سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق چھ اور سات اکتوبر 2026 کو ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو الگ الگ حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئے اور 36 زخمی ہوئے۔
اتھارٹی کے مطابق ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جان سے گئیں جبکہ سعودی شہریوں، ایک بنگلہ دیشی اور ایک فلپائنی مقیم سمیت 28 افراد زخمی ہوئے۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں سوڈان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جان سے گیا جبکہ پانچ سعودی شہریوں، دو مصری مقیم افراد اور ایک پاکستانی مقیم سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے اور تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب پر یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستانی فوج نے بدھ کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ’ہم، پاکستان کی افواج، پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ یہ بات میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔‘
سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن نے سوال کیا کہ کیا پاکستانی فوجی یا کسی قسم کا عسکری عملہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، جس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جواب دیا: ’جی، پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ وہ سعودی عرب میں متعدد صلاحیتوں میں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔‘
