امریکہ نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا

امریکہ نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے طویل عرصے بعد نکال دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ادارے روئٹرز کے مطابق شام 1979 سے اس فہرست میں شامل تھا، جب واشنگٹن نے سابق صدر حافظ الاسد کی حکومت پر مسلح گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ حیثیت ان کے بیٹے بشار الاسد کے دورِ حکومت میں بھی برقرار رہی، جنہیں دسمبر 2024 میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے مطابق کہ شام کو پابندیوں میں ریلیف فراہم کیا جائے گا، امریکی محکمۂ خارجہ نے آج شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست کے طور پر حاصل حیثیت ختم کر دی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’النصرہ فرنٹ، جسے ہیئت تحریر الشام بھی کہا جاتا ہے، کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد (SDGT) تنظیم کے طور پر حاصل حیثیت بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

’اسی دوران امریکی محکمۂ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے بھی حیۃ تحریر الشام کو خصوصی طور پر نامزد شہریوں اور بلاک شدہ افراد کی فہرست (SDN List) سے خارج کر دیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’محکمۂ خزانہ صدر ٹرمپ کے اس وعدے کو پورا کر رہا ہے کہ شامی عوام کو عظمت حاصل کرنے کا ایک موقع دیا جائے۔ آج کا اقدام شام میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد دے گا، جس سے سیاسی اور اقتصادی استحکام کو فروغ ملے گا۔‘

دوسری جانب شام کے صدر احمد الشرع نے شامی عوام کو مبارک باد دی ہے۔

شام کے صدر احمد الشرع نے ایکس پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں شامی عوام کو شام کا نام باضابطہ طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکالے جانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس تاریخی فیصلے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، اور ان تمام برادر ممالک اور دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو شام اور شامی عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *