سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی اور زراعت عبدالرحمٰن الفاضلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے سعودی وفد نے گذشتہ ماہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک نے آئندہ دو برس میں پاکستان سے سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر مالیت کی زرعی اور غذائی مصنوعات برآمد کرنے کے ہدف پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ایک نہایت پرجوش اور بڑا ہدف ہے۔
چاول اور سرخ گوشت، جو اس وقت اس تجارت کے دو بڑے اجزا ہیں، گذشتہ سال تقریباً 33 کروڑ ڈالر کے تھے۔ ان میں تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول شامل تھا، جس کی مالیت 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی جبکہ تقریباً 30 ہزار ٹن سرخ گوشت کی برآمدات 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی رہیں۔
اس فرق کو صرف 24 ماہ میں پورا کرنا ایک مشکل ہدف ہے، تاہم مشترکہ اعلامیے میں پراسیس شدہ غذائی اشیا، پھلوں کے مرتکز عرق (کنسنٹریٹس) اور سبز چارے کو بھی ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے، جس سے کامیابی کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کا قیام 2023 میں اس مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا کہ چین، ترکی اور خلیجی ممالک سمیت دوست ممالک سے زراعت، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔ اس کا مقصد وفاقی حکومت، دفاعی اداروں اور صوبوں کو ایک مربوط نظام کے تحت یکجا کرنا تھا تاکہ سرمایہ کاری میں سہولت دی جا سکے۔
آئی ٹی کے شعبے میں ایس آئی ایف سی کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے، تاہم کارپوریٹ زراعت میں اس کی پیش رفت محدود رہی، جس کی ایک بڑی وجہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے حل طلب تنازعات ہیں۔ اس کے باوجود زراعت سے متعلق دیگر شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ان میں سب سے امید افزا شعبہ مویشی پالنا ہے۔ چند برس قبل جنوبی پنجاب میں ایک وسیع رقبہ بیف کے جانور پالنے کے لیے مختص کیا گیا، جہاں برازیل، امریکہ اور آسٹریلیا سے درآمد شدہ نسلوں پر جدید افزائشی طریقوں کے ذریعے کام کیا گیا۔ تربیت یافتہ عملے نے حوصلہ افزا نتائج حاصل کیے ہیں۔
بلوچستان اس سے بھی زیادہ موزوں ہے، خاص طور پر بکرے اور بھیڑ کے گوشت (مٹن) کی پیداوار اور بہتر نسلوں کی افزائش کے لیے، جنہیں خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو برآمد کیا جا سکتا ہے۔ صوبے میں تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ انسانی آبادی کے مقابلے میں تقریباً 4 کروڑ 80 لاکھ مویشی موجود ہیں، جن میں ایک کروڑ 90 لاکھ بھیڑیں اور 2 کروڑ 30 لاکھ بکریاں شامل ہیں۔ یہ ملک میں چھوٹے مویشیوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔
اگر مویشی پالنے والوں کو مراعات دی جائیں اور انہیں جانوروں کی نگہداشت کی تربیت فراہم کی جائے تو بلوچستان میں مٹن کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جس سے پاکستان کے سرخ گوشت کے برآمدی ذخیرے میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح چترال اور سوات جیسے نسبتاً سرد علاقوں میں بیف فارم قائم کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کیونکہ وہاں کے معتدل موسم گرما اور سرد موسم سرما درآمد شدہ نسلوں کے لیے موزوں ہیں۔
پاکستان کو چاروں موسموں اور متنوع جغرافیے کی نعمت حاصل ہے، جس کے باعث یہاں استوائی اور نیم استوائی دونوں اقسام کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر شمالی علاقوں میں بڑی مقدار میں پھل مناسب منڈیوں تک رسائی نہ ہونے اور نقل و حمل کی مشکلات کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیب، ناشپاتی، خوبانی اور آڑو جیسے پھل عالمی معیار کے ہیں۔ مقامی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے گلگت اور سکردو کے قریب دو کیننگ فیکٹریاں قائم کی گئی ہیں۔ یہ نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش ثابت ہوں گی بلکہ مقامی سطح پر روزگار پیدا کریں گی اور باغبانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کریں گی۔
خلیجی ممالک ان مصنوعات کے لیے ایک اہم منڈی ہیں، اور جیسے جیسے ڈبہ بند پھلوں کی برآمدات بڑھیں گی ویسے ویسے ایسی فیکٹریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔
پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں آم، ترشاوہ پھل اور کیلے بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ آم کا گودا اور ترشاوہ پھلوں کے مرتکز عرق برآمد کیے جا سکتے ہیں اور چونکہ ان میں ویلیو ایڈیشن شامل ہوتا ہے اس لیے ان کی قیمت بھی زیادہ ملتی ہے۔
ڈبہ بند پھل، پھلوں کا گودا اور کنسنٹریٹس چاول اور سرخ گوشت جیسی روایتی برآمدات کی تکمیل کر سکتے ہیں، جو اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ چاول کی برآمدات کو غیر معینہ مدت تک نہیں بڑھایا جا سکتا، کیوں کہ یہ پانی زیادہ استعمال کرنے والی فصل ہے۔
پاکستان میں پانی صوبائی سطح پر ایک حساس مسئلہ ہے۔ 2018 کی قومی آبی پالیسی بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ اس کے ساتھ 2030 تک زرعی پانی کے استعمال کی کارکردگی میں 33 فیصد بہتری کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے ڈرپ اریگیشن، بیڈ پلانٹنگ اور پوری زمین کو پانی سے بھرنے کے بجائے چھوٹی نالیوں کے ذریعے آبپاشی جیسے طریقوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، حالانکہ فی الحال سیلابی آبپاشی ہی سب سے عام طریقہ ہے۔
زرعی برآمدات سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کو زرعی تحقیق اور کم لاگت آبپاشی کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
پراسیس شدہ غذائی مصنوعات بھی ایک امید افزا شعبہ ہیں، جن میں جام، جیلی، اچار، ساس، مصالحے اور نوڈلز شامل ہیں۔ سعودی صارفین کی بلند قوت خرید کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب ان مصنوعات کے لیے ایک بڑی منڈی ہے۔
ایس آئی ایف سی بھکر، خوشاب اور میانوالی اضلاع میں سبز چارے کی پیداوار میں بھی سہولت فراہم کر رہی ہے، جہاں الفالفا (لوسرن) جیسی فصل متعارف کرwائی گئی ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتی ہے اور نسبتاً کم پانی استعمال کرتی ہے۔ ان فارموں سے پیدا ہونے والا چارہ سعودی عرب بھیجا جانا ہے، جہاں مویشیوں اور ڈیری فارمز کی بڑی تعداد موجود ہے۔
خوراک کا تحفظ قومی سلامتی کا ایک بنیادی جزو ہے جبکہ پاکستان کی اپنی آبادی کا ایک حصہ بھی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ برآمدی آمدنی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیکن صرف اس صورت میں جب اسے موثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
اگر اس تجارت سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کا نصف حصہ بھی دوبارہ مویشی پروری، غذائی فصلوں، پھلوں کو محفوظ بنانے اور بہتر آبپاشی پر خرچ کیا جائے تو گذشتہ ماہ اسلام آباد میں طے پانے والا ہدف نہ صرف حاصل کرنے کے قابل ہوگا بلکہ اس سے پاکستان کا زرعی شعبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جائے گا، اور یہ شراکت داری دونوں ممالک کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت ہوگی۔
جاوید حفیظ پاکستان کے سابق سفارت کار ہیں اور مشرق وسطیٰ کے امور پر وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ پاکستانی اور خلیجی اخبارات میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں اور دفاعی و سیاسی امور کے تجزیہ کار کے طور پر سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر باقاعدگی سے اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔
