دینا ہوگی اور ہر ماحولیاتی تباہی کی ذمہ داری قدرت یا فطرت پر دینے کی بجائے انسان کو خود اٹھانا ہوگی۔
