صنعتی انقلاب سب سے پہلے انگلستان میں آیا۔ اس انقلاب سے پہلے زراعت میں نئی مشینوں کی مدد سے فصل کی کٹائی اور گندم کو صاف کرنے کا کام مشینیں کرنے لگیں تھیں۔ اس کی وجہ سے گاؤں دیہاتوں میں کسانوں میں بے روزگاری پھیلی اور انہوں نے کام کی تلاش میں شہروں کا رخ کیا۔ فیکٹری کے مالکوں کو سستے مزدور مل گئے۔ فرانس کا صنعتی انقلاب اس سے مختلف تھا جس نے اس کے معاشرے کو تبدیل کیا۔
بنیادی طور پر فرانس کا معاشرہ زرعی تھا۔ اس کی معاشی ترقی کا انحصار کسانوں کی معاشی پیداوار پر تھا۔ لیکن انگلستان کی طرح یہاں بھی صنعتی انقلاب کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی۔ مورخوں نے صنعتی انقلاب میں مرد مزدوروں کا تو تفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن عورتوں کی وجہ سے جو کامیابی ہوئی اس سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
فیکٹری کے مالکوں کو منافع کے لیے سستے مزدور چاہیے ہوتے تھے۔ لیکن جب فیکٹریوں کی تعداد بڑی اور زیادہ تعداد میں مزدوروں کی ضرورت ہوئی تو انہوں نے گاؤں اور دیہاتوں میں جا کر غریب اور مفلس کسانوں کی حالت سے فائدہ اٹھایا۔ کسان غربت کی وجہ سے اپنے گھریلو اخراجات پورے نہیں کر پاتے تھے۔
آمدنی کا کوئی ذریعہ دیہاتوں میں نہیں تھا۔ لہذا فیکٹری کے مالکوں اور کسانوں کے درمیان معاہدہ ہوا کہ وہ چار سے پانچ سال کے لیے اپنی پندرہ، سولہ سالہ لڑکیوں کو مزدوری کے لیے بھیجیں گے۔ فیکٹریوں میں لڑکیوں کے ماہانہ آمدنی مردوں کے مقابلے 60 فیصد کم تھی۔ جب فیکٹری میں نئی مشینوں سے کام لیا جانے لگا تو مالکو ں نے مزدوروں کی تنخواہ اور کم کر دی۔
سیاسی شعور نہ ہونے کی وجہ سے ریاست اور سرمایہ داروں کی پابندیوں نے ٹریڈ یونینز کو نہیں بننے دیا۔ اس وجہ سے مرد اور عورتیں مجبور تھے کہ سرمایہ دار کی شرائط پر کام کریں۔ عورتوں کے لیے ملازمت کرنا اس لیے ضروری تھا کہ وہ معاہدے کی پابند تھیں۔ وہ اپنی آمدنی سے اپنا جہیز تیار کرنا چاہتی تھیں۔ اور دیہات میں اپنے خاندان کے اخراجات کو بھی پورا کرنا چاہتی تھیں۔ فرانس میں تین شہروں میں جہاں عورتوں نے مزدوری کے علاوہ مختلف شعبوں میں کام کیا ہے اس کی تفصیل Barrington Moore Jr کی کتاب Moral Aspects of Economic growth کہ ایک مقالے میں دی ہے۔
اس مقالے میں تین شہروں کا ذکر ہے جن کی صنعت و حرفت میں عورتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ تین شہر پیرس، لیون اور لیو تھے۔ فیکٹری میں کام کے اوقات 12 سے 13 گھنٹے ہوا کرتے تھے۔ بڑی فیکٹریوں میں عورتوں کی رہائش اور کھانے کا انتظام ہوتا تھا۔ نوجوان لڑکیوں کے لیے گھر سے جدائی اور کم آمدنی میں بچت کرنا اور اپنا سارا وقت فیکٹری اور ہاسٹل میں بسر کرنا انتہائی دشوار تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پیرس نہ صرف صنعتی شہر تھا بلکہ یہ صارفین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث تھا۔ اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں کے کاموں میں تبدیلی آتی گئی۔ پیرس میں سب سے پہلے بڑے شاپنگ سینٹرز کی ابتدا ہوئی جہاں ایک ہی عمارت میں ہر قسم کا سامان فروخت ہوتا تھا۔ دکانوں پر سیلز گرلز ہوا کرتی تھیں۔ جن کو گاہکوں سے بات چیت کرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔گورنمنٹ کے دفتروں میں عورتیں استقبالیہ میں اپنے فرائض منصبی ادا کرتی تھیں۔ ڈاک خانوں میں خاص طور سے عورتوں کی اکثریت تھی۔ عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے مرد مزدور خوف زیادہ رہتے تھے کہ کہیں وہ عورتوں کی وجہ سے بےروزگار نہ ہو جائیں۔ جب عورتوں نے ملازمتیں شروع کی تو ان میں یہ اعتماد پیدا ہوا کہ وہ ہر قسم کا کام کر سکتی ہیں۔
پیرس کے مقابلے میں لیون صنعتی شہر تھا۔ یہاں سِلک کے کارخانے تھے۔ ابتدا میں سلک چین سے آیا کرتی تھی لیکن جب سلک کے کیڑوں کو چوری کر کے عیسائی مشنریز اٹلی لائے تو اب سلک بنانے کا کام اٹلی میں شروع ہو گیا۔ سلک کا خام مال اٹلی سے لیون آتا تھا۔ پہلے اس کو گرم پانی میں کئی گھنٹوں رکھا جاتا تھا جہاں مزدور لڑکیاں گھنٹوں پانی میں کھڑے ہو کر اپنے پاؤں سے اسے نرم کرتی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پاؤں کی جلد خراب ہو جایا کرتی تھی۔ اس کے بعد سلک کے دھاگے بنائے جاتے تھے اور دھاگوں سے سلک تیار ہوتی تھی۔ فیکٹری کا اندرونی ماحول تازہ ہوا نہ ہونے کے باعث نمی کے اثر میں رہتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو جایا کرتی تھیں۔ بیمار ہونے کے باعث معاہدے کے تحت وہ اپنی ملازمت پوری نہیں کر پاتی تھیں۔ اس صورت میں یا تو وہ اپنے گھر چلی جایا کرتی تھیں یا مرنے کی صورت میں انہیں وہی کسی قبرستان میں دفن کر دیا جاتا تھا۔
لیو (Leo) شہر کپڑے کی صنعت کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں بھی لڑکیوں کو معاہدے کے تحت لایا جاتا تھا۔ اگرچہ فیکٹریاں تو منافع کما لیتی تھیں مگر شہر کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ علاقہ جہاں مزدور رہا کرتے تھے وہاں نہ گندے پانی کی نکاسی کا انتظام تھا نہ پینے کا صاف پانی میسر تھا۔ ہر طرف کوڑے اور گندگی کے ڈھیر تھے۔ جب ایک سیاہ نے اس محلے کو دیکھا تو اس کا تاثر یہ تھا کہ یہاں مفلسی، بیماری اور گندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
ان تین شہروں کی صنعتی پیداوار سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرمایہ داروں نے اپنے منافع کی خاطر نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو محنت مشقت کے ذریعے دنیاوی مسرتوں سے محروم کر دیا۔ کیا انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان عورتیں اور مرد اس کے لیے اپنی زندگی کو قربان کر دیں۔ ان کی محنت سے جو سرمایہ پیدا ہوتا ہے اس سے اشرافیہ اور حکمراں طبقہ فائدے اٹھاتا ہے اور مظلوم طبقہ اپنی محنت کے باوجود محروم رہتا ہے۔
