بلوچستان کے مسئلے پر نوجوان سے لے کر بزرگ تک ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے لیکن مجموعی طور پر کسی نہ کسی طرح سے موجودہ صوبائی حکومت کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں گذشتہ دنوں اپنی نوعیت کا پہلا باہمی ڈائیلاگ نما ورکشاپ بلوچستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کتنی اہم ہے اور اس کے کیا مثبت نتائج نکلنے کے امکانات ہیں، اس پر بات کرنا کیوں ضروری ہے۔
اس چار روزہ ورکشاپ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سیاسی اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد سیاسی قائدین، عمائدین پر مشتمل ایک ملٹی سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کی شکل دیکھنے کو ملی، جس میں صوبے کے حالات پر بات کرنے، اسے سمجھنے اور مستقبل کے حل کے حوالے سے بریفنگز دی گئیں اور شرکا نے اپنی اپنی آرا پیش کی۔ دنیا میں کسی بھی بگڑتی ہوئی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ گراس روٹ کے لوگوں سے وقتاً فوقتاً اس طرح کے ڈسکورس اور ڈائیلاگ کیے جائیں۔ اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں نیک نیتی اور خلوص شامل ہو۔
اس نوعیت کے مذاکرات کب کب ہوئے؟
بلوچستان میں جاری تنازعے میں شدت سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کا صدر پرویز مشرف کے دور میں قتل سے آئی۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بلوچستان کسی کو سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس دوران حالات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے، مگر ایک نئی لہر اور شدت اُس وقت دیکھنے میں آئی جب 2020 میں کراچی یونیورسٹی میں چینی ٹیچرز کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ ہوا، اور اب مرد و خواتین کے اس طرح کے حملے بھی معمول بنتے جا رہے ہیں۔
صدر پرویز مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ہوئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نواب صاحب بھی اس حوالے سے آمادہ تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ جہاز انہیں لینے کے لیے آ رہا ہے، مگر جہاز نہیں آیا۔ تاہم، دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2005 میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ باقاعدہ سیاسی مذاکرات کی ایک اہم کوشش بھی ہوئی۔ اس عمل میں چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے نواب اکبر بگٹی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ایک سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کی۔ اس عمل کے تحت سُوئی اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان راستہ کھولنے اور بعض چیک پوسٹیں ختم کرنے جیسے اقدامات بھی زیرِ غور آئے، تاہم یہ مذاکرات پائیدار سیاسی حل تک نہ پہنچ سکے۔
اس کے بعد ایک اور اہم کوشش اُس وقت ہوئی جب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان تھے۔ انہیں بلوچستان کے ناراض اور بیرونِ ملک موجود رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس حوالے سے ان کی حکومت نے براہمداغ بگٹی سمیت بیرونِ ملک موجود بلوچ رہنماؤں سے رابطے کیے۔ 2014-15 کے دوران یہ رابطے اور مذاکرات آگے بڑھے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی قیادت میں ایک وفد نے لندن میں بعض بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
تاہم براہمداغ بگٹی کا مؤقف کہ ڈاکٹر مالک کے پاس اتھارٹی نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ مذاکرات بھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
اس پس منظر میں موجودہ نوعیت کا ملٹی سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ اس لیے اہم ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر مختلف مکاتبِ فکر، سیاسی حلقوں، مقامی سٹیک ہولڈرز اور ریاستی اداروں کے درمیان براہِ راست بات چیت کی کوشش ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ سامنے آئی ہے۔ ماضی کی کوششوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ صرف مذاکرات کا آغاز کافی نہیں۔ مذاکرات میں شامل فریقین کو بااختیار ہونا، ایک دوسرے پر اعتماد پیدا کرنا اور بات چیت کو کسی قابلِ عمل سیاسی عمل میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک ایسے وقت میں اس نوعیت کے ڈائیلاگ کا آغاز کیا ہے جب بلوچستان کی قوم پرست اور سیاسی قیادت بھی چاہتی ہے کہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے ڈائیلاگ ضروری ہے۔ تاہم المیہ یہ رہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے ہمیشہ چند ایسے لوگوں کی رائے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے جنہیں وہاں کے عوام کا کوئی اعتماد حاصل نہیں تھا اور نہ ہی وہ اسلام آباد کے لوگوں کے سامنے زمینی حقائق پیش کرتے تھے بلکہ وہ ہمیشہ ’سب ٹھیک ہے‘ کا رخ پیش کرتے رہے۔
بعض لوگوں کے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگ خود نہیں چاہتے کہ یہ مسئلہ حل ہو، کیونکہ وہ خود ان حالات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملٹری لیڈرشپ کو بلوچستان کے مسئلے کا صحیح ادراک ہونے لگا ہے اور فیلڈ مارشل بلوچستان کے مسئلے پر کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک تنوع گروپ تھا، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ ماسوائے چند لوگوں کے بلوچستان کے پیچیدہ پس منظر میں یہ کتنے کریڈیبل ہیں۔
امید ہے کہ اگلا ڈائیلاگ مزید وسیع ہوگا اور تمام سیاسی جماعتوں کی بااعتماد آوازوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ آغاز اچھا ہے۔ سوال یہ بھی تاہم ہے کہ ان میں کتنے لوگ اس طرح کے بامقصد ڈائیلاگ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟
بلوچستان میں متبادل سوچ کے لوگ کون ہیں؟
اس وقت بلوچستان کا مسئلہ ایک ہی نوعیت یا ایک ہی سیاسی بیانیے تک محدود نہیں بلکہ یہاں مختلف ’سکولز آف تھاٹ‘ موجود ہیں۔ ایک گروپ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو بلوچستان کی علیحدگی کی بات کرتے ہیں۔ اس سوچ سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ صوبے کا مسئلہ پاکستان کے موجودہ وفاقی ڈھانچے کے اندر حل نہیں ہوسکتا۔ علیحدگی کی یہ تحریک اور اس کا بیانیہ مختلف ادوار میں مختلف شدت اور شکلوں کے ساتھ سامنے آتا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسرا گروپ ان سیاسی قوتوں اور حلقوں کا ہے جو پاکستان کی وفاقی ساخت کے اندر رہتے ہوئے بلوچستان کا مقدمہ لڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ سیاسی، معاشی اور انتظامی حقوق، ترقی کے مساوی مواقع، فیصلہ سازی میں مؤثر شمولیت، اور صوبے کے وسائل کی منصفانہ بنیادوں پر تقسیم ہے۔ یہ حلقے بلوچستان میں ووٹ کے حق، جمہوری عمل، انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو بھی اپنے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔
تیسرا حلقہ نسبتاً سخت گیر اور متبادل سیاسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے وابستہ افراد بلوچستان کے موجودہ معروضی حالات، بالخصوص انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور مسنگ پرسنز کے مسئلے کو انتہائی سخت اور دوٹوک انداز میں اٹھاتے ہیں۔ ماضی میں ان کی مختلف عوامی تحریکوں اور احتجاجی کالز پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ، خصوصاً نوجوان اور خواتین، متحرک ہوتے رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہیکہ کہ وہ بھی پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات اور مسائل کو اجاگر کرنے کا ہے، تاہم ان کا سیاسی لہجہ نسبتاً سخت، تلخ اور ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقیدی نوعیت کا ہے۔
اس طرح کے فورمز میں کسے شامل ہونا چاہیے؟
بلوچستان جیسے صوبے کےقوم پرستانہ پہلو کے تنازع کو سمجھنا تھوڑا مشکل اور پیچیدہ ہے، اس لحاظ سے کہ اس کے ایک سے زائد پہلو ہیں۔ یہ خوش آئند ضرور ہے کہ ملکی قیادت بلوچستان کے بارے میں سوچ رہی ہے، مگر اس میں یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ موجودہ صورت حال میں کن کن آوازوں کو مدعو کرنا چاہیے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تنوع سیاسی لحاظ سے تھا، مگر اس کو مزید وسیع کرنا چاہیے۔ مختلف مکاتبِ فکر، جیسا کہ سیاسی، قبائلی، علما، طلبا، نوجوان، صحافی اور پروفیشنلز، ایک کثیرالجہتی ڈائیلاگ میں شامل ہوں کیونکہ یہ اپنے اپنے حلقۂ احباب میں اس طرح کے ڈائیلاگ کا دفاع کرتے ہیں، رائے عامہ بناتے ہیں اور عوام کے ساتھ زیادہ روابط رکھتے ہیں۔
ایسے ’باٹم اپ اپروچ‘ ڈائیلاگ کے شرکا ایسے طبقے سے ہونے چاہییں جو بلوچ اور پشتون معاشرے میں اپنی اہمیت اور وزن رکھتے ہوں، نہ کہ ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے۔ گو کہ کچھ تلخ رائے بھی سامنے آسکتی ہے، مگر جو رائے تلخ ہو، اگر اسے سنا جائے تو یہ حقائق سے مطابقت بھی رکھتی ہو سکتی ہے اور فیڈریشن اور ملک کے دائمی مفادات میں بھی ہوسکتی ہے، بجائے اس کے کہ صرف خوش کن رائے کو اہمیت دی جائے۔
یہ بات طے ہے کہ اس وقت بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے مستقبل قریب میں امکانات نظر نہیں آرہے ہیں، مگر کچھ ایسے طبقے ہیں جو بندوق اٹھائے بغیر سیاسی، معاشی، جمہوری اور رول آف لا کے حوالے سے اختلافی رائے رکھتے ہیں۔ ان کا لب و لہجہ سخت ہے، مگر ان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ جو قوم پرست ہیں، ان کے بغیر بلوچستان کے مسئلے کا کوئی دور رس نتیجہ نہیں نکلے گا۔
بتایا جا رہا کہ جب ڈاکٹر مالک بلوچ کو مائیک دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں سنانے نہیں بلکہ سننے آیا ہوں۔‘ بہرحال، انہیں بولنا چاہیے تھا اپنا کیونکہ وہ بہتر رائے دے سکتے تھے اور اس وقت ان کی رائے کو ایک لیول پر وزن سے سنا بھی جاتا ہے، بے شک وہ اپنی تجاویز اور رائے سخت رکھتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ڈاکٹر مالک بلوچ اور سردار اختر جان مینگل کی جماعتوں کا اس طرح کے ڈائیلاگ میں بھرپور کردار ہونا چاہیے۔ یہ جماعتیں کئی بار اپنے اپنے جماعتی بیانیے کو گلی کوچوں تک پہنچاتی رہی ہیں۔ اب تنازعے کی وجہ سے ان کی موجودگی کم ہے، مگر ان کی اب بھی ایک معنی اور اہمیت ہے۔
بلوچستان کی موجودہ برسرِ اقتدار حکومت کو بھی اس پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ اس کے سیاسی طرزِ عمل سے مختلف طبقات کس حد تک نالاں ہیں۔ اس سے سیاسی رہنماؤں سے لے کر طلبا، وکلا اور سرکاری ملازمین تک میں ناراضی پائی جاتی ہے۔ چند ماہ پہلے اسی حکومت نے سرکاری ملازمین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا، مجرم کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ امن و امان کی صورت حال بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات کو مزید شدت دینے کے بجائے سیاسی مکالمے، رواداری اور باہمی مشاورت کے ذریعے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔
بلوچستان میں مزید اس طرح کے ’آبجیکٹیو‘ ڈائیلاگ ناگزیر ہیں۔ شاید محض اس سے تنازع خاتم نہ ہو، مگر ایک حد تک اس کی سیاسی شدت میں کمی آسکتی ہے اور ایک وقتی امن و استحکام آسکتا ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ کا مقصد ابتدا میں تمام اختلافات ختم کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا پہلا مقصد بات چیت کا مستقل چینل، اعتماد سازی اور رائے ہموار کر کہ مذاکراتی فریم ورک بنانا ہوتا ہے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے۔
اعتماد سازی کے لیے یہ ایک بہترین شروعات ہے۔ اس کو باہمی مشاورت سے زیادہ متحرک و منظم انداز میں آرگنائز کرنے کی ضرورت ہے۔
