افغانستان میں امن کی خواہش رکھتے ہیں، طالبان سازگار ماحول پیدا کریں: اسحاق ڈار

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام کی خواہش پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کو نہیں مگر  ’افغانستان میں عدم استحکام اور بدامنی کے نتائج بھی پاکستان سے زیادہ کسی ملک‘ نے نہیں بھگتے۔

اسحاق ڈار نے یہ بات منگل کی شب افغانستان کے بارے میں او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم، خوشحال اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن میں رہنے والے افغانستان کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

تاہم اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے باہمی احترام، اخلاص اور طالبان کی جانب سے ضروری سیاسی عزم کا عملی مظاہرہ ضروری ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کی ’سرزمین کو پڑوسی ممالک، بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے طالبان کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ’توقع تھی کہ طالبان افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے دہشت گردی کا خاتمہ، سیاسی شمولیت کا فروغ اور شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے، تاہم او آئی سی کے رکن ممالک اور عالمی برادری کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’طالبان اپنی غلط ترجیحات اور ناقص نظریات کے باعث افغانستان کو عالمی برادری میں ضم کرنے اور افغان عوام کی زندگی بہتر بنانے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’او آئی سی کے رکن ممالک، علاقائی شراکت دار اور پڑوسی افغانستان کو عالمی برادری سے جڑنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے طالبان کو سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

طالبان کے لیے او آئی سی کی سفارشات

نائب وزیراعظم نے کہا کہ مسلم دنیا کی اجتماعی آواز کے طور پر او آئی سی افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی رابطہ گروپ کو طالبان پر زور دینا چاہیے کہ:

  • ’دہشت گردی‘ کا جامع اور مخلصانہ طور پر خاتمہ کیا جائے اور ’دہشت گرد گروہوں‘ کی سرپرستی ختم کی جائے۔
  • افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف ’دہشت گرد حملوں‘ کی منصوبہ بندی اور کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
  • افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کی جائے۔
  • منشیات، اسلحے اور انسانی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
  • خواتین اور لڑکیوں پر عائد ایسی تمام پابندیاں ختم کی جائیں جو اسلامی اصولوں اور مسلم معاشرے کے معمولات کے منافی ہیں۔
  • عام افغان شہریوں کی بنیادی آزادیوں سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ افغان عوام پہلے ہی خانہ جنگی اور تنازعات سے بہت متاثر ہو چکے ہیں۔
  • تمام نسلی گروہوں اور اقلیتوں کو شامل کرتے ہوئے سیاسی طور پر جامع طرز حکمرانی اختیار کی جائے۔
  • افغانستان واپس آنے والے افغان شہریوں کی اپنے وطن میں دوبارہ آبادکاری اور انضمام میں سہولت فراہم کی جائے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ 12 اور 13 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی خواتین سے متعلق او آئی سی کی نویں وزارتی کانفرنس نے بھی افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر عائد پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عطیہ دہندگان کو افغانستان کی انسانی امداد اور سماجی و اقتصادی ترقی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب مالی معاونت بھی فراہم کرنا ہوگی۔

اسحاق ڈار نے کابل میں او آئی سی دفتر کی جانب سے کیے جانے والے کام اور افغانستان ہیومینیٹیرین ٹرسٹ فنڈ اور شاہ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے ذریعے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کو سراہا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *