پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی حملے بحری سلامتی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور خطے کے ممالک کے امن اور ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔
جمعے کو بحرین کے مستقل مشن کے زیر اہتمام ’محفوظ سمندر، مشترکہ سکیورٹی۔ بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ‘ کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات کے ’سمندری سکیورٹی اور علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
فروری سے جاری امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث دنیا کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
اور اب ایران کے اتحادی حوثی میون جزیرے اور ذباب تک پیش قدمی کر چکے ہیں، جس سے باب المندب کے گرد ان کی پوزیشن کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے، جو کہ بحیرۂ احمر، نہر سوئز اور بالآخر یورپ تک جانے والا راستہ ہے۔
اگرچہ وہ پوری آبنائے پر کنٹرول نہیں رکھتے لیکن یہاں سے گزرنے والی بحری تجارت کے لیے کہیں بڑا خطرہ پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
عاصم افتخار نے آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں اور عملے پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ’باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سمندری بحران عالمی امن، استحکام، توانائی کی سکیورٹی اور غذائی سکیورٹی کے لیے دور رس نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں۔‘
عاصم افتخار احمد نے کہا: ’پاکستان تجارتی جہازوں اور آبنائے سے گزرنے والے بے گناہ ملاحوں پر حملے کر کے باب المندب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے حوثی ملیشیا کے مذموم عزائم کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان تجارتی جہازوں پر حملوں اور رکاوٹوں پر گہری تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے ’کشیدگی میں فوری کمی، جہازوں اور عملے کے ارکان کی سکیورٹی اور آبنائے سے معمول کی آمدورفت بحال کرنے‘ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری تجارتی راستہ ہے اور وہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے عالمی توانائی اور کھاد کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عاصم افتخار نے زور دیا کہ بحر ہند کے ایک ساحلی ملک اور سمندری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریق کے طور پر، پاکستان ’سمندری حفاظت اور سکیورٹی کو انتہائی اہمیت‘ دیتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ عالمی جہاز رانی کو تنازع اور کشیدگی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ اس کی بجائے اسے عالمی تجارت اور معیشت کا محرک رہنا چاہیے۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت طے پائی۔
انہوں نے سفارتی رابطوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ’سمندر اور خشکی پر جلد حالات معمول پر لانے کی خاطر تمام حل طلب مسائل کے مذاکراتی حل کے لیے‘ کوششیں جاری رکھے گا۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ پاکستان سمندری امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خطے اور اس سے باہر کے امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
