امریکی اقدامات ’اقتصادی دہشت گردی‘ اور عالمی معیشت کے لیے خطرہ: ایران

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف ’غیر معمولی معاشی کارروائی‘ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

عراقچی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی‘ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے ایران کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے والے ممالک اور کاروباری اداروں کو بھی سنگین معاشی نتائج سے خبردار کیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایسی ’ناکام پالیسیاں‘ ایرانی عوام میں مزید مخالفت پیدا کریں گی اور امریکہ کو مزید ناکامیوں کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے امریکی اقدامات کو ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی معیشت اور دنیا بھر میں ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ تہران کو ’دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی مربوط معاشی تنہائی‘ کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی۔

ٹرمپ کے اعلان اور بیسنٹ کی ثانوی پابندیوں کی دھمکی کے بعد ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تہران کے اقتصادی تعلقات بھی امریکی دباؤ کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق چین، متحدہ عرب امارات، ترکی، عراق، پاکستان اور انڈیا سمیت کئی ممالک ایران کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔

چین سب سے زیادہ دباؤ میں

چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے۔ 2025 میں چین نے ایران سے اوسطاً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا جبکہ ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ تیل کی منزل چین رہی۔ ٹرمپ کے اعلان پر عمل درآمد کی صورت میں بیجنگ کو اضافی امریکی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلہ حل نہیں کریں گے اور تمام فریقوں کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات کرنے چاہییں۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات ایران کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں شامل رہا ہے اور 2024 میں ایران کی درآمدات کا تقریباً 30 فیصد، یعنی 21 ارب ڈالر مالیت کا سامان، یو اے ای سے آیا۔

تاہم اس خلیجی ریاست نے رواں ہفتے ایران کے ساتھ تمام مالی اور اقتصادی لین دین غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی اور عراق بھی اہم تجارتی شراکت دار

ترکی اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً پانچ سے چھ ارب ڈالر ہے۔ ترکی ایران سے قدرتی گیس درآمد کرتا ہے جبکہ تیار شدہ اشیا ایران کو برآمد کرتا ہے۔

عراق کے ساتھ ایران کی تجارت 2025 میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ ایران عراق کو خوراک، صارفین کی اشیا اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے، جبکہ توانائی بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کا اہم حصہ ہے۔ عراق ایران کو قدرتی گیس کی مد میں سالانہ تقریباً 4  سے 5 ارب ڈالر ادا کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا امکان

ایران کے ساتھ تجارت یا معاونت کرنے والے ممالک کے خلاف امریکی کارروائی پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اسلام آباد اور تہران نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں ملکوں کے درمیان غیر رسمی تجارت کا حجم تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ ایران اور پاکستان کئی برس سے تیل، گندم، چاول، مویشیوں اور ادویات کی تجارت کرتے رہے ہیں۔

انڈیا کی ایران کے ساتھ تجارت میں کمی

انڈیا اور ایران کے درمیان تجارت میں گذشتہ برسوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔ انڈیا کی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 1.63 ارب ڈالر رہی۔

انڈیا نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنے توانائی کے ذرائع متنوع بنانے کی کوشش کی ہے اور اپریل کے وسط میں ایران سے تقریباً 2 لاکھ 76 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا۔

روس اور دیگر ممالک

روس بھی ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ 2025 کے پہلے 10 ماہ میں ایران کی روس کو درآمدات تقریباً 93 کروڑ ڈالر جبکہ روس سے ایران کی درآمدات 1.36 ارب ڈالر رہیں۔

جرمنی، سری لنکا، جاپان اور فلپائن بھی ایران کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، تاہم ان کا تجارتی حجم چین، امارات، ترکی اور عراق کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

معاشی دباؤ سے فوجی کارروائی کا امکان کم، بیسنٹ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کی صورت میں امریکہ کے دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا امکان کم ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ اندازہ موجودہ صورت حال تک محدود ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *