بالی وڈ کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ اس سال جون میں ریلیز ہوئی۔ یہ کہانی سرگودھا سے نقل مکانی کرنے والے ایک سکھ نوجوان کے گرد گھومتی ہے جسے اپنی مسلم کلاس فیلو سے عشق ہو جاتا ہے لیکن بات شادی کی نوبت تک پہنچتی ہی نہیں کہ تقسیم ہو جاتی ہے۔
سکھوں کا یہ لٹا پٹا خاندان ٹرین پر سوار ہو کر انڈیا چلا جاتا ہے۔ سکھ لڑکا نہیں جانا چاہتا مگر اسے خاندان والے زبردستی لے جاتے ہیں۔ جاتے وقت سبھی یہ ہی سمجھتے ہیں کہ حالات سنبھل جائیں گے اور وہ واپس آ جائیں گے۔
یہ فلم ان تمام فلموں جیسی ہی ہے جن میں پنجاب میں تقسیم کے وقت کے فسادات میں جنم لیتی کہانیاں دکھائی گئی ہیں۔ یہ کہانیاں پنجاب کا نوحہ بیان کرتی ہیں جن میں تقسیم ہند سے زیادہ تقسیم پنجاب کا دکھ جھلکتا ہے۔ پنجاب کے کئی بڑے شہر ایسے تھے، جو پاکستان کا حصہ بننے جا رہے تھے مگر وہاں غیر مسلم اکثریت میں تھے۔
تین جون کو تقسیم کے منصوبے کا اعلان ہوتا ہے تو ان لمحوں میں موجودہ پاکستان کے علاقوں میں غیر مسلم آبادی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوتی ہے۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتی کہ تقسیم اگر ہوتی بھی ہے تو انہیں اپنے گھر بار کیوں چھوڑنا پڑیں گے۔
لیکن پھر فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے لکیر کھینچتے وقت یہ بھی طے کر لیا جاتا ہے کہ ادھر کے غیر مسلم ادھر چلے جائیں گے اور ادھر کے مسلمان ادھر آ جائیں گے۔ یہ سب کچھ رضاکارانہ تو نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ ناممکن کام فسادات نے کر دکھایا لیکن ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو اِدھر سےاُدھر کرنے کے لیے کم و بیش 20 لاکھ لوگوں کو اپنی جانیں قربان کرنا پڑیں۔
یہ تاریخِ انسانی کے ہولناک واقعات میں سے ایک ہے جس کے عینی شاہدین ہماری نسل کے باپ دادا ہیں۔ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ گرداس پور میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن اسے انڈیا کو دے دیا گیا لیکن یہ نہیں جانتے کہ موجودہ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے بھی تھے جہاں غیر مسلم اکثریت میں تھے لیکن یہ علاقے پاکستان کو مل گئے۔
کیونکہ دونوں طرف جو لکیر کھینچی جا رہی تھی اس میں یہ تو دیکھا جا رہا تھا کہ مسلمان اکثریت والے علاقے پاکستان کے پاس جائیں اور غیر مسلم اکثریت والے علاقے انڈیا کے حصے میں آئیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جا رہا تھا کہ سرحدیں کہیں گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔
وہ مخمصہ جس کی وجہ سے پنجاب اور بنگال کو تقسیم کیا گیا
قرار دادِ لاہور میں یہ بتایا گیا تھا کہ مجوزہ پاکستان میں شمال مغربی اور مشرقی علاقے شامل ہوں گے۔ اس میں صوبوں کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی یہ بتایا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہے ان کا کیا بنے گا۔
لیکن 8 نومبر 1945 کو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جغرافیائی حیثیت سے پاکستان جن صوبوں پر مشتمل ہوگا ان میں بلوچستان، صوبہ سرحد، سارا پنجاب، سارا بنگال اور آسام کا صوبہ شامل ہوں گے۔ اس وقت ان صوبوں میں مسلمان اور غیر مسلمان آبادی کا تناسب مندرجہ ذیل تھا:
ان صوبوں میں مسلمان اکثریت میں تو تھے لیکن اس میں بڑی تعداد ہندوؤں اور سکھوں کی بھی تھی۔ مثال کے طور پر قائداعظم اس وقت جن صوبوں پر مشتمل پاکستان کا مطالبہ کر رہے تھے ان میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد تھی۔ وہاں پر ہندو اور سکھوں کی مجموعی آبادی کو ملایا جائے تو یہ تقریباً پونے چار کروڑ بن جاتی تھی۔ یعنی جن علاقوں پر مشتمل پاکستان کا مطالبہ پیش کیا جا رہا تھا وہاں مسلمانوں کی آبادی غیر مسلموں کے مقابلے میں صرف 75 لاکھ زیادہ تھی۔
یہی وہ وجہ تھی کہ انگریزوں نے قیام پاکستان کو ممکن بنانے کے لیے پنجاب اور بنگال کو تقسیم کرنے کے بارے میں فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے بہتر سمجھا کہ جن ضلعوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انہیں پاکستان میں شامل کر دیا جائے اور جن ضلعوں میں غیر مسلم اکثریت میں ہیں، انہیں انڈیا میں شامل کر دیا جائے۔
مدراس، یو پی، بہار، سی پی، آسام، اڑیسہ، اجمیر، مارواڑا اور دہلی وغیرہ میں ہندو غالب اکثریت میں تھے جبکہ سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد وغیرہ میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ اب مسئلہ بنگال اور پنجاب کا تھا جہاں مسلمانوں اور ہندوؤں کی آبادی تقریباً برابر تھی، صرف دو چار فیصد کا فرق تھا۔
وہ شہر جہاں آبادی کے فارمولے کو نظر انداز کیا گیا
کلدیپ نائیر نے ایک بار سر ریڈ کلف کا انٹرویو کیا تو ان سے پوچھا کہ ’لاہور رنجیت سنگھ کے دور سے سکھوں کا مرکز تھا، آبادی اور جائیداد کے حوالے سے بھی لاہور سکھوں کا دارالحکومت تھا، آپ نے یہ پاکستان کو کیوں دے دیا؟‘
جس پر سر ریڈ کلف نے جواب دیا کہ ’میں لاہور انڈیا کو دینے ہی والا تھا کہ پھر مجھے خیال آیا کہ پاکستان کے پاس تو کوئی بڑا شہر ہی نہیں ہو گا کیونکہ میں پہلے ہی کلکتہ انڈیا کو دے چکا تھا۔‘
شاید ریڈ کلف نے یہ جواب بذلہ سنجی میں دے دیا ہو کیونکہ تقسیم جس فارمولے پر کی جا رہی تھی اس میں کلکتہ میں مسلمان کل آبادی کا صرف 23.59 فیصد تھے جبکہ لاہور شہر اور ضلع دونوں میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ اگرچہ شہر کی تجارتی، سیاسی اور سماجی زندگی پر غیر مسلموں کی اجارہ داری تھی۔ لاہور شہر میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 65 فیصد تھی اور پورے ضلع میں وہ آبادی کا 60.62 فیصد تھے، تاہم پنجاب کے تین بڑے شہر لائل پور (موجودہ فیصل آباد)، سرگودھا اور راولپنڈی ایسے شہر تھے جہاں غیر مسلم اکثریت میں تھے۔
راولپنڈی میں وہ کل آبادی کا 56.21 فیصد، لائل پور میں 67 اور سرگودھا میں بھی 67 فیصد تھے۔ پنجاب کے دوسرے بڑے شہروں گوجرانوالہ اور ملتان میں فرق اگرچہ معمولی تھا تاہم مسلمان اکثریت میں تھے۔ مثلاً ملتان شہر میں مسلمان 57.16 فیصد اور گوجرانوالہ میں وہ کل آبادی کا 54.30 فیصد تھے، لیکن اگر ان اضلاع کی مجموعی آبادی کی بات کی جائے تو مسلمانوں کی آبادی تقریباً دو تہائی تک جا پہنچتی ہے۔
گورداس پور کی صورت حال خاصی مختلف تھی۔ اگرچہ یہاں مسلمانوں کی آبادی غیر مسلموں سے صرف ایک فیصد زیادہ تھی، لیکن گورداس پور تحصیل میں مسلمانوں کی آبادی 52.16 فیصد، بٹالہ میں55.07 فیصد اور شکر گڑھ میں 51.32 فیصد تھی۔
صرف پٹھان کوٹ میں مسلمان اقلیت میں تھے جہاں وہ کل آبادی کا 38.89 فیصد تھے مگر یہاں صرف شکر گڑھ کو پاکستان میں شامل کیا گیا اور باقی تینوں تحصیلیں انڈیا کو دے دی گئیں۔ جس کے بارے میں آج تک یہ ہی کہا جاتا ہے کہ انڈیا کو کشمیر تک رسائی دینے کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔
جالندھر، فیروزپور، زیرا اور نکوڈر تحصیلوں میں بھی مسلمان اکثریت میں تھے لیکن یہ تحصیلیں بھی انڈیا کے حصے میں آئیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرتے وقت مواصلات اور نہری نظام کو بھی ایک فیکٹر کے طور پر دیکھا گیا تھا اور اگر یہ علاقے پاکستان کو دے دیے جاتے تو پھر کافی گنجلک مسائل پیدا ہو جاتے۔
تقسیم کے نتیجے میں ہندوستان زیادہ مضبوط ہو کر کیوں ابھرا؟
تقسیم سے پہلے برطانوی ہند کی باج گزار ریاستوں کی تعداد 560 کے قریب تھی، جن کا مجموعی رقبہ ہندوستان کے کل رقبے کا 45 فیصد اور آبادی مجموعی آبادی کا 24 فیصد تھی۔ ان ریاستوں میں 15 ریاستیں ایسی تھیں جن کا رقبہ 10,000 مربع میل سے زیادہ تھا جبکہ 202 ریاستیں ایسی تھیں جو 10 مربع میل سے بھی چھوٹی تھیں۔
تقسیم کے وقت برطانوی ہند جس پر انگریزوں کی براہ راست عمل داری تھی، کا رقبہ 865,446 مربع میل تھا جبکہ تقسیم کے بعد ریاستوں اور راجواڑوں کے ادغام کے بعد انڈیا کا رقبہ بڑھ کر 1,221,072 مربع میل ہو گیا یعنی یہ برطانوی ہند سے بھی 355,626 مربع میل زیادہ تھا۔
اور اگر فیصد میں دیکھا جائے تو آزادی کے بعد کا انڈیا پہلے والے متحدہ ہندوستان سے 41 فیصد بڑھ گیا تھا۔
1941 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی مجموعی آبادی تقریباً پونے 39 کروڑ تھی، جس میں سے نیم خود مختار ریاستوں کی آبادی ساڑھے نو کروڑ کے لگ بھگ تھی، جن میں مسلمانوں کی آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ تھی۔
اس وقت بہت سے مسلمان بھی قیام پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تقسیم کے نتیجے میں ہندوستانی مسلمان کمزور ہو جائے گا جبکہ ہندوستان، برطانوی ہند سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئے گا۔ کشمیر، بہاولپور، قلات، خیر پور، لسبیلہ اور سوات جیسی ریاستوں کے سوا جہاں مسلمان اکثریت میں تھے باقی سب ریاستیں ہندوستان کو مل جانی تھیں۔
اگرچہ بعد میں انڈیا نے کشمیر پر بھی قبضہ کر لیا اور مسلم اکثریت والی ایک بڑی ریاست پاکستان کو نہ مل سکی۔ یوں بہت سے ناقدین کہتے ہیں کہ اس وقت کی سیاسی قیادت نے یہ اہم پہلو کیوں نظر انداز کیے تھے جن کا خمیازہ سرحد کے اس طرف کے مسلمانوں اور اس طرف کے غیر مسلموں نے بھگتا۔ جو جاتے ہوئے کہتے تھے کہ ’میں واپس آؤں گا‘ لیکن ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آ سکا۔
یہ المیہ اتنا گہرا ہے کہ آج 79 سال گزر چکے ہیں لیکن اس کا درد کم نہیں ہوتا۔
