وہ کریڈٹ سکور جو آپ کا گھر تک پیچھا کرتا ہے

حکومت کے کیش لیس اقدام کے جائزے کے اعداد و شمار کے مطابق اب پاکستانی جو رقم وطن بھیجتے ہیں اس کا 92 فیصد ڈیجیٹل طریقے سے پہنچتا ہے۔ اس میں سے تقریباً کچھ بھی بینکوں میں نہیں ٹھہرتا: مالی سال 2020 میں بینکاری نظام میں ہر 100 رقوم نکالنے کے مقابلے میں 16 جمع کرنے والی تھیں اور مالی سال 2025 تک یہ تعداد نو سے بھی کم رہ گئی۔ رقم ایک ایسے نظام کے ذریعے آتی ہے جو اس کا ریکارڈ رکھتا ہے تاہم وہ اسی دن نکال لی جاتی ہے۔

ایک ایسا گھرانہ ہے جس سے میں کبھی نہیں ملی۔ اس کے باوجود میں اس کے پورے مہینے کی تصویر کشی کر سکتی ہوں، کیونکہ یہ رحجان ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار میں لاکھوں مرتبہ درج ہے۔ گوجرانوالہ کی ایک خاتون برسوں سے ان کی چلائی دکان کو ضمانت بنا کر قرض نہیں لے سکتیں، حالانکہ ان کے شوہر، آئیے انہیں ندیم کہہ لیتے ہیں، گذشتہ 11 برس سے ہر ماہ خلیجی ملک سے گھر رقم بھیجتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ماہ بھی ناغہ نہیں کیا۔ یہ 132 ترسیلات بنتی ہیں، پہلے سعودی عرب سے اور پھر متحدہ عرب امارات سے اور ہر ایک کا ریکارڈ دونوں طرف موجود ہے۔ لیکن ایک پاکستانی بینک کے نزدیک یہ دونوں اجنبی ہیں۔

عام تصور یہ ہے کہ پاکستانی بینک بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم کو تسلیم نہیں کرتے۔ نہیں وہ کرتے ہیں۔ گاڑی کی فنانسنگ میں کئی بینک ترسیلاتِ زر کو باقاعدہ آمدن کے ثبوت کے طور پر قبول کرتے ہیں بشرطیکہ خاندان کے کسی فرد کے اکاؤنٹ میں لگاتار کئی ماہ تک رقوم آتی رہی ہوں۔ حبیب میٹرو تنخواہ دار اور کاروباری صارفین کے لیے ماہانہ قسط کو خالص آمدن کے 40 فیصد تک محدود رکھتا ہے جبکہ ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والوں کے لیے یہ حد 75 فیصد ہے، یعنی بیرون ملک سے آنے والی رقم کو مقامی تنخواہ سے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ہوم فنانسنگ پراڈکٹ میں کم از کم آمدن کی کوئی شرط بھی نہیں۔ یہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی مصنوعات ہیں، جن میں قرض لینے والا بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوتا ہے اور پاکستان میں موجود رشتہ دار شریک درخواست گزار ہوتا ہے۔ یہاں 11 برس کی ترسیلاتِ زر آمدن شمار ہوتی ہیں۔ یہ آپ کو ایک گاڑی خریدنے کے قابل بنا سکتی ہیں۔

اب ضمانت کو ہٹا دیجیے۔ ایک غیر ضمانتی ذاتی قرض کے لیے شائع شدہ شرائط کے مطابق تنخواہ دار افراد کے لیے کم از کم تنخواہ اور دیگر سب کے لیے اکاؤنٹ میں کم از کم بیلنس ضروری ہوتا ہے۔ ترسیلاتِ زر ان شرائط میں شامل ہی نہیں۔ وہی آمدن جس کی بنیاد پر اس گھرانے کو کار لون مل سکتا تھا، یہاں سرے سے نظر ہی نہیں آتی۔

چنانچہ اس خاتون کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ جب بینک اکاؤنٹ کو دیکھے تو اس میں رقم موجود ہے یا نہیں، اور ان کے اکاؤنٹ میں کبھی رقم نہیں ٹھہرتی۔ رقم فوراً نکال لینا ایک عقل مندانہ فیصلہ ہے جہاں نقد رقم ہر جگہ چلتی ہو اور اکاؤنٹ میں بیلنس رکھنے سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ ویسے بیلنس کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے: کسی رشتہ دار سے رقم ادھار لیجیے، ایک ماہ اکاؤنٹ میں رکھیے، پھر قرض کی درخواست دے دیجیے۔ لیکن کسی دستاویزی غیر ملکی آجر کی جانب سے مسلسل 132 ترسیلات کا بندوبست نہیں کیا جا سکتا۔ ثبوت پر کوئی سوال نہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ آیا قبضے میں لینے کے لیے کوئی چیز موجود ہے یا نہیں۔

یہ ہی آپ کو اصل رکاوٹ بتاتا ہے اور وہ معلومات کی کمی نہیں ہے۔ لاہور میں بیٹھا ایک بینکر اس آمدن کو بخوبی دیکھ سکتا ہے؛ وہ یہ ہی ثبوت استعمال کرتے ہوئے کار لون جاری کرتا آیا ہے۔ جو چیز وہ نہیں دیکھ سکتا وہ یہ ہے کہ اگر قرض واپس نہ آئے تو اپنی رقم کس طرح حاصل کرے۔ کمانے والا شخص 1900 کلومیٹر دور ہے، خاندان کے نام پر کاغذی طور پر کوئی اثاثہ نہیں اور ایک چھوٹے قرض کی وصولی کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پر جتنا خرچ آئے گا، اس سے کم رقم واپس ملے گی۔ وہ قرض دینے سے انکار کر دیتا ہے، اور اس کا یہ فیصلہ غیر معقول نہیں۔

سٹیٹ بینک کے قواعد میں کہیں بھی اس فیصلے کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے موجودہ قواعد پہلے ہی بینکوں کو دو صورتوں میں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو روپے میں قرض دینے کی اجازت دیتے ہیں: ایک، اگر ان کے اکاؤنٹ میں رقوم موجود ہوں؛ دوسرا، گھر خریدنے کے لیے۔ دونوں صورتوں میں قرض ضمانت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس خاندان اور ایک غیر ضمانتی قرض کے درمیان جو چیز حائل نظر آتی ہے وہ ریگولیشن نہیں بلکہ پروڈکٹ پالیسی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بینک اگلی سہ ماہی میں بغیر کسی سے اجازت لیے اسے تبدیل کر سکتا ہے۔

اس کے لیے زیادہ نئی چیزیں ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 2024 سے پاکستان کا فوری ادائیگیوں کا نظام عرب مانیٹری فنڈ کے سرحد پار پلیٹ فارم ‘بُنا’ سے منسلک ہے، اور پاکستانی روپے کو تصفیے کی کرنسی کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک سے رقم چند سیکنڈ میں ایک نامزد اکاؤنٹ میں پہنچ جاتی ہے، ایسے نظام پر جسے دونوں ممالک کے ریگولیٹرز دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس پر ابھی بہت کم تعمیر کیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بنیاد پر جو چیز ممکن ہے وہ بالکل عام سی ہے۔ ہر ترسیل کا ایک حصہ اکاؤنٹ میں رہنے دیا جائے، اسے قرض کے بدلے گروی رکھا جائے اور یہ رقم بتدریج جمع ہوتی رہے۔ اس طرح بیلنس کا سوال بھی حل ہو جاتا ہے اور یہ ہی رقم بینک کی سکیورٹی بھی بن جاتی ہے۔ قرض کی قسط اگلی ترسیل آتے ہی اس میں سے کاٹ لی جائے، اس کے بجائے کہ رقم خرچ ہو جانے کے بعد اس کے پیچھے بھاگا جائے۔ شوہر کا نام بیوی کے ساتھ شامل ہو، جو اگرچہ پاکستانی بینک کو بیرون ملک کوئی اختیار نہیں دیتا، مگر دونوں کے لیے ایک ایسا کریڈٹ ریکارڈ ضرور بناتا ہے جسے وہ محفوظ رکھنا چاہیں گے۔ ابتدا چھوٹے قرض سے کی جائے اور ادائیگیاں ہوتی رہیں تو قرض کی حد بڑھا دی جائے۔

یہ بھی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ بینک پہلے ہی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جمع شدہ رقوم پر حقِ ضبط (lien) لگاتے ہیں اور میعاد پوری ہونے تک اسے برقرار رکھتے ہیں۔ وہ پہلے ہی ترسیلاتِ زر کے مسلسل سلسلے کو آمدن کا ثبوت تسلیم کرتے ہیں۔ ان تمام اجزا پر برسوں سے عمل ہو رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ سب ابھی ایک گاڑی کے ساتھ منسلک ہیں۔

واضح کمزوری یہ ہے کہ اگر ندیم کی نوکری ختم ہو جائے تو ترسیلات رک جائیں گی، گروی رکھی گئی رقم کم ہوگی اور سارا نظام ایک ساتھ ناکام ہو جائے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایسے قرض چھوٹے اور مختصر مدت کے ہونے چاہییں، اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ ماڈل ان خاندانوں کے لیے موزوں ہے جن کے پاس کچھ مالی گنجائش ہو، نہ کہ ان کے لیے جو ایک ترسیل سے دوسری ترسیل تک بمشکل گزارا کرتے ہیں۔ دعویٰ یہ نہیں کہ ترسیلِ زر کسی کو لازماً قرض کے قابل بنا دیتی ہے۔ دعویٰ صرف یہ ہے کہ 11 برس کی مسلسل ترسیلات کا کچھ نہ کچھ وزن ضرور ہونا چاہیے۔

اس موسمِ گرما تک اس معاملے پر توجہ دینے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ ترسیلاتِ زر پر سبسڈی دی جاتی تھی اور وہ ہر حال میں آتی تھیں۔ یکم جولائی کو ترسیلات کے اخراجات کی سبسڈی ختم کر دی گئی اور یہ لاگت بینکوں پر منتقل ہو گئی، جو گذشتہ سال 76 ارب روپے تھی اور اس سال 85 سے 90 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ اداروں کو یہ رقم کہیں اور سے پوری کرنا ہوگی۔ اب بینکاری صنعت پر ایک بڑی سالانہ لاگت ایسے صارفین کی وجہ سے آ گئی ہے جن سے انہیں قرضے کے کاروبار کی صورت میں کوئی اضافی فائدہ نہیں ملتا۔

پیش رفت کا رخ بھی متعین ہو چکا ہے۔ 18 اگست کو سٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے بینکوں کو ہدایت دی کہ غیر رسمی آمدن کا اندازہ منظور شدہ متبادل ماڈلز کے ذریعے لگایا جائے، اور ایسے افراد کے لیے ایک معیاری فارم متعارف کرایا جائے جن کی آمدن تنخواہ کی سلپ کے بغیر ہوتی ہے۔ اصول تسلیم کیا جا چکا ہے: روایتی دستاویزات کے بغیر بھی قرض واپس کرنے کی صلاحیت ثابت کی جا سکتی ہے۔ فی الحال یہ اصول صرف ایسے قرضے تک محدود ہے جو مکان کی ضمانت پر دیا جاتا ہے۔ اسے ایسے قرض تک پھیلانا جس کے پیچھے کوئی ضمانت نہ ہو، اتنا بڑا قدم نہیں جتنا بظاہر لگتا ہے، اور سٹیٹ بینک کے اپنے سینڈ باکس میں ایک آزمائشی منصوبہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا یہ اشارہ واقعی قابلِ اعتماد ہے یا نہیں۔

ہر سرکاری پیمانے کے مطابق ندیم کی بیوی پہلے ہی مالیاتی نظام میں شامل شمار ہوتی ہیں۔ ان کے پاس بینک اکاؤنٹ ہے اور ہر ماہ ایک منظم بینکنگ نظام کے ذریعے اس میں رقم آتی ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی برسوں سے چلائی جانے والی دکان کے بدلے قرض نہیں لے سکتیں۔ ندیم 11 برس سے، مجموعی طور پر 132 مرتبہ، ایک ایسے چینل کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہیں جسے نظام بخوبی دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اس میں سے کچھ بھی ایسی صورت میں درج نہیں کیا گیا جسے وہ استعمال کر سکیں۔

مہرین درانی پالیسی اور ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی ایک آزاد پیشہ ور ماہرِ ہیں، جو ڈیجیٹل تبدیلی اور تزویراتی شراکت داریوں کے ذریعے ادارہ جاتی اور معاشی اثرات پیدا کرنے پر توجہ دیتی ہیں۔

یہ تحریر جو عرب نیوز میں پہلے شائع ہوچکی ہے ان کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *