پشاور ویلی ریل منصوبہ: قریبی اضلاع کو جوڑنے کی کوشش

خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی وزارت ریلوے نے گذشتہ ہفتے ایک ریلوے منصوبے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پشاور کو قریبی اضلاع سمیت ملک کے دیگر شہروں کے ساتھ ریل کے ذریعے جوڑا جائے گا اور خیبر پختونخوا میں انفراسٹرکچر کی بحالی پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ  خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط کیے۔

منصوبہ کون سے شہروں کو جوڑے گا؟

پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان صوبے میں ریلوے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک کو جدید بنانے سمیت نئے سٹریٹیجک ریلوے رابطوں، بہتر سفری سہولیات اور علاقائی کنیکٹیویٹی کے بڑے منصوبے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریباً 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جن میں پشاور، نوشہرہ، جہانگیرہ روڈ، نوشہرہ، مردان، درگئی، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، ناصرپور (چمکنی)، جمرود اور جمرود، لنڈی کوتل کے اہم روٹس شامل ہیں۔

اسی فریم ورک کے تحت کوہاٹ سے تھل کے راستے خرلاچی تک تقریباً 192 کلومیٹر نئی سٹریٹیجک ریلوے لائن کی ترقی بھی شامل ہے، جو پاکستان کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا سے جوڑنے اور ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے کوریڈور کے تحت علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ ریلوے سٹیشنز کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے ساتھ مسافروں کے لیے سہولیات اور سروسز کو بھی بہتر بنایا جائے گا، جب کہ صوبے میں موجود 81 غیر محفوظ ریلوے پھاٹکوں کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا مشترکہ اقدامات کریں گے۔

یہ معاہدہ صرف ریلوے لائنوں اور اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں ایک زیادہ مربوط، محفوظ اور جدید ریلوے نظام قائم کرنے اور پاکستان کو وسطی ایشیا تک وسیع تر ریلوے رابطے سے جوڑنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے پر عمل درآمد سے صوبے میں ریلوے کی توسیع اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’پشاور ویلی ریلوے کے آئندہ مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کے درمیان ریلوے رابطہ شامل کیا جائے گا، جبکہ مردان، چارسدہ اور پشاور، طورخم ریلوے روابط کو بھی منصوبے کے آئندہ مراحل میں شامل کیا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ پشاور کی آبادی بڑھ گئی ہے اور بس ریپڈ ٹرانزٹ کے علاوہ ہمیں ٹرین کی بھی ضرورت ہے جس سے ریلوے روابط میں بہتری سے صوبے میں تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ ملے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’خیبرپختونخوا میں بعض معاملات وفاقی حکومت سے متعلق ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان شعبوں کو مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ امید ہے کہ ریلوے کے ان منصوبوں کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔‘

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے بتایا کہ یہ ایک منفرد منصوبہ ہے جس کے دیرپا نتائج سامنے آئیں گے اور دیگر صوبوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدے کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ریلوے ایسا نیٹ ورک ہے جو تمام صوبوں کو جوڑتا ہے۔ عوامی فلاح حدود و قیود سے بالاتر ہے۔ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بھرپور تعاون یقینی بنائیں گے اور تیز رفتاری سے آگے بڑھیں گے۔‘

معاہدے کے اہم نکات کیا ہیں؟

وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری معاہدے کے نکات کے مطابق وفاقی ریلوے بنیادی ڈھانچہ استعمال کرنے کی سہولت کے ساتھ تکنیکی تعاون بھی فراہم کرے گا اور خیبرپختونخوا میں مختلف ریلوے منصوبوں کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت تاریخی ریلوے سٹیشنز کی بحالی اور تزئین و آرائش کرے گی اور رواں اے ڈی پی میں اس مقصد کے لیے 50 کروڑ روپے مختص ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی موجودہ ریلوے سہولیات کو صوبے میں سب اربن ریلوے سروس کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق نوشہرہ، جہانگیرہ ریلوے روٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا اور اس روٹ کی فزیبلٹی کے لیے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ 30 اگست تک ایوارڈ کر دیا جائے گا اور نوشہرہ، مردان اور درگئی ریلوے رابطے کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے نیا ریلوے منصوبہ شروع کیے جانے کی صورت میں خیبرپختونخوا حکومت انتظامی تعاون کرے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *