پاکستان نے انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی موت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ہفتے کو انڈین ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ قصور کے قریب سرحد پر انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے لدھڑ گاؤں کے تین رہائشی دو پاکستانی شہری جان سے چلے گئے تھے جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا۔
ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ تینوں افراد سرحد کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے پِلر سے چند قدم آگے گئے تو بی ایس ایف نے ’بغیر کسی وارننگ کے ان پر فائرنگ کر دی۔‘
رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ تینوں افراد غیر مسلح تھے، جن کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے کی گئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی دفتر خارجہ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ 2 اکتوبر 2026 کو بین الاقوامی سرحد کے قریب بیدیاں سیکٹر میں پیش آیا، جہاں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جان سے گئے۔
دفتر خارجہ کے مطابق: ’انڈین اہلکاروں نے نہتے شہریوں کے خلاف بلااشتعال مہلک طاقت کا استعمال کیا، جو مکمل طور پر غیر ضروری اور غیر متناسب تھا۔‘
پاکستان نے مرنے والے شہریوں کو ’درانداز‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’واقعے میں انسانی حقوق بالخصوص حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘
پاکستان نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج سے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔‘
ساتھ ہی دفتر خارجہ کے بیان میں انڈیا پر زور دیا گیا کہ وہ ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے، سرحدی معاملات سے متعلق دوطرفہ معاہدوں اور طے شدہ طریقہ کار کی پابندی کرے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔‘
