ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کو ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات ختم کردیں، بصورتِ دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم محکمۂ خزانہ نے فوری طور پر کوئی نئی سزائیں یا جرمانے عائد نہیں کیے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے منگل کو کہا کہ امریکہ ایران کے دنیا بھر میں موجود مالیاتی روابط کے خلاف ’اقتصادی یلغار‘ شروع کر رہا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ کن مخصوص ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا یا یہ پابندیاں کب نافذ ہوں گی۔
محکمۂ خزانہ نے 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا، تاہم اس فہرست میں چین کے ان مالیاتی اداروں میں سے کوئی شامل نہیں تھا جن پر ایران کی تیل کی تجارت میں سہولت کاری کا شبہ ہے۔
بیسنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میں عالمی مالیاتی نظام کو کیوں تباہ کرنا چاہوں گا؟ ہمارا خیال ہے کہ لوگوں کو صورتِ حال واضح کرنے اور اصلاح کے لیے مہلت دینا ضروری ہے، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کارروائی بہت تیزی سے آگے بڑھے گی اور ہم سنجیدہ ہیں۔‘
چین کئی برسوں سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے، اور واشنگٹن نے چینی خریداریوں کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں، تاہم اب تک چینی بینکوں کو پابندیوں کا نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا ہے۔
جب بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا محکمۂ خزانہ اب کسی چینی بینک کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، تو انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ لین دین میں سہولت فراہم کرتے ہیں اور اس نظام کا حصہ ہیں جو ایرانی تیل کو پیسے میں اور پھر جبر کے لیے استعمال ہونے والے وسائل میں تبدیل کرتا ہے، تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔‘
ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ستمبر کے آخر میں واشنگٹن میں ملاقات بھی متوقع ہے۔ ایسے میں چینی بینکوں پر نئی پابندیاں گذشتہ نومبر میں طے پانے والے اس معاہدے میں توسیع کے امکانات کو متاثر کرسکتی ہیں، جس کے تحت چینی نایاب معدنیات کی فراہمی جاری رکھنے اور امریکی محصولات کو محدود رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔
منگل کی کارروائی میں چین، متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور کئی دیگر ممالک کے کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فرانس کی ایک کوکنگ آئل ریفائنری بھی شامل ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ایرانی معیشت کے پانچ شعبوں میں ان تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھا رہا ہے جو ثانوی پابندیوں کی زد میں آسکتی ہیں۔ ان شعبوں میں ڈیجیٹل اثاثے، سونا، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ انہوں نے رواں ہفتے کے اختتام تک ایک مالیاتی ادارے پر پابندیوں کے حوالے سے ’ایک بڑے اعلان‘ کی پیشگی اطلاع دی ہے، تاہم محکمۂ خزانہ کے ترجمان نے مزید معلومات کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
کئی دہائیوں سے پابندیاں
امریکہ کئی دہائیوں سے ایران پر پابندیاں عائد کرتا آیا ہے، جن میں سے زیادہ تر کا مقصد ملک کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا، ہتھیاروں کے پرزوں کے حصول کو روکنا اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ کنٹرول کاروباری اداروں کی مالی معاونت ختم کرنا رہا ہے۔
پابندیوں کے تحت نامزد اداروں کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے خارج کردیا جاتا ہے، تاہم ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے تیزی سے نئی فرنٹ کمپنیوں، دیگر اداروں اور بحری جہازوں کی نئی رجسٹریشنز قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
محکمۂ خزانہ نے حال ہی میں ایرانی تیل خریدنے والی آزاد چینی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں اور ایرانی تیل منتقل کرنے والے ’شیڈو فلیٹ‘ کے ٹینکروں کے خلاف پابندیوں میں بھی توسیع کی ہے۔
تہران کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی نے ملک کو شدید اقتصادی نقصان پہنچایا ہے۔
روئٹرز نے جمعہ کو رپورٹ کیا تھا کہ اس صورتِ حال کے باعث چین کی جانب سے ایرانی خام تیل خریدنے کی پیشکشیں پہلے ہی کم ہوگئی ہیں، جس سے چین پر ثانوی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کم ہوسکتے ہیں۔
محکمۂ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، ٹرمپ کے 2025 میں دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد سے امریکہ نے ایران سے متعلق 1,000 سے زیادہ افراد، بحری جہازوں اور طیاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
حالیہ اقدامات میں ایران کے شیڈو آئل فلیٹ، شپنگ انشورنس کمپنیوں، ہتھیاروں کی خریداری کے نیٹ ورک اور ڈیجیٹل ایکسچینجز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اندازاً 500 ارب ڈالر مالیت کی ایران سے منسلک کرپٹو کرنسی منجمد کی گئی ہے۔
بیسنٹ نے ایران کے بینک ملی کو خاص طور پر نشانہ بنایا، جو اب بھی یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں اپنی شاخیں چلا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بینک ملی کی ہر شاخ کو بند اور مکمل طور پر غیر فعال ہونا چاہیے۔‘
