ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان نے 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا۔ 2022 میں پاکستان کا سکور 27 تھا اور اس کی درجہ بندی 135ویں تھی۔
آئی ایم ایف کی 2025 کی ‘گورننس اور بدعنوانی کے تشخیصی جائزہ رپورٹ’ کے مطابق پاکستان میں کرپشن ایک مسلسل اور سنگین مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، سرکاری ادارے کمزور پڑتے ہیں اور عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق گورننس کی ان کمزوریوں نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔
عوامی سرویز کے مطابق پاکستان میں بعض شعبوں کو نسبتاً زیادہ کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں پولیس (تقریباً 24 فیصد)، سرکاری ٹھیکے اور خریداری (تقریباً 16 فیصد) اور عدلیہ (تقریباً 14 فیصد) شامل ہیں۔
کرپشن سے مراد اپنے سرکاری عہدے، اختیار یا اثر و رسوخ کو ذاتی فائدے کے لیے ناجائز طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس میں رشوت لینا یا دینا، اقربا پروری، سرکاری فنڈز کا غلط استعمال، ٹھیکوں میں بے ضابطگیاں اور طاقتور افراد کی جانب سے سرکاری وسائل پر ناجائز قبضہ شامل ہے۔
پاکستان میں کرپشن کے اسباب میں کمزور ادارے (جن کی نشاندہی گذشتہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کی)، سیاسی اور غیر سیاسی مداخلت، پیچیدہ قوانین، اقربا پروری، شفافیت کا فقدان اور بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والوں (Whistleblowers) کے لیے مؤثر تحفظ کا نہ ہونا شامل ہیں۔
کرپشن کے نتیجے میں سرکاری وسائل ضائع ہوتے ہیں، ٹیکس وصولی متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے، کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور قومی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
عام شہری کو بعض اوقات اپنا جائز کام کروانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے کیونکہ وہ اضافی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ حکومت اور ادارے انصاف اور شفافیت کے مطابق کام نہیں کر رہے تو ان کا ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔
کرپشن سیاسی عدم استحکام کو بڑھاتی ہے، حکومت پر اعتماد کم کرتی ہے، جمہوری نظام کو کمزور بناتی ہے اور اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کئی اہم اقدامات ضروری ہیں۔
تجاویز
1۔ پاکستان میں رشوت بعض شعبوں میں ایک منظم نظام یا صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بعض اوقات غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ٹھیکے دیے جاتے ہیں اور بدعنوان عناصر ذاتی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ ایسے معاہدوں میں ریاست پاکستان فریق ہوتی ہے، اس لیے بعد ازاں ان کے خلاف کارروائی پیچیدہ ہو جاتی ہے اور بعض معاملات بین الاقوامی ثالثی یا عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں، جیسا کہ ریکوڈک کیس میں دیکھا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2۔ طاقتور افراد اور اہلِ اقتدار بعض اوقات ایسے مفادات کو جنم دیتے ہیں جنہیں قانونی اور انتظامی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ ان مفادات کا خاتمہ مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے قوانین اور ضوابط کو اس انداز میں وضع کیا جانا چاہیے کہ ذاتی مفادات کو عوامی مفاد پر ترجیح نہ دی جا سکے۔
3۔ انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو سیاسی انجینئرنگ کے بجائے حقیقی احتساب کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان اداروں کی خودمختاری اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
4۔ احتساب اور اقتصادی ترقی کو ایک دوسرے کے مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔ احتساب کا عمل شفاف اور منصفانہ ہو، لیکن اسے اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے غیر ضروری تعطل کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
5۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل ہونے والے سرمائے کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین اور نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے۔ غیر قانونی مالی بہاؤ ملکی معیشت کو کمزور کرتے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
6۔ دبئی، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مالی معلومات کے تبادلے اور غیر قانونی دولت کی نشاندہی کے لیے مؤثر قانونی معاہدے کیے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
7۔ ڈیجیٹل اور سائبر کرنسیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر پیشگی قانون سازی ضروری ہے۔ ان ذرائع میں رازداری کا عنصر زیادہ ہونے کی وجہ سے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خطرات موجود ہیں۔
8۔ قانون میں Illegality (غیر قانونی عمل) اور Irregularity (ضابطگی یا طریقہ کار کی خلاف ورزی) کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے۔ انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو صرف ان مقدمات کی تحقیقات کرنی چاہئیں جن میں بددیانتی، مالی فائدہ یا غیر قانونی اقدام کے واضح شواہد موجود ہوں، جبکہ انتظامی بے ضابطگیوں کے معاملات متعلقہ محکموں کو واپس بھیجے جائیں۔
9۔ رشوت ستانی معاشرے میں گہری جڑیں پکڑ چکی ہے اور بعض حلقوں میں اس کے لیے باقاعدہ نیٹ ورک موجود ہیں۔ اس رجحان کے خاتمے کے لیے سماجی، تعلیمی اور قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
10۔ ماہرینِ سماجیات کے مطابق بدعنوانی اکثر ایسے ماحول میں فروغ پاتی ہے جہاں سینیئر افسران خود اس میں ملوث ہوں یا اس کو برداشت کر رہے ہوں۔ اس لیے ادارہ جاتی سطح پر دیانت داری اور احتساب کی ثقافت کو فروغ دینا ضروری ہے۔
11۔ کرپشن کے خلاف آگاہی، ایمان دار اور پیشہ ور افسران کی تعیناتی، مؤثر نگرانی اور سزا کے یقینی نظام کے ذریعے رشوت کے رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔
12۔ پورے نظام کی اصلاح کے لیے ایک آزاد، بااختیار اور قابلِ اعتماد عدلیہ ناگزیر ہے جس پر عوام کو اعتماد ہو اور جہاں انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ ایسی عدلیہ ہی قانون کی بالادستی اور بدعنوانی کے مؤثر خاتمے کی ضمانت بن سکتی ہے۔
مصنف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈی جی ہیں جو آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی رہ چکے ہیں۔ اب وہ کراچی کی ایک لا یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

